ٹیکسوں کا بڑھتا بوجھ معاشی تباہی کا راستہ ہے، حکومت حقیقت سے دور ہے: میاں راشد اقبال
ملتان : سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملتان میاں راشد اقبال نے کہاکہ ٹیکسوں کا بوجھ معاشی تباہی کا راستہ ہے، حکومتی دعوؤں اور حقائق میں کھلا تضاد ہے، حکومت معیشت سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کر رہی ہے۔ ایک بیان میں میاں راشد اقبال نے کہا کہ ٹیکسوں کا بھاری بوجھ معاشی تباہی کا راستہ ہے، حکومت 2028ء میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 18 فیصد کرنا چاہتی ہے۔ حکومت ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنا چاہتی ہے، کمزور معیشت پر بھاری ٹیکسز کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔بزنسز سے ٹیکس وصولیاں 2 اعشاریہ 2 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 5 اعشاریہ 3 ٹریلین روپے ہو چکیں، تنخواہ داروں سے ٹیکس وصولیاں 206 فیصد بڑھ چکی ہیں۔تنخواہ داروں سے ٹیکس وصولیاں 188 ارب سے بڑھ کر 580 ارب تک پہنچ چکی ہیں۔ میاں راشد اقبال نے یہ بھی کہا کہ اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے بھاری ٹیکسز سے متعلق رپورٹ دی ہے، 3 برس میں کاروباری گروپس سے 131 فیصد اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔ایف بی آر جان بوجھ کر ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 10 فیصد ظاہر کر رہا ہے، درحقیقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 12 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ ٹیکسوں کا بوجھ 10 فیصد سے بڑھ کر 12 اعشاریہ 2 فیصد ہو چکا ہے، 3 سال میں پیٹرولیم لیوی وصولیوں میں 760 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی 4 فیصد سے کم رہی ہے، ٹیکس وصولیوں اور جی ڈی پی میں تضاد سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری آنے کی بجائے غیر ملکی کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹ کر واپس جارہی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ 45فیصد ٹیکسز ،اس کے اوپر سپر ٹیکس ،پالیسی ریٹ ، مہنگے یوٹیلٹی بلز اور امن و امان کی صورتحال ہے ،منافع واپس لے جانے کے حوالے سے قدغن بھی ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مقامی اورغیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحان کے لئے مراعات اور سہولیات کا پیکج دیاجائے، ون ونڈو کا ڈھنڈورا تو پیٹا جاتا ہے لیکن سرکار ی محکموں کے افسران اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں جس سے سرمایہ کار سرمایہ لگانے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں ، انصاف کی فراہمی کے حوالے سے بھی معاملات تسلی بخش نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے اپیل ہے کہ ایز آف ڈوئنگ بزنس کو فروغ دیا جائے،یوٹیلٹی بلز اور ٹیکسز ریٹس کم کئے جائیں،سرکاری اداروں کی مداخلت کو کم کیا جائے ،ملکی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو قانون ، انصاف اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا یقین دلائیں پھر معاشی استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی ۔









































Visit Today : 229
Visit Yesterday : 460
This Month : 10112
This Year : 57948
Total Visit : 162936
Hits Today : 1554
Total Hits : 790732
Who's Online : 2






















