ملتان کی پیاسی زمین اور ختم ہوتا ہوا نہری نظام

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملتان، جنوبی پنجاب کا قدیم شہر، صدیوں سے اپنی زرخیزی، نہری نظام اور پانی کی وافر مقدار کی وجہ سے پہچانا جاتا رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نہری نظام کے خاتمے نے شہر اور اس کی زراعت پر ایسے اثرات مرتب کیے ہیں جو اب ناقابلِ نظر انداز نہیں رہے، کیونکہ نہریں صرف پانی کے بہاؤ کا نام نہیں، بلکہ زمین، فصل، ماحول، انسانی زندگی اور شہری سہولیات کے لیے ایک قدرتی بنیاد اور بقا کا ذریعہ تھیں، اور جب یہ نظام موثر طور پر کام کر رہا تھا تو نہ صرف زیرزمین پانی کی سطح مستحکم رہتی تھی بلکہ سیلاب کے خطرات بھی کم ہوتے تھے، زمین سرسبز اور زرخیز رہتی تھی، اور لوگ پینے، کھانے اور زراعت کے لیے ہمیشہ پانی کے قابل اعتماد ذرائع پر انحصار کر سکتے تھے، مگر اب جب نہریں بند یا ضائع ہو گئی ہیں، تو زیرزمین پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے، جو کبھی 40 سے 50 فٹ پر دستیاب تھی وہ اب 300 فٹ سے بھی نیچے جا رہی ہے، اس کے نتیجے میں ٹیوب ویلوں پر انحصار بڑھ گیا، بجلی کے اخراجات بڑھ گئے، زراعت سکڑ گئی اور شہری پانی کے بحران کا سامنا کرنے لگے ہیں، یہی نہیں بلکہ نہری نظام کے خاتمے سے سیلابی پانی کے لیے قدرتی راستہ بھی ختم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے بارش کے چند گھنٹوں میں نشیبی علاقے تالاب بن جاتے ہیں، سڑکیں ڈوب جاتی ہیں اور شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے، اس تاریخی نظام نے شہر کو برسوں تک قدرتی اور ماحولیاتی توازن فراہم کیا تھا، لیکن آج وہ سب محض یادوں اور تحریروں میں باقی ہے، ملتان کے باغات، کھجور کے درخت، آم کے باغات، کپاس کے کھیت اور سبزے کی زمینیں پانی کی کمی سے متاثر ہو رہی ہیں، کسان پانی کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں، فصلیں کم پیدا ہو رہی ہیں اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس کے علاوہ نہریں ماحول کو بھی معتدل رکھتی تھیں، درجہ حرارت کو متوازن کرتی تھیں، ہوا میں نمی قائم رکھتی تھیں اور شہری زندگی کو راحت فراہم کرتی تھیں، مگر جب نہریں بند ہو گئیں تو شہر میں گرمی بڑھ گئی، ہوا خشک ہو گئی، اور مٹی سخت ہو گئی، جس سے فصلیں کمزور ہو گئیں، سبزہ ختم ہونے لگا، اور پرندوں کی اقسام بھی نایاب ہونے لگیں، یہی نہیں بلکہ نہریں پانی کے بہاؤ کے ذریعے زمین میں زندگی بھرنے والی نمی کو برقرار رکھتی تھیں، جو زیرزمین پانی کی سطح کو بلند رکھنے اور ٹیوب ویلوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مددگار تھی، مگر آج یہ سہولت ختم ہو گئی ہے، پانی کی کمی، زمین کی بنجر حالت، بڑھتی گرمی اور کمزوری پیدا ہونے والی فصلیں شہر اور دیہی علاقے دونوں کے لیے خطرہ بن گئی ہیں، شہری علاقوں میں پانی کی فراہمی کے مسائل بڑھ گئے ہیں، گلی محلوں میں پانی کی قلت، گھریلو ضروریات میں مشکلات، اور زرعی علاقوں میں کھیتوں کی سیرابی کی کمی سے پیدا شدہ مشکلات نے عوام کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ نہریں صرف پانی کا بہاؤ نہیں بلکہ شہر کی زندگی کی بنیاد ہیں، زراعت کی بقا کی ضمانت ہیں اور ماحولیاتی توازن کی کلید ہیں، ملتان کے لوگ اب بھی یاد کرتے ہیں کہ کیسے نہریں پورے شہر کو محفوظ رکھتی تھیں، سیلاب کی شدت کم کرتی تھیں، گرمی میں راحت دیتی تھیں اور پانی کو سارا سال دستیاب رکھتی تھیں، مگر موجودہ صورتحال میں یہ سب خواب بن کر رہ گئے ہیں، اور ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ اس تاریخی اور قدرتی نظام کی بحالی پر فوری توجہ دیں، کیونکہ اگر نہریں دوبارہ نہ بحال کی گئیں تو آنے والی نسلیں نہ صرف پانی، زرخیزی اور سبزہ کھو بیٹھیں گی بلکہ وہ شہر بھی کھو دیں گے جسے کبھی پانی، نہریں اور قدرتی بہاؤ زندہ رکھتے تھے، اس کے علاوہ موجودہ شہری پھیلاؤ اور رہائشی کالونیاں نہری کناروں پر قابض ہو کر پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں، جس سے زیرزمین پانی کی سطح مزید گرتی جا رہی ہے اور زراعت میں نقصان بڑھ رہا ہے، پانی کی کمی اور گرمی نے انسانی صحت پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، گرمی کے دن زیادہ برداشت طلب ہو گئے ہیں، شہری زیادہ پانی خرچ کرنے پر مجبور ہیں، اور کسان اپنی زمینوں کو بچانے کے لیے اضافی محنت کر رہے ہیں، اسی وجہ سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ نہری نظام کی اہمیت محض پانی کے بہاؤ تک محدود نہیں بلکہ یہ شہر، کسان، ماحول اور انسانی زندگی کی حفاظت کا مکمل نظام تھا، جو آج ختم ہو چکا ہے اور اس کے اثرات ہر سطح پر دیکھے جا سکتے ہیں، اس لیے حکومت، شہری انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ملتان کی نہروں کی بحالی اور زیرزمین پانی کی ریچارجنگ کے منصوبے فوری طور پر شروع کریں، زمین کو زرخیز بنائیں، سبزہ بڑھائیں، سیلاب کے خطرات کم کریں اور شہر کی زندگی کو دوبارہ نہری بہاؤ کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ اگر ہم نے آج اقدام نہ کیا تو نہ صرف پانی اور زراعت بلکہ انسانی زندگی بھی متاثر ہوگی، اور ملتان وہ شہر رہنے کی صلاحیت کھو دے گا جسے کبھی نہری نظام نے زندہ رکھا تھا، یہ تاریخی اور ماحولیاتی ذمہ داری ہے کہ ہم نہری نظام کو بحال کریں اور شہر کو دوبارہ زندگی سے بھر دیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی وہ سب کچھ دیکھ سکیں جو ہم نے کھو دیا ہے، ملتان کا نہری نظام صرف پانی کی بقا نہیں بلکہ ثقافت، تاریخ، زراعت اور انسانی زندگی کا مرکز تھا، اور آج بھی وقت موجود ہے کہ ہم اس نظام کو زندہ کر کے شہر کی بقا کو یقینی بنائیں۔