لوگو کا کاروبار،،،،تعلیم کا نیا بوجھ

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

ملک میں نجی تعلیمی اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد جہاں ایک طرف تعلیم کے معیار میں اضافے کا سبب بنی ہے، وہیں دوسری طرف ایسے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں جو والدین کی برداشت اور بچوں کی نفسیات پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔ انہی مسائل میں سب سے سنگین اور حالیہ طور پر زیرِ تفتیش معاملہ ہے اسکولوں کی جانب سے لوگو والی نوٹ بکس اور یونیفارم کی جبری فروخت۔ اس موضوع پر ہونے والی تازہ انکوائری رپورٹ نے نہ صرف والدین کے خدشات کی تصدیق کی ہے بلکہ تعلیم کے نام پر بننے والے ایک غیر اعلانیہ کاروباری نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد اسکولوں میں باقاعدہ طور پر ایسے انتظامی طریقے پائے گئے جن کا مقصد والدین کو مخصوص دکانوں سے مہنگا سامان خریدنے پر مجبور کرنا تھا۔ کچھ اسکول تو براہِ راست نوٹس جاری کرتے ہیں، جبکہ کچھ اس عمل کو خاموشی کے ساتھ اساتذہ اور کلاس کوآرڈینیٹرز کے ذریعے نافذ کرتے ہیں۔ بات بظاہر نوٹ بک اور یونیفارم کی لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے والدین سے لاکھوں روپے کی اضافی رقم نکالنے کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے جسے ’لوگو مارکیٹنگ‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
انکوائری رپورٹ کے مشاہدات انتہائی تشویشناک ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ یہ سامنے آیا کہ لوگو والی نوٹ بکس اور یونیفارم عام مارکیٹ سے 178 فیصد تک مہنگی فروخت کی جا رہی تھیں۔ یہی سادہ نوٹ بک جو بازار میں 60 روپے میں دستیاب ہے، لوگو چھپ جانے کے بعد 150 سے 180 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح یونیفارم کی قیمتیں بھی دوگنی تک بڑھا دی جاتی ہیں۔ والدین جب اعتراض کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ “یہ اسکول کی پالیسی ہے۔” گویا تعلیم کی قیمت اب کتاب یا کاپی کے صفحات میں نہیں، لوگو کے رنگ میں طے ہوتی ہے۔
والدین کے بیانات رپورٹ میں واضح طور پر موجود ہیں، جن میں انہوں نے بتایا کہ اگر وہ اسکول کے مخصوص وینڈر سے سامان نہ خریدیں تو بچوں کو کلاس میں ڈانٹا جاتا ہے، بعض اوقات انہیں الگ بٹھا دیا جاتا ہے، اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اسکول کی پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ بچوں کے اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔ تعلیم جو انسان کو آزاد کرتی ہے، وہی ادارے بچوں کو لوگو اور دکانوں کی غلامی میں دھکیل رہے ہیں۔
قانونی پہلو سے بھی صورتحال واضح ہے۔ صوبائی ریگولیٹری اتھارٹیز پہلے ہی یہ اصول طے کر چکی ہیں کہ کوئی بھی نجی اسکول والدین کو کسی مخصوص وینڈر، دکان یا لوگو والی اشیا خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ اسکول صرف رنگ، معیار اور ڈریس کوڈ کے معیار کا تعین کر سکتا ہے، مگر خریداری کی جگہ والدین کے اختیار میں رہتی ہے۔ لیکن عملی طور پر اسکولوں نے قانون کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کیا اور والدین کو معاشی دباؤ کے تحت خاموش رہنے پر مجبور کیا۔
رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ کچھ اسکول غیر رجسٹرڈ وینڈرز سے منسلک پائے گئے، جو بغیر ٹیکس رسید کے سامان فروخت کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ یہ شبہ بھی زور پکڑتا ہے کہ اسکول انتظامیہ اور وینڈر کے درمیان کمیشن کا غیر رسمی نظام چل رہا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو پھر یہ معاملہ صرف ایک انتظامی بے ضابطگی نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ مالی بے قاعدگی ہے جس کی کھلی چھان بین ہونی چاہیے۔
رپورٹ میں دی گئی سفارشات نہایت اہم ہیں: شوکاز نوٹس، زائد قیمتوں کا خاتمہ، متعلقہ اساتذہ کے خلاف کارروائی، سالانہ آڈٹ اور والدین کے حقوق کی آگاہی—یہ تمام اقدامات اس نظام کو درست سمت میں لا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان پر مستقل اور سنجیدگی سے عمل ہو۔ بصورتِ دیگر چند دن کی کارروائیوں کے بعد نظام دوبارہ اسی پرانی ڈگر پر واپس آ جائے گا۔
مسئلہ کا حل صرف حکومتی کارروائی ہی نہیں بلکہ والدین کے اجتماعی شعور میں بھی ہے۔ اگر والدین متحد ہو کر اصولی مؤقف اپنائیں تو کوئی اسکول انہیں لوگو کی بنیاد پر مالی طور پر کمزور نہیں کر سکتا۔ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو روشنی دینا ہے، نہ کہ والدین کے لیے اضافی معاشی بوجھ پیدا کرنا۔

یہ رپورٹ ایک آئینہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ متعلقہ حکام اس آئینے میں جھانکنے کی جرات کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر اس بار بھی خاموشی چھا گئی تو آنے والے سالوں میں لوگو والی نوٹ بکیں صرف مہنگی نہیں ہوں گی، بلکہ تعلیم بھی کاروباری مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہو جائے گی۔