جناب طارق محمود قریشی صاحب کی سوانح عمری

جناب طارق محمود قریشی صاحب کی سوانح عمری
(تحریر ندیم مشتاق سولنگی بیورو چیف پاکستان آبزرور ملتان)
ایڈیٹر ماہنامہ تمہید، ترجمان و کوآرڈینیٹر جرنلسٹس گروپ آف ملتان پریس کلب، چیف ایگزیکٹو ملتان میڈیا سینٹر، چیئرمین ینگ لیگ پاکستان، بانی پرنسپل یونین کیمبرج سکول اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بیسٹو سروسز اینڈ بیسٹو ایپ جناب طارق محمود قریشی بہترین مقرر اور لکھاری ہیں۔ مدلل اور ٹھنڈی گفتار سے لوگوں کے دل موہ لیا کرتے ہیں۔ ان سے ملنے والے افراد ان کی خندہ پیشانی اور اخلاق کے معترف رہتے ہیں۔ دوستوں اور مخلوق خدا کی خدمت میں مصروف رہنا ان کا بنیادی وصف ہے۔ آپ کو ملتان کے بہترین سیاسی رپورٹروں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ آجکل آپ کالم نگاری بھی کرتے ہیں۔ آپ ملتان میں پیدا ہوئے آپ ملتان کے معروف تعلیمی معمار اور 1965 میں ملتان کا پہلا پرائیویٹ
ایوننگ یونین کالج قائم کرنے والے بانی پرنسپل جناب رفیق احمد ساغر قریشی کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ آپ کے دو بھائی اور ایک بہن ہے۔ والدین اور ایک بھائی عامر محمود قریشی اللہ کے پاس
واپس جاچکے ہیں۔ آپ نے پرائمری تعلیم اپنے والد کے پرائیویٹ یونین جونیئر ماڈل پرائمری سکول ملتان سے حاصل کی جو 1972 میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنلائڑڈ ہونے کے بعد سرکاری سکول بن گیا تھا اور آجکل ٹی شیر خان ملتان میں قائم ہے۔ ایلیمنٹری کلاسز کی تعلیم آپ نے گورنمنٹ ایم اے جناح ہائی سکول ملتان سے اس وقت حاصل کی جب یہ ادارہ جضوری باغ روڈ پر ڈریم لینڈ سینما کے سامنے قائم تھا۔ اب یہ ادارہ قاسم پور کے قریب قائم ہے۔ آپ نے جنوری 1981 میں تعلیمی بورڈ ملتان سے میٹرک کا امتحان یونین کالج کے پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت سے پاس کیا بعد ازاں آپ نے ملتان بورڈ سے ایف اے، زکریا یونیورسٹی سے گریجویشن، ملتان بورڈ
سے سی ٹی اور پنجاب ٹیکنیکل بورڈ سے الیکٹریکل ڈپلومہ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم اے پولیٹیکل سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے سماجی، تعلیمی اور صحافتی شعبوں میں متعدد ریفریشر کورس بھی کئے۔ آپ نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے لیے ابتدا میں اپنے والد کی طرح تعلیمی شعبے کو ہی چنا۔ چنانچہ آپ والد کے انتقال کے بعد اوائل 1981 میں اپنے وراثتی یونین کالج ملتان کے آفس انچارج بنے اور دفتری امور نبھائے۔ ساتھ میں آپ پرائیویٹ ٹیوٹر کے طور پر گھر گھر جاکر ٹیوشن دینے کا کام بھی کرتے رہے۔ دن کے اوقات میں کچھ سال آپ افسر کیمیکلز فیکٹری نزد کوکا کولا فیکٹری اور محمود ٹیکسٹائل ملز ملتان آفس واقع مہر منزل نزد انڈس ٹاور چوک میں بطور پرچیز آفیسر بھی کام کرتے رہے۔ جب لاہور میں آپ کی پھوپھی زاد بہن ڈاکٹر عذرا کی شادی ہوئی تو آپ نے لاہور جا کر راوی روڈ پر قائم اپنی بہن کے لائسم ہائی 
