ملتان(بیورورہورٹ ) پاکستان پیپلزپارٹی ملتام سٹی و ضلع کے زیر اہتمام سٹی صدر ملک نسیم لابر کی صدارت میں پریس کلب میں پیپلزپارٹی 58 ویں یوم تاسیس کی منعقدہ تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تقریب میں موجود عہدہدران و کارکنان سے لائیو خطاب کیا اس موقع پر مہانان خصوصی پارلیمانی لیدر پنجاب اسمبلی سید علی حیدر گیلانی، سابقہ ایم پی اے سید احمد مجتبی گیلانی، سینئر نائب صدر جنوبی ہنجاب خواجہ رضوان عالم، میزبان ملک نسیم لابر، ڈویڑنل صدر خالد حنیف لودھی، ضلعی جنرل سیکرٹری راو ساجد علی، سابقہ ضلعی صدر حبیب اللہ شاکر، سیکرٹی انفارمیشن سٹی خواجہ عمران، ضلعی سیکرٹری انفارمیشن چوہدری یاسین، سینئر نائب صدور سٹی میاں منظور قادری و ساجد خان بلوچ، سینئر نائب صدر خواتین ونگ جنوبی ہنجاب راضیہ رفیق، سینئر نائب صدر علما ونگ مرزا نذیر بیگ، سابقہ ٹکٹ ہولڈر حاجی شاہد رضا صدیقی، نائب صدور سٹی حاجی خلیل راں، اللہ بخش بھٹہ، اسلم بھٹی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری سٹی حاجی امین ساجد، نشید عارف گوںدل ایڈوکیٹ، تحصیل جنرل سیکرٹری شیخ سلیم، تحصیل سیکرٹری انفارمیشن رانا کے ٹی جی، ڈویڑنل صدر لیبر ونگ قاضی منور، سٹی صدر خواتین ونگ عابدہ بخاری، ملک افتخار علی، ملک رمضان کمبوہ، عبدالروف لودھی، ایس شہزاد جارج، راحیل انجم، ملک امداد جھولے لعل، طارق شاد، نذیر کاٹھیا، حاجی طاہر، ملک ناصر کمبوہ، علی مشتاق بلوچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے مشترکہ بیان میں کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے 58 ویں یوم تاسیس پر، پاکستان پیپلز پارٹی اپنے رہنما اصولوں پر قائم رہنے اور پاکستان کو ایک جمہوری، ترقی پسند اور خوشحال ملک بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کر رہی ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ان رہنما اصولوں اور عزم کے ساتھ رکھی کہ ملک کے پسماندہ طبقات، محنت کشوں، کسانوں، غریبوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر کے وطن عزیز کو ایک ترقی یافتہ، جدید اور خوش حال ریاست بنایا جائے۔ اس کے رہنما اصولوں ’اسلام ہمارا مذہب، سوشلزم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست، اور طاقت کا سرچشمہ عوام‘ اور اس کے عوامی نعرے روٹی کپڑا مکان نے عوام کے دل میں اس حد تک گھر کیا کہ ایک مختصر عرصے میں یہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن گئی پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں بھٹو شہید کی کرشماتی قیادت میں تبدیلی کا ایسا سفر شروع ہوا، جس سے محض دو سالوں میں ملک میں انقلابی اصلاحات آئیں، منقسم قوم متحد ہوئی، اسے 1973 کا متفقہ آئین ملا، کامیاب اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی، ایٹمی صلاحیت کی بنیاد رکھی گئی، پہلی بار پاکستانیوں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ ملا، شہید بھٹو نے غریبوں کو سیاست اور ووٹ کا حق دیا اس سے قبل سیاست صرف اشرافیہ کو حق تھا۔ شہید بھٹو نے سیاست کو جمہوری کیا، غریبوں اور محنت کشوں کو معاشی حق دلوایا، بے زمین ہاریوں کو زمین، طلبا، مزدوروں اور محنت کشوں کو یونین سازی کا حق دیا پیپلز پارٹی نے اپنے ترقی پسند ایجنڈے کو شہید بے نظیر بھٹو کی قیادت میں جاری رکھا، جنھیں قیادت کا وصف ورثے میں ملا تھا۔ اپنے دو مختصر ادوار میں انہوں نے انتہائی بہادری سے دو آمریتوں کا مقابلہ کیا، اور پسماندہ طبقات کی ترقی و خوشحالی کے لیے انقلابی اقدامات کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔شہید بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے، آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، بطور صدر، جمہوریت کو بحال کیا اور پارٹی کو دوبارہ متحرک کیا، مشکل وقت میں قوم کی قیادت کی، 18 ویں ترمیم سے پارلیمانی جمہوری ڈھانچہ بحال کیا، صوبائی خود اختیاری سے وفاقیت کو مضبوط کیا۔ انہوں نے معیشت کو مستحکم کیا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وسیلہ حق پروگرام، اور متعدد دیگر اقدامات شروع کیے جنہوں نے لاکھوں خاندانوں کو معاشی با اختیار بنایا۔پیپلز پارٹی ہمیشہ سے قومی معیشت کو مستحکم کرنے کا گمنام ہیرو رہی ہے۔ 2008۔ 