ملتان کی سڑک چندروز قبل ایک بار پھربے گناہوں کے خون سے رنگ گئی
ملتان کی سڑک چندروز قبل ایک بار پھربے گناہوں کے خون سے رنگ گئی
ملتان کی سڑک چندروز قبل ایک بار پھربے گناہوں کے خون سے رنگ گئی،جامعہ زکریا کے طالب علم دو سگے بھائی منیب اور نوید کسی دشمن کی گولی کا نشانہ نہیں بنے،انہوں نے کسی ڈکیتی کی واردت میں جان نہیں ہاری،ان کی زندگی تو امیرزادوں کی کار ریسنگ نے چھین لی،یہ حادثہ نہیں بلکہ سماجی زوال کا اعلان تھا،وہ زوال جس میں طاقتور کا اسٹیئرنگ بھی بے لگام اور اس کا ضمیر بھی بے مہار نظر آتاہے،اگر یہ کہا جائے کہ شہر کی سڑکیں جو عوام کے سفر کے لیے ہوتی ہیں،اب چند امیر گھرانوں کے بگڑے ہوئے نوجوانوں کے کھیل کا میدان بن چکی ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا،ہمارے ہاں عام تاثر یہ ہے کہ بچہ بگڑ جائے تو معاشرہ ذمہ دار ہے۔ مگر جب دس لاکھ کی بائیک، ایک کروڑ کی گاڑی، اور رات کے دو بجے واپسی کی آزادی اپنے بچہ کو والدین خود دیں گے تو پھر حادثے کا ماتم اور افسوس کیسا۔یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہمارے سکول سسٹم میں صرف تعلیم اور گریڈ لینے کی بات کی جاتی ہے تربیت کی نہیں ،یہ ہی وجہ ہے کہ تربیت سے عاری پڑھے لکھے نوجوان آج سٹرکوں پر انسانی جانوں سے کھیلتے نظر آتے ہیں،یہ دلخراش واقعہ 18اور19نومبر کی درمیانی شب کا بتایا جاتا ہے،جب بلال کالونی خاینوال سے تعلق رکھنے والے 70سالہ شخص محمد ارشد کے دو جوان بیٹے منیب اور نوید اپنے ایک اور ساتھی کے عبیداللہ کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ایم پی ایس روڈ پر جارہے تھے،اس دوران ریسنگ کرتی دو کاروں میں سے ایک تیز رفتار کار نے ان کو ہٹ کیا حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ موٹرسائیکل پر سوار دونوں بھائی منیب اور نوید موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے،جب کہ تیسرا نوجوان شدید زخمی حالت میں نشتر ہسپتال میں زیر علاج ہے،حادثہ کے فوری بعد جو کچھ ہوا وہ اپنی جگہ ایک المیہ ہے،1122ایک نیک نام ادارہ ہے ،حیرت انگیز طور پر اس نے اس واقعہ کی رپورٹ جاری ہی نہیں کی،اس ادارہ کی گاڑی ہرہنگامی کال پر سب سے پہلے پہنچتی ہے ،وہ سچ کی دہلیز پر کیوں نہ پہنچی؟اس واقعہ کو رپورٹ کرنے سے روکنے کا حکم کہاں سے آیا، اس کا جواب تو اس ادارے کے ارباب اختیار ہی دے سکتے ہیں،سچی بات تو یہ کہ سچ کا پہلاجنازہ تو 1122کی خاموشی نےاٹھادیا،پھر بات آگئی اپنی پولیس کی…سنا ہے کہ پولیس نے حادثہ کے ملزم شمیر خان جو کہ ملتان کے ایک بڑے سکول گروپ کے مالک کا بیٹا ہے کا میڈیکل کرائے بغیر اس کو جائے حادثہ سے جانے دیا اور ًمعاملہ فہمی ًکے بعد اگلے روز اس کی گرفتاری ڈالی گئی،اگر یہ بات درست ہے تو سچ کو دوسری ٹھوکر پولیس کی طرف سے ماری گئی،سوال یہ ہے کہ اگر یہی واقعہ کسی متوسط گھر کے لڑکوں نے کیا ہوتا، کیا قانون اتنا نرم ہوتا؟کیا تھانے کے دروازے پر ویسی ہی نرمی، ویسی ہی مہربانیاں نظر آتیں؟اب آجائیں میڈیا کی طرف جہاں ایک آدھ اخبارات کے سوا باقی میں میں صرف ایک معمول کے حادثہ کی خبر شائع ہوئی، کار ریس لگانے والا بگڑا ہوا رئیس زادہ کون تھا کس گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اس کو بتانے سے گریز کیا گیا،تاہم جب ایک دو سینئر صحافیوں نے سوشل میڈیا پر اس دلخراش حادثے کو پس منظر کے ساتھ اجاگر کیا،تب شہر کے لوگوں کو حادثے کے دوسرے رخ سے آگاہی حاصل ہوئی ،رپورٹس وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کو لگائی گئی دفعات میں زیر دفعہ 302کا اضافہ کردیا،یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پولیس تاحال کار یسنگ میں ملوث دوسری کار کا اب تک سراغ نہیں لگا سکی،شہر کی ایک اہم سٹرک پر سیف سٹی کے کیمرے کہاں گئے؟دوسری بات یہ کہ سڑک کے ساتھ کمرشل ایریا میں موجوبیشترد عمارتوں پر سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں ان سے مدد کیوں حاصل نہیں کی جارہی،کار ریسکنگ کا کھیل بھی کافی عرصہ سے شہر کی سڑکوں پر کھیلا جارہاہے،کیا یہ بات پولیس کے علم میں نہیں ہے،شہر کی سڑکیں کبھی محفوظ کیوں نہیں ہو سکیں؟انتظامیہ نے کب ان نوجوان ریسروں کے خلاف سنجیدہ کارروائی کی؟قانون آخر کس کے لیے ہے؟ طاقتور کے لیے یا عام شہری کے لیے؟اور ہمارا معاشرہ کب تک امیروں کے بچوں کے جرائم کو “شرارت” اور غریبوں کی غلطیوں کو “گناہ” کہتا رہے گا؟پولیس کی ذمہ داری ہے کہ مظلوم کے دروازے پر کھڑی ہو، ظالم کے پیچھے نہیں، انصاف کی پگڈنڈی پر چلے، تعلقات کی راہداریوں میں نہیں۔اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ سچ کو آواز دے، خواہ کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ،اگر آج بھی ہم نے اس واقعے کو “حادثہ” کہہ کر گزر جانے دیا تو یاد رکھیں کل کوئی اور باپ سڑک پر بچھے خون پر کھڑے ہو کر پوچھے گا کہ میرے بچوں کا قصور کیا تھا؟صرف ملزمان نہیں، ہمارا ضمیر بھی کٹہرے میں ہے۔فیصلہ اب قانون نے کرنا ہے۔









































Visit Today : 229
Visit Yesterday : 460
This Month : 10112
This Year : 57948
Total Visit : 162936
Hits Today : 1544
Total Hits : 790722
Who's Online : 3






