سکول کی پرنسپل شپ بھی سنبھالی اور اس سلسلے میں دو سال تک لاہور میں ہی مقیم رہے۔ تاہم جب 1990 میں آپکی والدہ کا انتقال ہوا تو آپ کو ملتان واپس آنا پڑا۔ 1990 میں منگنی کے بعد جنوری1991 میں آپ نے اپنا پہلا پرائیویٹ سکول ترین روڈ ملتان پر یونین کیمبرج سکول کے نام سے قائم کیا اور بطور بانی پرنسپل اسے شہر کا ایک معروف ادارہ بنایا۔ جہاں سابق ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو اور اس وقت کے ایس ایس پی ملتان جاوید نور سمیت متعدد اعلی تعلیمی و سول شخصیات بطور مہمان خصوصی تشریف لائیں۔ اسی دوران آپ نے قاسم پور کالونی ملتان کے الحمرا سکول اور نیو گلگشت کالونی کے لٹل سٹار ماڈل سکول کی ملکیت اور پرنسپل شپ بھی حاصل کی۔ آپ کی اہلیہ نے بھی لٹل سٹار سکول سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو چلانے میں معاونت فراہم کی۔ طارق قریشی صاحب بنیادی طور پر کسی معروف صحافتی گھرانے کے فرد نہیں ہیں۔ لیکن جب تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد گردش حالات نے آپ کو 1997 میں صحافت کے شعبے میں دھکیلا تو آپ نے شبانہ روز محنت سے صحافت میں اپنا الگ ہی وہ مقام بنایا کہ جس کا آج زمانہ معترف ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپ صحافیوں کے حقوق کے ترجمان بھی ٹھہرے۔ یہاں تک کہ آپ کے بے شمار صحافتی شاگرد بھی آپ کی طرح مختلف میڈیا ہائوسز میں ایڈیٹر اور چیف رپورٹر تعینات رہے۔ آپ نے ” روزنامہ وار میں بطور رپورٹر، نیا اخبار میں ڈپٹی چیف رپورٹر، اپنا میں بطور چیف رپورٹر، نیا دن میں رپورٹر، نیا دور میں بطور چیف رپورٹر اور ڈپٹی ایڈیٹر رپورٹنگ، ہمدرد میں بطور چیف رپورٹر، این این آئی میں بطور چیف رپورٹر، بولتا پاکستان میں بطور میگزین ایڈیٹر اور روزنامہ سنگ میل میں بطور جوائنٹ ایڈیٹر صحافتی فرائض سرانجام دیئے۔ آپ کی صحافت کے بانی میاں غفار ہیں۔ اور صحافتی گرو سید عارف معین بلے ہیں جبکہ قریبی صحافتی رفقاء میں سابق صدر ملتان پریس کلب و ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت رائو شمیم اصغر، موجودہ صدر ملتان پریس کلب شکیل انخم، سینئر صحافی ممتاز نیازی، اقبال شیخ، ندیم مشتاق سولنگی اور سلیم بھٹی شامل ہیں۔ جبکہ عمرکمال مرزا، اشرف بھٹی،صفدربخاری، شاہد اقبال شیخ اور محبوب ملک سمیت دوستوں اور رفقاء کی تعداد تو ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ آپ نے اکتوبر 2008 میں ملتان سے اپنے ماہنامہ تمہید میگزین کی اشاعت کا آغاز کیا جسے بعد ازاں حکومت پاکستان کی سینٹرل میڈیا لسٹ تک میں شامل کرایا اور اس میگزین نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں نمایاں شہرت اور بزنس حاصل کیا۔ اور اس کی مقبولیت عوام میں خاصی بڑھی۔ سیاستدانوں کی پیشہ ورانہ کوریج کیلئے آپ نے ہی ملتان میں پہلی بار سال 2008 میں ملتان میڈیا سنٹر کی داغ بیل ڈالی۔ جس کی پیروی آج تک دیگر بہت سے فوٹوگرافر اور صحافی کر رہے ہیں۔