2013 کے درمیان حکومت کو برینٹ تیل کی اوسط عالمی قیمت $ 94.95 کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑا تاہم اس کے بعد کے سالوں ( 2014۔ 2022 ) میں اوسط قیمت صرف $ 62.80 /BL دیکھی گئی۔تیل کی ان خطرناک عالمی قیمتوں کے باوجود پی پی پی کی حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور مہنگائی کو 20.69 فیصد سے کم کر کے 7.69 فیصد تک لانے میں کامیاب رہی۔ پی پی پی نے قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا، جو اس کی 2008۔ 2013 کے درمیان معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت سے ظاہر ہے۔ کامیاب معاشی اصلاحات سے جی ڈی پی گروتھ میں ریکارڈ اضافہ ہوا، مالی سال 08۔ 2007 میں پیپلز پارٹی حکومت سے قبل 1.71 ٪ تھی، پیپلز پارٹی 2013 تک 153 ٪ اضافہ سے اسے 4.4 ٪ پرلے گئی، کامیاب معاشی و تجارتی پالیسیوں سے مجموعی قومی پیداوار 10452 ارب سے بڑھ کر 86 ٪ اضافے کے ساتھ 19436 ارب تک آ گئی۔انتہائی نامساعد حالات، بدترین سیلاب، دہشت گردی سے نبردآزما ہوتے ہوئے 25 ٪ افراط زر کو 8 ٪ تک لے آئی، یہ پی پی پی حکومت کی بڑی کامیابی بنی۔ شرح سود 15 سے کم ہو کر 9.5 ٪ پرلے آئی، کاروباری طبقے نے حکومتی اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا جس سے ٹیکس محصولات 1008 ارب سے 136 ٪ اضافے کے ساتھ 2380 ارب پر آئے، ، ترسیلات زر چھ ارب ڈالر سے 117 ٪ اضافہ سے 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، سٹاک مارکیٹ جو 4800 پوائنٹس پر تھی 2013 میں 18500 پوائنٹس تک چلی گئی۔ 546 ارب روپے کی زرعی آمدن پانچ سال میں 1200 ارب روپے تک پہنچ گئی، زرعی خوشحالی آئی اور ملک زرعی اجناس درآمد کنندہ سے برآمد کنندہ میں تبدیل ہوا، پبلک پرائیویٹ سیکٹر میں 70 لاکھ کے قریب ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 125 ٪ سے لے کر 175 ٪ اضافہ ہوا۔ انہون نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں میں نظریاتی فرق بڑا واضح ہے۔ دوسری جماعتیں سمجھتی ہیں کہ امیر کو امیر بنانے سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن پی پی پی سمجھتی ہے کہ غریبوں پر پیسہ لگانے سے معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ بھٹو شہید کا فلسفہ تھا کہ عوام کی قسمت میں ہمیشہ غریب رہنا نہیں۔ پیپلز پارٹی اشرافیہ کی نہیں بلکہ پسماندہ طبقات، اقلیتوں، مزدوروں، کسانوں اور طالب علموں کی پارٹی ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ حکومت میں آ کر تنخواہوں میں پانچ سال تک دوگنا اضافہ کرے۔چیئرمین بلاول بھٹو شہید بی بی اور صدر زرداری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانے سے پورا خاندان مضبوط ہو گا۔ وہ بے گھر خاندان کی ہر عورت کو گھر کی ملکیت کے حقوق دینے کے لیے پرعزم ہیں، تاکہ انہیں با اختیار اور ان کے خاندانوں کے لیے زیادہ محفوظ مستقبل بنایا جا سکے۔ سندھ حکومت نے غریب کے لئے 20 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا اور اس پر عمل بھی جاری ہے جن سے خواتین کو ان گھروں کے مالکانہ حقوق بھی دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کسی سیاسی جماعت کی بجائے غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کو اپنا مخالف سمجھتی ہے۔ ۔آج شہید بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے لخت جگر بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا اور والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کے تحت پاکستان کو ترقی دلانے کیلئے کوشاں ہے. دعا ہے کہ اگلے وزیر اعظم بلاول بھٹو زرداری منتخب ہوں اس موقع پر پیپلزپارٹی کی 58 ویں یوم تاسیس کا کیک بھی کاٹا گیا اور جیالوں نے پارٹی ترانوں پر رقص کیا اور فضا جئے بھٹو، وزیراعظم بلاول، پاکستان پیپلزپارٹی زندہ باد، جب تک سوج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا جیسے نعرے گونجتے رہے اس تقریب میں سعید مونی، جمیل بھٹی، غلام شبیر قریشی، شبیر علوی، ظفر اعوان، ملک فیاض، ہیوی خان، ملک فیاض کمبوہ، اشفاق قریشی، اشفاق بلا، داود خان خلجی، سلیم رحمانی، ملک عبدالغفار، عبدالرزاق جگنو، چچا خدا بخش، ملک فیاض کمبوہ، منیر درزی، چوہدری شکیل، حنیف رضآ، آصف خان، زاہد حنیف، فدا حسین، عبدالسمیع، عرفان، طارق، عارف، جمیل، فرحان اللہ خان سمیت سینکڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکنان و عہدیداران نے شرکت کی