تین دسمبر معذور افراد کی صلاحیتوں کا اعتراف اور ہماری سماجی ذمہ داری
تین دسمبر معذور افراد کی صلاحیتوں کا اعتراف اور ہماری سماجی ذمہ داری
تحریر: ایس پیرزادہ
ہر سال تین دسمبر پوری دنیا میں عالمی یومِ معذور افراد کے طور پر منایا جاتا
ہے اس دن کا مقصد محض ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ یہ احساس اُجاگر کرنا ہے کہ معذوری کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جسے مناسب سہولیات مواقع اور احترام فراہم کر کے معاشرے کا فعال اور مضبوط حصہ بنایا جا سکتا ہے ان افراد کی جسمانی یا ذہنی معذوری کے باوجود اُن کی قابلیت ہنر حوصلہ اور صلاحیتیں کسی بھی دوسرے فرد سے کم نہیں ہوتیں آج دنیا بھر میں یہ سوچ مضبوط ہو رہی ہے کہ معذور افراد کو ترس نہیں برابر کے حقوق باوقار زندگی اور مساوی مواقع چاہئیں جدید تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ایسے لوگ نہ صرف اپنی زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں بلکہ کئی شعبوں میں غیرمعمولی کارکردگی دکھا کر معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کسی بھی ملک کے لیے اصل سرمایہ اُس کے لوگ ہوتے ہیں اور معذور افراد بھی اسی قیمتی سرمائے کا حصہ ہیں
پاکستان میں لاکھوں افراد معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جو تعلیم روزگار صحت رسائی اور معاشرتی قبولیت کی راہ میں بے شمار رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں اُن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ معذوری نہیں بلکہ معاشرے کا رویہ ہے عمارتوں میں ریمپ کا نہ ہونا تعلیم تک محدود رسائی روزگار میں امتیاز ٹرانسپورٹ میں مشکلات اور اداروں کی محدود پالیسی یہ سب مل کر اُن کی زندگی کو مشکل بناتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تین دسمبر کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انہیں مدد کی بھیک نہیں بلکہ حقدار شہری سمجھ کر بنیادی سہولتیں دینا ہماری ذمہ داری ہے
معذور افراد میں بے شمار صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں کوئی آرٹس میں ماہر ہے کوئی ٹیکنالوجی میں کوئی کھیلوں میں کوئی ادب میں اور کوئی سائنس میں دنیا کے بڑے محققین کھلاڑی مصنفین سیاستدان اور انوویٹرز معذوری کے باوجود دنیا پر اثر چھوڑ گئے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل معذوری جسم میں نہیں سوچ میں ہوتی ہے معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم جب تک انہیں برابر کا شہری سمجھ کر اپنے اداروں دفاتر اسکولوں ٹرانسپورٹ اور پالیسیوں میں شامل نہیں کریں گے تب تک ہم ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتے ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں تعلیم صحت بے روزگاری الاؤنس اسکل ٹریننگ اور محفوظ ماحول تک مکمل رسائی دی جائے ایسے قوانین پر سختی سے عمل ہو جو انہیں بھرتی میں کوٹا قابل رسائی انفراسٹرکچر اور معاشرتی تحفظ فراہم کرتے ہیں بطور معاشرہ ہمیں یہ سوچ ختم کرنا ہو گی کہ معذوری کسی فرد کی شناخت ہے شناخت اس کی محنت ہمت انسانی وقار اور کامیابی ہوتی ہے اگر ہم اپنی سوچ بدل لیں تو یہ افراد نہ صرف خود کامیاب ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے مثال بھی قائم کرتے ہیں
تین دسمبر کا پیغام صرف یہی نہیں کہ ہم اُنہیں یاد کریں بلکہ یہ کہ پورے سال ان کے ساتھ کھڑے رہیں ان کی مدد کریں ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں کوئی بھی فرد خود کو کمتر نہ سمجھے
اصل ترقی وہ ہے جب معاشرے کا سب سے کمزور فرد بھی مضبوط محسوس کرے اور اُس کی عزتِ نفس سلامت رہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں یہ احساس پیدا کرے کہ ہم معذور افراد کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنا سکیں ان کے لیے مواقع کی دنیا کھول سکیں اور انہیں وہ مقام دے سکیں جس کے وہ حق دار ہیں




































Visit Today : 308
Visit Yesterday : 634
This Month : 15706
This Year : 63542
Total Visit : 168530
Hits Today : 5713
Total Hits : 870879
Who's Online : 4




