آپ کے اس میڈیا سینٹر سے بطور کلائنٹ استفادہ کرنے والوں میں اب تک سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام، سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، سابق صوبائی وزراء سید ناظم حسین شاہ، الحاج سعید احمد قریشی، ڈاکٹر اختر ملک، سینیٹر رانا محمود الحسن، ایم این اے احمد حسین ڈیہڑ، ممبران پنجاب اسمبلی ملک اسحاق بچہ، ڈاکٹر جاوید صدیقی، شاہد محمود خان، سابق مشیر گورنر پنجاب ثاقب عشرت، مسلم لیگ قاف کے مرکزی رہنما مخدوم غلام یزدانی گیلانی، ضلعی صدر ڈاکٹر خالد خاکوانی، پارٹی رہنما ڈاکٹر منیر حسین شاہ، مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک عاشق شجراء، رانا محبوب عالم ایڈووکیٹ، راجن بخش گیلانی، جمشید وقاص ارائیں، چوہدری محمد اسلم، یونین ناظمین طارق نعیم اللہ خان، مخدوم حیدر رضا شاہ، ملک غلام رسول اعوان، مخدوم ذوالفقار شاہ، ملک جہانزیب بچہ، ملک مشتاق شجراء، اختر عالم قریشی، تحریک انصاف کے ضلعی صدر خالد جاوید وڑائچ، پی ٹی آئی رہنما عامر خلیل شیخ، پیپلز پارٹی کے صوبائی نائب صدر خواجہ رضوان عالم، ڈویژنل صدر خالد حنیف لودھی، سٹی صدر ملک نسیم لابر، پارٹی رہنما رائو خالد فریدی، ایم کیو ایم ملتان کے رہنما و سابق وائس چیئرمین ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سید شمشاد جعفری اور سابق چیئرمین ضلعی بیت المال کمیٹی ملتان رانا اشتیاق احمد شامل ہیں۔ آپ ملتان پریس کلب کے متعدد بار عہدے دار منتخب ہوئے۔ سابق صدر جبار مفتی کے دور سے لیکر اب تک پانچ بار تو مجلس عاملہ کے ایگزیکٹو ممبر رہ چکے ہیں۔ صحافی کالونی فیز ون کے 2005 سے کوآرڈینیٹر چلے آرہے ہیں۔ بیس سال سے زائد عرصہ سے پریس کلب پر راج کرنے والے جرنلسٹس گروپ کے آپ روح رواں، کو آرڈینیٹر اور ترجمان ہیں۔ آپ کو پریس کلب کے دو صدور رائو شمیم اصغر اور شکیل انجم کا نمبر ٹو گردانا جاتا ہے۔ صحافت کے حالیہ دگرگوں معاشی حالات اور اپنی علالت کے پیش نظر اللہ جیسی واحد بزرگ و برتر ہستی کی رضا کے ساتھ مارچ 2023 کے شروع میں آپ نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کیلئے جس بیسٹو ایپ کی تشکیل کے اپنے نئے کاروباری پراجیکٹ کا آغاز کیا تھا الحمداللہ بیسٹو کے نام سے موبائل ایپ اور ویب سائٹ بنواچکے ہیں۔ اسی تناظر میں بیسٹو سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کا ادارہ بھی سیکورٹی ایکسچینج کارپوریشن، حکومت پاکستان سے رجسٹرڈ ہو چکا ہے اور بیسٹو کی لانچنگ کے بعد دو سال سے ریئل اسٹیٹ، گاڑیوں کی خرید و فروخت، رشتے ناطے کرانے اور افرادی قوت کی فراہمی سمیت بیسٹو سروسز کے متعدد شعبے اب بڑی کامیابی سے چل رہے ہیں۔ گوگل پلے اسٹور پر اندراج کے بعد سے بیسٹو ایپ پاکستان سمیت دنیا بھر میں جانی پہچانی جارہی ہے۔ بیسٹو کا نام ملتان میں تو تقریبا اب ہر کوئی جانتا ہے۔طارق قریشی نے 1977 میں سٹوڈنٹس پالیٹکس اور سماجی خدمات کا سلسلہ شروع کیا آپ سماجی و تہذیبی سرگرمیوں میں اب تک مسلسل حصہ لیتے چلے آ رہے ہیں۔ این جی اوز کے حوالے سے تین شخصیات عمر علی خان بلوچ، سبطین رضا لودھی اور طارق محمود قریشی کو ملتان کے سماجی سر سید کہا جاتا ہے جن کے قائم کئے گئے اداروں یا تنظیموں نے ملتان میں سماجی خدمت اور بھائی چارے کی شمعیں روشن کرکے لاکھوں افراد کی خدمت کی۔ آپ نے اپنے دیرینہ دوست عمر کمال مرزا کے ساتھ مل کر 1977 میں ینگ سٹوڈنٹس فیڈریشن اور 1979 میں ینگ لیگ پاکستان قائم کی۔ آپ عوامی جمہوری سٹوڈنٹس فیڈریشن، قائد اعظم سٹوڈنٹس فیڈریشن، انجمن طلباء اسلام اور پی ایس ایف کے عہدے دار رہے۔ اسی دورانیہ میں آپ کی ملاقات سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے بھی رہی جبکہ دوران صحافت آپ سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف، سابق صدر سردار فاروق لغاری اور معروف سیاستدان نوابزادہ نصر اللہ خان سے بھی مل چکے ہیں۔ آپ سیاسی توحید کے قائل ہیں۔ اوائل جوانی میں آپکا جو سیاسی رشتہ پیپلز پارٹی، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو سے جڑا تھا اسے آپ نے آج تک نبھایا ہے اور اس سیاسی رشتے کو آپ قبر میں بھی اپنے ساتھ لیجانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح چودہ اپریل 1979 کو جو آپ ینگ لیگ پاکستان سے جڑے تو آج تک اسے بھی پوری یکسوئی سے نبھایا ہے۔ آپ اس کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے ہی اپنی انتھک کاوشوں سے وائی ایل پی کو پاکستان کی متحرک ترین این جی او بنا کر اسے اقوام متحدہ اور امریکہ تک سے رجسٹرڈ کروایا۔ آپ ان بنیادی لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان میں پہلی بار وفاقی یوتھ منسٹری، آل پاکستان یوتھ فیڈریشن، پنجاب یوتھ پارلیمنٹ، کل ملتان تنظیمی اتحاد اور گریٹ الائنس آف یوتھ آرگنائزیشن کے قیام کو ممکن بنایا۔ آپ روڈ سیفٹی کیلئے ورلڈ بنک کے قائم کردہ ادارے اروپ کی آئین ساز کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔ وائی ایل پی کی سرگرمیاں آپ کی حالیہ علالت کے بعد گو خاصی ماند پڑ گئی ہیں تاہم وائی ایل پی کے چھ تعلیمی ادارے 46ویں سال میں بھی بدستور ہزاروں طلبہ کو تعلیم و تربیت اور سینکڑوں خواتین اساتذہ کو روزگار فراہم کررہے ہیں۔ متفرق خدمات اور پبلک فوائد پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں سے روابط اور تعاون برقرار ہے۔ وائی ایل پی کینیڈا چیپٹر بیگم نگہت رفیع ایڈووکیٹ اور بیرسٹر وجاہت فیضان کی قیادت میں وہاں مسلسل پاکستان، ملتان اور وائی ایل پی کا نام روشن کئے ہوئے ہیں۔ اب تک وجاہت فیضان صاحب کو سماجی، قانونی اور تعلیمی خدمات پر جکومت کینیڈا کی جانب سے تین اعلی ترین کینیڈین ایوارڈز مل چکے ہیں۔ آپ اکتوبر 1993 میں سکھر (سندھ) سے تعلق رکھنے والی ایک رشتہ دار خاتون کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ آپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ آپکے دونوں صاحبزادے انجینئر اور صاحبزادی ڈاکٹر بن کر صاحب روزگار ہوچکے ہیں۔ جبکہ آپکی اہلیہ محکمہ تعلیم میں اپنی ملازمت کا دورانیہ مکمل کرنے کے بعد اب ریٹائرمنٹ لے چکی ہیں۔ آپ نے اپنی اہلیہ کی مدد کے ساتھ اپنے تینوں بچوں کو اعلی تعلیم دلائی جنہوں نے بورڈ، یونیورسٹی اور بین الاقوامی سطح پر ٹاپ پوزیشنیں حاصل کیں۔ بڑا صاحبزادہ انجینئر اریب طارق نے ایف ایس سی میں ملتان بورڈ اور پنجاب بوائز میں پہلی پوزیشن لی۔ جس پر موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے چار لاکھ روپے کا کیش ایوارڈ دیا اور اسے پنجاب بھر کے دیگر بورڈ ٹاپرز کے ہمراہ آٹھ ممالک کے غیرملکی دورے پر بھی بطور وزیر اعلی بھیجا۔ اسی طرح نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس الیکٹریکل میں پہلی پوزیشن لی۔ بعد ازاں اسے یورپی یونین کے دوسالہ ایم ایس سی سکالر شپ ڈگری پروگرام کیلئے دنیا بھر کے کل 14 طلبہ میں پاکستان سے واحد طالب علم کے طور پر چنا گیا اور پھر اسے دو سال تک فرانس، یونان اور دیگر ممالک میں تعلیم دی گئی اس امتحان میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کرکے اریب طارق نے پاکستان، خاندان اور ملتان کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کیا۔ ایم ایس سی کرنے کے بعد اریب طارق آجکل فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ملازمت کررہا ہے۔ اسی طرح چھوٹے بیٹے انجینئر شکیب طارق نے نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں فوجی نوعیت کا ماڈل پراجیکٹ بنا کر بطور طالب علم آل پاکستان نیشنل روبوٹک مقابلے میں پہلی پوزیشن لی اور ایک لاکھ روپے کا کیش ایوارڈ جیتا۔ اسی چھوٹے صاحبزادے نے اپنی فرم کے پلیٹ فارم سے ریموٹ کنٹرول گیٹ بنانے کا کاروبار اب پورے پنجاب میں کامیابی سے پھیلا رکھا ہے اور اس کی جانب سے نت نئی پراڈکٹس ایجاد کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انجینئر حارث یوسف سے شادی کے بعد آپکی صاحبزادی ڈاکٹر تسبیحہ طارق اپنے شوہر کے ساتھ کینیڈا میں خوش و خرم آباد ہے۔ اب دونوں بیٹوں کے رشتوں اور شادی کا مرحلہ باقی ہے وہ بھی ادا ہو جائے تو قریشی صاحب اور انکی اہلیہ دونوں اپنے اس فرض کی ادائیگی میں بھی سرخرو ہوجائیں گے۔ کون بھول سکتا ہے کہ تقریبا ساڑھے تین سال قبل 13 مئی 2022 کی شام لاہور سے واپسی پر دوران سفر شوگر شوٹ کر جانے کے باعث آپ فالج کے جس اٹیک کا شکار ہوئے تھے اس کے اثرات اب بھی کسی حد تک برقرار ہیں۔ گو اللہ تبارک تعالٰی کے خاص کرم سے الحمداللہ آپ شاہراہ صحت پر گامزن ہو چکے ہیں۔ محتاجی سے نجات پانے کے بعد اپنے قدموں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ انشاءاللہ صحت کی باقی ماندہ صورتحال بھی جلد بہتر ہو جائے گی۔ یکم دسمبر کو آپکی سالگرہ پر صدر ملتان پریس کلب جناب شکیل انجم کی یہ دعا “انتہائی محترم باھمت پیارے بھائی طارق قریشی صاحب کو سالگرہ مبارک ہو اللہ پاک صحت تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائیں آمین*” انشاءاللہ پوری ہوگی۔










































Visit Today : 241
Visit Yesterday : 460
This Month : 10124
This Year : 57960
Total Visit : 162948
Hits Today : 1684
Total Hits : 790862
Who's Online : 7






















