محسن کُش ثقافت: صدقہ جاریہ بھی تنقید کی زد میں

تحریر: زین العابدین عابد

چھ سال سے مجھے ایک ایسی شخصیت کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے جو نہ صرف ایک کامیاب صنعت کار ہیں بلکہ نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے فعال رکن بھی۔ وہ اپنے شہر کے لوگوں کے معیارِ زندگی میں بہتری، روزگار کی فراہمی اور سماجی بہبود کے منصوبوں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔” میری اس تحریر کو شخصیت پرستی نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ ایک کڑوی سچائی کا بیان ہے۔”
اصل دکھ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ محسن کُشی کی عادت میں مبتلا ہو چکا ہے۔ یہاں وہ لوگ، جو برسوں کے فائدے کے لیے رفاہِ عامہ کے منصوبے بناتے ہیں، عوام کی بے قدری کا نشانہ بنتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ سرکاری سطح پر کوئی بھی عوامی بھلائی کا کام چند ماہ سے زیادہ قائم نہیں رہتا، اور مخیر حضرات کے منصوبے بھی دو تین ماہ بعد طنز، توڑ پھوڑ اور ناقدری کی نذر ہو جاتے ہیں۔
ہم بطور قوم تعریف اور تحسین کے بجائے عیب جوئی، بدگمانی اور تنقید کو اپنا فرض سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہماری اجتماعی سوچ اب یہ ہے کہ اچھا کام کرنے والا کوئی بھی شخص ’’ضرور کسی خفیہ مقصد‘‘ کے تحت کام کر رہا ہوگا۔ یہی ذہنیت تباہی کی اصل جڑ ہے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ ماضی میں عبدالستار ایدھی جیسے عظیم محسنِ انسانیت کے خلاف کیسی گھناؤنی مہم چلائی گئی۔ کبھی انہیں قادیانی کہا گیا، کبھی ناجائز بچوں کا رکھوالا، کبھی کفن چور۔ وقت نے مگر ہر الزام کو جھوٹا ثابت کیا۔ فرقہ واریت کی ایک لہر میں وہ مولوی صاحب خود قتل ہو گئے جو ایدھی کے خلاف فتوے دیتے تھے۔ اور پھر تاریخ نے ایک عجیب منظر دیکھا، قتل گاہ سے جنازے کی جانب بڑھتی ایمبولینس، پیچھلا دروازہ کھلا ہوا، لوگ ہاتھ بڑھا کر مرحوم کے جسدِ خاکی پر پڑے سفید کپڑے کو چھو رہے ہیں۔ جن کے ہاتھ پہنچ نہ پاتے، وہ عقیدت سے ایمبولینس کو چھونے کی کوشش کرتے۔
وہ کپڑا…
وہ سفید کپڑا جس پر “ایدھی” لکھا تھا۔
نہ وہ کسی مفتی کا دیا ہوا کفن تھا، نہ کسی مدرسے کی اعانت تھی، یہ منظر بتا رہا تھا کہ محسن وہی ہے جسے خدا محسن کہہ دے، نہ کہ وہ جس کے حق یا مخالفت میں فتوے لکھے جائیں۔
ہمارا معاشرہ اگر اپنے محسنوں کی قدر کرنا سیکھ لے تو شاید رفاہِ عامہ کے منصوبے بھی چلیں، اور قوم بھی سنور جائے۔ مگر افسوس! ہم آج بھی انہیں گراتے ہیں جو ہمیں اٹھانا چاہتے ہیں۔
یہاں ایک واقعہ لکھ رہا ہوں جو میرے سامنے پیش آیا، نہایت دکھ ہوا ، اسی دکھ کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ نیو شاہ شمس کالونی اور سبزواری ٹاؤن میں جب سے اس محسنِ شہر نے عوام کے لیے مفت، معیاری اور محفوظ پانی کی فراہمی کے لیے آر او واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کیے ہیں، چند نام نہاد لوگ—جن کے نام میں دانستہ نہیں لکھ رہا—مسلسل تنقید، بدکلامی اور ناشکری کے طوفان میں مصروف ہیں۔
ایک نوجوان نے تو حد ہی کر دی؛ دھمکی دیتے ہوئے کہا: “اس زمین کے کاغذات دکھاؤ!” گویا انسانیت کی خدمت کے لیے لگایا جانے والا یہ صدقۂ جاریہ بھی ان کی بیمار ذہنیت کی عدالت میں مجرم ٹھہرا۔ ان لوگوں کی سوچ کا خلاصہ یہ ہے کہ اس رفاہی منصوبے کے پیچھے ضرور کوئی مفاد، کوئی لالچ، یا کوئی چھپا ہوا مقصد ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی سوچ صرف منفی ذہنوں کے اندھیرے میں جنم لے سکتی ہے۔
