ملتان :  پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور حلقہ این اے 148 کی امیدوار ڈاکٹر روبینہ اختر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹریفک قوانین پر اچانک سختی، بھاری جرمانوں اور سڑکوں پر جاری کریک ڈاؤن نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ میڈیا پر روزانہ بڑے زور و شور سے ٹریفک قوانین کے نفاذ کے بارے میں رپورٹس نشر کی جا رہی ہیں، مگر افسوس ہے کہ حکومت اپنی اس کارکردگی پر مطمئن نظر آتی ہے، جبکہ عوام کی حالت زار سے بے نیاز ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک عام شہری، جو صبح اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے کے لیے گھر سے نکلتا ہے، اگر اس کا چالان ہوجائے یا اس کی موٹر سائیکل و گاڑی بند کردی جائے تو اس کے ساتھ موجود بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ متعدد علاقوں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ بھاری جرمانوں اور موٹر سائیکل بند کیے جانے کے خوف سے بچوں نے سکول جانا چھوڑ دیا ہے،ڈاکٹر روبینہ نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف والدین کے لیے پریشانی کا سبب ہے بلکہ بچوں کی تعلیم کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے ،گھر کا کفیل پہلے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہا ہے، ایسے میں جرمانوں کا بوجھ اُس کے لیے ایک نئے بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے،انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹریفک قوانین کے خلاف کارروائی سے پہلے عوام کو مناسب آگاہی نہیں دی ، بہتر ہوتا کہ حکومت بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلاتی، عوام کو تیاری کا وقت دیا جاتا اور اس کے بعد قوانین کا نفاذ مرحلہ وار کیا جاتا۔ مگر موجودہ صورتحال میں اچانک کارروائیاں شہریوں کے لیے ذہنی صدمے اور معاشی بوجھ کا باعث بن رہی ہیں ،ڈاکٹر روبینہ اختر نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ٹریفک سیفٹی کی بہتری کے لیے حکومتی اقدامات میں سب سے زیادہ فائدہ طلبہ کو ہونا چاہیے کیونکہ سکولوں اور کالجوں میں حاضری متاثر ہونا ایک تشویشناک پہلو ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جس طرح حکومت طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کرتی ہے، اسی طرح ہیلمٹ بھی تقسیم کیے جائیں تاکہ نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ہو بلکہ بچوں کی تعلیم میں بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو، پریس کانفرنس کے موقع پر ڈاکٹر روبینہ اختر کے ہمراہ علینہ، عابدہ، کرن اور دیگر خواتین رہنما بھی موجود تھیں جنہوں نے ٹریفک قوانین کے موجودہ نفاذ اور عوامی مشکلات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