ملتان(صفدربخاری سے) امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان صہیب عمار صدیقی نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اجتماعِ عام کے موقع پر ”بدل دو نظام“ تحریک کا آغاز کر کے ملک میں ایک نئے فکری,سیاسی اور عملی سفر کی بنیاد رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کا بنیادی نکتہ نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں اختیار دینا اور انہیں قومی نظام کا فعال اور مضبوط حصہ بنانا ہے، کیونکہ نوجوانوں ہی کے ذریعے اس ملک میں حقیقی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام ایک مخصوص اشرافیہ کے قبضے میں ہے جو برسوں سے قومی وسائل پر قابض ہے۔ جب تک عوام خصوصاً نوجوانوں کو با اختیار نہیں کیا جاتا، ملک کے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر خواجہ عاصم ریاض سیکرٹری جنرل ملتان، حافظ محمد اسلم نائب امیر ضلع، خواجہ صغیر احمد نائب امیر ضلع، چوہدری محمد امین امیر زون غربی، اطہر عزیز ایڈوکیٹ صدر آئی ایل ایم جنوبی پنجاب اور رفیع رضا ایڈووکیٹ صدر آئی ایل ایم ملتان بھی موجود تھے صہیب عمار صدیقی نے کہا کہ اسی تسلسل میں پنجاب حکومت کا منظور کردہ موجودہ بلدیاتی ایکٹ عوام دشمن اور غیر نمائندہ قانون ہے، جو مقامی اختیارات کو بیوروکریسی کی گرفت میں دے کر عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کر دیتا ہے۔ انہوں نے اس ایکٹ کو مکمل طور پر غیر مو ¿ثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی ادارے اسی وقت فعال ہو سکتے ہیں جب اختیارات براہ راست عوام کے منتخب نمائندوں تک منتقل ہوں، اور مقامی سربراہان چیئرمین ،وائس چیئرمین، یوتھ کونسلر ، اقلیتوں کی سیٹ کا انتخاب بھی براہ راست ووٹ کے ذریعے کیا جائے۔ اسی طرح ضلعی مقامی حکومتوں کو بحال کیا جائے۔غیر جماعتی انتخابات، بیوروکریسی کا بے جا اختیار اور عوامی نمائندوں کو محدود کرنا مقامی سطح پر خدمت کے پورے تصور کو تباہ کر دیتا ہے۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ واضح ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور عوام کو فیصلہ سازی کا حقیقی حق دیا جائے ملتان کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں ٹریفک مسائل اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ نوجوانوں اور طالب علموں پر ایف آئی آرز کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بے تحاشا جرمانوں نے ملازم پیشہ طبقے کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ چنگچی رکشوں پر پابندی کی بجائے پہلے مناسب متبادل کا انتظام کیا جائے اور ایسی قانون سازی سے باز رہا جائے جس سے عام عوام مزید معاشی مشکلات کا شکار ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ قانون کی پابندی ضروری ہے مگر ریاست کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جس میں قانون کی پابندی آسان ہو اور ایسے فیصلے نہیں ہونے چاہئیں جو شہریوں پر بوجھ بن کر ان کی زندگی مزید مشکل بنا دیں انہوں نے کہا کہ ملتان میں گزشتہ ایک ماہ سے ڈینگی کی صورتحال بے قابو ہے، مگر حکومتی سطح پر کوئی حکمت عملی، آگاہی مہم یا بروقت اسپرے نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی حکومتیں با اختیار ہوتیں تو ایسے مسائل فوری طور پر حل ہو سکتے تھے۔ نوجوانوں کو با اختیار بنایا جائے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو اختیارات دیے جائیں تو شہر کے بنیادی مسائل آسانی سے حل ہو سکتے ہیں اور انتظامی بہتری فوری طور پر نظر آ سکتی ہے آخر میں صہیب عمار صدیقی نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کو ”بدل دو نظام“ تحریک کا ہراول دستہ سمجھتی ہے۔ نوجوان ہی اس ملک کی اصل قوت ہیں اور جب انہیں فیصلہ سازی کا حق ملے گا، یہ وطن بہتر سمت میں آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں شفاف، منصفانہ اور با اختیار مقامی حکومت کا نظام چاہتی ہے، تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں اور ریاستی اختیار حقیقی معنوں میں عوام تک منتقل ہو۔