جو لوگ صحابہ کرامؓ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے خلقِ خدا کو پانی فراہم کرنے کی روایت کو زندہ رکھ رہے ہیں، ان کے بارے میں بدگمانی کبھی سرزمینِ حقیقت پر قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ منفی سوچ ہمیشہ ناکام ہی رہے گی۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ بعض اوقات واٹر پلانٹ پر موجود گارڈز کے ساتھ بھی بدتمیزی کی جاتی ہے، اور محسنِ ملتان کے اس نیک کام پر اپنی آلودہ زبانوں سے نفرت اگلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سب عمل دراصل گھریلو تربیت کی شکست کا نوحہ ہے۔ لیکن منافقت کا یہ تماشا یہاں ختم نہیں ہوتا۔ میں نے خود بارہا دیکھا ہے کہ یہی لوگ جو دن میں گالیاں بکتے ہیں، رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح منہ چھپا کر آتے ہیں اور اسی مفت پانی سے اپنے برتن بھر کر لے جاتے ہیں، وہ منصوبہ یا پانی جسے دن میں برا کہتے اور رات کو چپکے سے استعمال کرتے ہیں۔
یہ ہے وہ المیہ… کہ ہمیں اپنے محسن کی قدر کرنے کا حوصلہ نہیں، مگر اس کے عطیے سے فائدہ اٹھانے میں کوئی جھجھک نہیں۔
ہمارے معاشرے میں مخیر حضرات کی کوئی کمی نہیں، مگر افسوس کہ ان کے ہر مفید، خیرخواہ اور رفاہی کام کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنا کر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ حیرت یہ ہے کہ یہ تنقید وہی لوگ کرتے ہیں جنہوں نے کبھی خود کسی کے لیے ایک نیک قدم تک نہیں اٹھایا۔ زبان ان کی تیز ہے، مگر عمل صفر۔
ملتان میں پیپسی کولا فیکٹری کی انتظامیہ نے شہریوں کے لیے مفت، میعاری اور محفوظ پانی کی فراہمی کا ایک قابلِ تحسین سلسلہ شروع کیا تھا۔ یہ منصوبہ عوام ہی کی سہولت کے لیے تھا، مگر انجام وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے—
لوگوں نے وہاں لڑائی جھگڑے شروع کر دیے، وال کھول کر پانی ضائع کیا، ٹوٹیاں توڑ دیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا منصوبہ برباد ہوگیا۔ آخرکار اسے بند کر دینا پڑا۔ یہی ’’ناقدِ بےعمل‘‘ ہر گلی اور ہر محلے میں موجود ہیں، جو دوسروں کے اچھے کاموں کو تباہ کرنے میں تو ماہر ہیں، مگر خود کچھ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
ہمیں اپنی اجتماعی سوچ بدلنا ہوگی۔ جب تک ہم ایسی شخصیات کی قدر نہیں کریں گے جو ہمارے معاشرے کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے اپنی دولت، وقت اور محنت وقف کر دیتے ہیں، تب تک کوئی رفاہی منصوبہ پائیدار نہیں رہ سکتا۔ مخیر حضرات جو بھی کام کریں، اس کی حفاظت اور نگرانی ہم عوام کی ذمہ داری ہے؛ ورنہ چند ناہنجار افراد کے ہاتھوں بڑے بڑے نیک کام بھی بربادی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارا اخلاقی زوال اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ مساجد میں پانی پینے کے لیے رکھے گئے گلاس تک کو زنجیر سے باندھنا پڑتا ہے—تاکہ کوئی چرا نہ لے۔ یہ منظر ہماری معاشرتی شکست کا نوحہ ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ’’قدر شناس‘‘ قوم بننا چاہتے ہیں یا ’’محسن کُش‘‘ قوم… کیونکہ دونوں راستے ایک ساتھ نہیں چلتے۔