یومِ تاسیس اور پیپلز پارٹی نظریے کی روشنی اور آج کی حقیقت

تحریر: ایس پیرزادہ

پاکستان کی سیاست میں کچھ نام صرف افراد نہیں ہوتے وہ ایک تحریک ایک جذبہ ایک نظریہ بن جاتے ہیں محترمہ بے نظیر بھٹو بھی انہی ناموں میں شامل ہیں ان کی زندگی جدوجہد اور قربانی نے پیپلز پارٹی کو ملک گیر سطح پر مضبوط کیا لیکن اس کی بنیاد 17 جنوری 1967 کو ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی یہ ایک تحریک تھی جو اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ عوام جمہوریت اور انصاف کی علامت تھی آج یومِ تاسیس پر یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پیپلز پارٹی صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک نظریہ ایک مقصد اور ایک تحریک ہے یہ نظریہ ہر غریب مزدور کسان اور مظلوم کی آواز تھا جسے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے قربانی سے زندہ رکھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کی پیپلز پارٹی وہ نہیں رہی اصل نظریے کارکنان اور جذبے کہیں کمزور پڑ گئے ہیں کچھ لوگ صرف نام اور مفاد کے لیے پارٹی میں ہیں بھٹو اور بے نظیر کے وژن کو نظر انداز کر کے سیاسی فائدہ اٹھا رہے ہیں پارٹی کے اہم مقامات پر بیٹھے لوگ صرف پیپلز پارٹی اور بھٹو کے نام کو سیاسی سرمایہ بنا رہے ہیں نظریاتی کارکنان پسِ منظر میں ہیں عوامی خدمت اور جمہوری جدوجہد کی حرارت کہیں گم ہو گئی ہے یومِ تاسیس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نظریے کو زندہ رکھنا ہی اصل کامیابی ہے اگر پارٹی اپنی سمت اپنے کارکنان اور نظریے کو دوبارہ مرکز میں نہیں لاتی تو یہ عظیم تحریک صرف ایک نام بن کر رہ جائے گی جب پارٹی اپنے حقیقی مقصد کے لیے کھڑی ہوگی تبھی یہ پاکستان کے عوام کے لیے روشنی کا چراغ بن سکے گی اور بھٹو اور بے نظیر کے وژن کا حقیقی سفر دوبارہ زندہ ہوگا