چرواہے اور حضرت موسیٰؑ کی حکایت
چرواہے اور حضرت موسیٰؑ کی حکایت
محمد جمیل شاہین راجپوت۔ کالم نگار و تجزیہ نگار
حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں انہوں نے ایک چرواہے کو دیکھا جو بڑی سادگی اور والہانہ انداز میں اللہ سے مخاطب تھا۔
چرواہا کہہ رہا تھا:
”اے اللہ! تو کہاں ہے؟ میں تیرے لیے کیا کیا کروں؟ تیرے کپڑے سی دوں؟ تیرے سر میں کنگھی کروں؟ تیرے جوتے سی دوں؟ تیرا بستر بچھا دوں؟ تیری بکریاں چرا دوں؟ اے میرے خدا، مجھے بتا کہ میں تیرے لیے کیا کیا خدمتیں انجام دوں؟”
حضرت موسیٰؑ یہ سن کر ناراض ہوئے اور اسے ڈانٹتے ہوئے فرمایا:
”اے بے وقوف! یہ تو کیسی کفریہ باتیں کر رہا ہے؟ اللہ پاک ان سب چیزوں سے بے نیاز ہے! اگر تو نے ایسی باتیں دوبارہ کیں تو تیرا منہ آگ سے جلا دوں گا!”
چرواہا بہت شرمندہ ہوا، خوفزدہ ہو گیا اور اس کی زبان بند ہو گئی۔ ندامت کے مارے اس نے جنگل کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔
اُسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰؑ پر وحی نازل ہوئی:
”اے موسیٰ! تو نے ہمارے ایک بندے کو ہم سے جدا کر دیا! ہمارا کام جوڑنا ہے، توڑنا نہیں۔ تو دنیا میں اس لیے نہیں آیا کہ جڑنے والوں کو کاٹ ڈالے اور دور کرے۔ ہم نے ہر کسی کے لیے اظہارِ محبت کا ایک طریقہ رکھا ہے۔ اس نے جو کچھ کہا، وہ اگرچہ تیرے معیار کے مطابق ‘درست’ نہیں تھا، لیکن اس کے دل میں وہی محبت کا اظہار تھا۔ اے موسیٰ! ہم تک پہنچنے کے لیے آداب اور الفاظ نہیں، بلکہ دل اور اس کی سچی نیت دیکھی جاتی ہے۔”
سبق آموز نکتہ
مولانا رومی اس حکایت کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ محبت اور سچا اخلاص ظاہری الفاظ یا دنیاوی آداب کا محتاج نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ انسان کے دل کی نیت اور اس کی سچی لگن کو دیکھتا ہے، نہ کہ اس کی زبان کی فصاحت یا آداب کی پابندی کو۔
طالب دعا۔ محمد جمیل شاہین راجپوت۔ کالم نگار و تجزیہ نگار







































Visit Today : 192
Visit Yesterday : 587
This Month : 4093
This Year : 32521
Total Visit : 89310
Hits Today : 554
Total Hits : 217439
Who's Online : 3



























