پروفیسر علی سخن ور آزاد علم، انتظام اور ادب کا روشن استعار
پروفیسر علی سخن ور آزاد علم، انتظام اور ادب کا روشن استعار
تحریر :اظہار عباسی
گورنمنٹ علمدار گریجوایٹ کالج کے قابلِ احترام پرنسپل، پروفیسر علی سخن ور آزاد، اپنے
شاندار تعلیمی سفر کو باضابطہ طور پر مکمل کرتے ہوئے ریٹائر ہو گئے اُن کی رخصتی محض ایک استاد یا منتظم کے سبکدوش ہونے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد کا اختتام ہے جو تدریس، نظم و نسق اور اردو ادب کے فروغ سے عبارت تھا۔ اُن کی شخصیت نے کالج کے ماحول، طلبہ کی سوچ، اور تعلیمی ترقی کے معیار پر جو خوشگوار اثرات چھوڑے، وہ آنے والے برسوں تک مثال کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
پروفیسر علی سخن ور آزاد نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز ایمان، خلوص اور محنت کی بنیاد پر کیا۔ کلاس روم میں ان کا اندازِ تدریس ہمیشہ دلکش، واضح اور طالب علم فہمی پر مبنی رہا۔ انہوں نے محض نصاب تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور فکری بلندی کا درس بھی دیا۔
طلبہ کو تحقیق، مطالعہ اور معاشرتی شعور کی طرف راغب کرنا اُن کی تدریس کا مرکزی نقطہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد آج مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں اور پروفیسر صاحب کو اپنی کامیابیوں کا اصل محرک قرار دیتے ہیں۔
بطور پرنسپل، پروفیسر علی سخن ور آزاد نے ادارے کی انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنایا۔ نظم و ضبط، میرٹ پر مبنی فیصلے، اساتذہ کے مسائل کا حل اور کالج کے انفراسٹرکچر کی بہتری اُن کے دور کے نمایاں اقدامات رہے۔
ان کی قیادت میں کالج نے
جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی
کوالٹی ایجوکیشن کے لیے مؤثر پالیسی سازی
طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت
جیسے اہم اہداف حاصل کیے۔ اُن کی انتظامی بصیرت نے صرف ادارے کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ اس کے وقار میں بھی اضافہ کیا۔
پروفیسر علی سخن ور آزاد کا نام اردو ادب کے حوالے سے بھی احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کی علمی دلچسپی، مطالعہ کی وسعت اور ادبی ذوق نے انہیں ایک ممتاز ادبی شخصیت کے طور پر پہچان دیا۔
انہوں نے نہ صرف ادبی تقریبات کو فروغ دیا بلکہ نوجوان لکھنے والوں کی بھرپور رہنمائی کی۔ ان کے تنقیدی مضامین، تحقیقی کام اور ادبی مباحث میں ڈھلا ہوا انداز اردو دانی اور فکر کی گہرائی کا بہترین نمونہ ہے۔
پروفیسر صاحب کی حسنِ اخلاق، نرم گوئی، شرافت اور سادگی نے اُنہیں ساتھی اساتذہ، طلبہ اور معاشرے میں مقبول بنایا۔
وہ اپنے عمل اور کردار سے ہمیشہ یہ ثابت کرتے رہے کہ ایک استاد صرف کتابوں کا نہیں بلکہ اپنی زندگی کا بھی نمونہ پیش کرتا ہے۔
ان کی گفتگو میں دانش، بات میں وزن اور فیصلوں میں توازن پایا جاتا تھا—جو انہیں ایک باوقار رہنما بناتا ہے۔
اگرچہ وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہے ہیں، مگر ان کا علمی و ادبی سفر اب بھی جاری رہے گا۔ تعلیمی اصلاحات، ادبی رہنمائی اور سماجی خدمات کے میدان میں ان کا کردار مستقبل میں بھی ایک چراغِ راہ رہے گا۔
پروفیسر علی سخن ور آزاد کی ریٹائرمنٹ ایک ایسے دور کا خاتمہ ہے جس نے بے شمار ذہنوں کو روشنی عطا کی۔ ان کی تدریسی خدمات، انتظامی اہلیت اور ادبی وابستگی ہمیشہ ادارے اور معاشرے کے لیے مثال رہیں گی۔
ہم ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کے لیے صحت، خوشحالی اور مزید کامیابیوں کی دعا کرتے ہیں۔




































Visit Today : 76
Visit Yesterday : 538
This Month : 15640
This Year : 15640
Total Visit : 120628
Hits Today : 170
Total Hits : 485713
Who's Online : 6























