نوجوانوں کو سزا نھیں سہولت دیں، ٹریفک پالیسی پر فوری نظر ثانی کی ضرورت
نوجوانوں کو سزا نھیں سہولت دیں ٹریفک پالیسی پر فوری نظر ثانی کی ضرورت
تحریر: ایس پیرزادہ
ملک و قوم کا مستقبل ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے مگر حالیہ دنوں میں ہیلمٹ اور لائسنس کے نام پر جو خوف اور سختی کی فضا قائم کی گئی ہے، وہ آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں ریاست اور قانون کے بارے میں منفی سوچ پیدا کر رہی ہے سوشل میڈیا پر ہر روز ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں جن میں کم عمر بچوں اسکول کالج اور یونیورسٹی جانے والے نوجوانوں کو پکڑ پکڑ کر پولیس موبائلوں میں ڈالا جا رہا ہے ان پر ایف آئی آرز درج کی جا رہی ہیں اور انہیں ہتھکڑیاں بھی لگا دی جاتی ہیں یہ عمل نہ صرف دل دکھاتا ہے بلکہ ایک شدید تشویش بھی جنم دیتا ہے کہ کہیں یہ بچے مستقبل میں واقعی قانون سے نفرت ریاست سے بے اعتمادی اور اداروں کے خلاف بغاوت کی طرف نہ چلے جائیں یہ حقیقت ہے کہ لائسنس کے حصول کا طریقہ کار مشکل اور مہنگا ہے جبکہ ہیلمٹ کی قیمتیں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہیں ایک عام گھرانے کے لیے بچوں کے اسکول اور کالج کے روزمرہ اخراجات پورے کرنا ہی مشکل ہوتا ہے ایسے میں وہ مہنگا ہیلمٹ خریدنے یا ایک پیچیدہ اور وقت طلب لائسنس سسٹم سے گزرنے کے قابل نہیں ہوتے خاص کر غریب مزدور طبقہ پاکستان میں جب بھی کوئی چیز
لازمی قرار دی جاتی ہے تو اس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے کرونا آیا تو ماسک مہنگے ہوئے لوڈشیڈنگ بڑھی تو جنریٹر اور یو پی ایس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اب یہی صورتحال ہیلمٹ کی مارکیٹ میں بھی سامنے آ رہی ہے جس کا براہِ راست بوجھ نوجوانوں اور ان کے والدین پر پڑ رہا ہے غریب مزدور دیہاڑی دار طبقے کا گھر چلانا مشکل کام ہے وہ کہاں سے ہیلمٹ لیں
اس سب کے باوجود اگر حکومت واقعی نوجوانوں اور عوام کی حفاظت چاہتی ہے تو اسے سختی اور گرفتاریوں کے بجائے سہولت اور آگاہی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے نوجوانوں کو قانون کا پابند بنانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ پہلے انہیں سہولت دی جائے اور پھر ان سے عمل کی توقع کی جائے ٹریفک پولیس کو چاہیے کہ وہ جرمانے بڑھانے کے بجائے ہیلمٹ کم قیمت پر خود فراہم کرے تاکہ نوجوانوں کو محفوظ سفر کی ترغیب بھی ملے اور وہ قانون کے ساتھ تعاون بھی کریں لائسنس کے نظام کو اتنا آسان فوری اور کم خرچ بنایا جائے کہ لوگ خود اس طرف راغب ہوں خصوصی لائسنس سینٹر موبائل وینز اور ایک دن میں لائسنس جاری کرنے کی سہولت نوجوانوں کو ریاست کے قریب کرے گی دور نہیں اسی طرح 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ایک خصوصی اسٹوڈنٹ لائسنس یا اسپیشل پرمٹ متعارف کرایا جانا چاہیے کیونکہ بہت سے بچے اسکول کالج اور اکیڈمی جانے کے لیے مجبوراً موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں والدین ہر روز انہیں لانے لے جانے کے قابل نہیں ہوتے انہیں مجرم سمجھ کر ہتھکڑی لگانے کے بجائے تربیت رہنمائی اور نرمی کے ساتھ قانون سمجھایا جائے بچوں کو مجرم بنانا آسان ہے مگر انہیں اچھا شہری بنانا ہی اصل ریاستی ذمہ داری ہے بجائے اس کے کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر انہیں ذلیل کیا جائے بہتر یہ ہے کہ ٹریفک آگاہی کی ایک جامع مہم چلائی جائے اسکولوں اور کالجوں میں تربیتی سیشن منعقد کیے جائیں مارکیٹ میں ہیلمٹ کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے غیر معیاری ہیلمٹ کی فروخت روکی جائے اور نوجوانوں کو اس مہم کا حصہ بنایا جائے اگر ریاست انہیں اعتماد دے سہولت دے اور ان کی مشکلات سمجھے تو یہی نوجوان کل کے ذمہ دار شہری قانون کے تابع شہری اور ملک کے حقیقی محافظ بنیں گے
قانون کا مقصد سزا نہیں اصلاح ہے اگر اصلاح چاہیے تو نوجوانوں کو خوف گرفتاری ایف آئی آر اور ہتھکڑیوں سے نہیں بلکہ سہولت رہنمائی اور اعتماد سے بدلا جا سکتا ہے یہ وہ نسل ہے جس نے کل اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اسے مجرم مت بنائیں اسے مضبوط باشعور اور ذمہ دار شہری بنائیں تاکہ یہ ملک محفوظ بھی ہو اور ترقی یافتہ بھی میں پرزور اپیل کرتی ہوں وزیر اعظم سے وزیر اعلی پنجاب سے قانون نافظ کرنے والے اداروں سے عملدرآمد کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ کسی بھی طرح ملک اور قوم کے لئے نا مناسب ہے آس پر فوری نظر ثانی کی جائے







































Visit Today : 192
Visit Yesterday : 587
This Month : 4093
This Year : 32521
Total Visit : 89310
Hits Today : 556
Total Hits : 217441
Who's Online : 3



























