گندم کی غیر منصفانہ تقسیم قبول نہیں، تمام ملوں کو برابری کی بنیاد پر گندم دی جائے،،جنوبی پنجاب فلور ملز کا سخت احتجاج و پریس کانفرنس
ملتان: اتحاد گروپ فلور مل ایسوسی ایشن جنوبی پنجاب کے صدر چوہدری مسعود عزیز، حافظ خضر عباس، شیخ کاشف، رانا قیصر، ملک زبیر ڈوگر، میاں جواد حفیظ، ملک عبدالستار، طاہر امیر غوری، ملک محمد ارشد، ملک طاہر شفیق، ملک محمد عثمان، شیخ ارشد ودیگر رہنماؤں نے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فلور ملز انڈسٹری کو سنگین انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔ پنجاب حکومت اور آواز گروپ فلور ملز ایسوسی ایشن لاہور کے درمیان ہونے والے فیصلوں پر جنوبی پنجاب کے مل مالکان کو شدید تحفظات ہیں، اس لیے یہ فیصلے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی فلور ملز کے مسائل کے حل کے لیے ’’اتحاد گروپ فلور مل ایسوسی ایشن جنوبی پنجاب‘‘ تشکیل دی گئی ہے تاکہ ناانصافی اور حق تلفی کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام فلور ملز کو برابری کی بنیاد پر گندم فراہم کی جائے، چھوٹی اور بڑی ملوں میں کوئی تفریق نہ رکھی جائے اور جنوبی پنجاب کی فلور ملز کو آنے (آٹے) کے پرمٹ فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ اپر پنجاب ہمیشہ جنوبی پنجاب کے مسائل کو نظر انداز کرتا آیا ہے، حالانکہ جنوبی پنجاب کی فلور ملز نہ صرف اپنے علاقے بلکہ اپر پنجاب اور دوسرے صوبوں تک آٹے کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کی ملوں کا حق چھین کر اپر پنجاب کو دیا جا رہا ہے، جو غیر منصفانہ اور ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی فلور ملز کو 3000 روپے فی من والی گندم بھی فراہم نہیں کی جارہی، جبکہ یہ تاثر غلط دیا جارہا ہے کہ یہاں وافر گندم موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں دستیاب گندم کا ریٹ 3700 روپے فی من ہے، جس سے 1800 روپے والا آٹے کا تھیلا فراہم کرنا ممکن نہیں۔ دوسری جانب اپر پنجاب کو 1300 روپے والی گندم دی جارہی ہے، یہ کھلی زیادتی ہے۔ وفد نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں مسلمہ فعال ملوں کو بھی ’’نان فنکشنل‘‘ قرار دے کر گندم سے محروم رکھا گیا ہے، حالانکہ ان کی مشینری فعال، میٹر ریڈنگ مکمل اور تمام ٹیکسز، سوشل سکیورٹی، مارکیٹ کمیٹی، اولڈ ایج بینیفٹ اور دیگر واجبات باقاعدگی سے ادا کیے جاتے ہیں۔ صرف پورٹل پر ڈیٹا نہ اپ لوڈ ہونے کی بنیاد پر ملوں کو غیر فعال قرار دینا زیادتی ہے۔ رہنماؤں نے الزام لگایا کہ محکمہ خوراک جن ملوں سے گندم ضبط کرتا ہے وہ بھی اپر پنجاب کو 3000 روپے فی من میں دے رہا ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کی ملوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ فوڈ کے سیکریٹری اور ڈپٹی سیکریٹری جنوبی پنجاب میں تعینات کیے جائیں اور فلور ملز یونین کا دفتر بھی یہاں قائم کیا جائے۔ اتحاد گروپ فلور مل ایسوسی ایشن کا پہلا باضابطہ اجلاس رحیم یارخان میں منعقد ہوا جس کی صدارت چوہدری مسعود عزیز نے کی۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ اتحاد گروپ نہ صرف جنوبی پنجاب کی فلور ملز کے حقوق کی آواز بنے گا بلکہ کسی کو ذاتی مفادات کے لیے اس فورم کو استعمال نہیں کرنے دے گا۔ رہنماؤں نے کہا کہ کچھ عناصر جنوبی پنجاب کی فلور مل انڈسٹری کے کاروباری مفادات کو نظرانداز کر کے ذاتی فائدے کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ جنوبی پنجاب کے تمام فلور مل مالکان متحد ہیں اور اپنے حقوق کے لیے منظم جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر رہنماؤں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور ڈی جی فوڈ سے مطالبہ کیا کہ جنوبی پنجاب کی فلور ملز کو برابری کی بنیاد پر گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے، آٹے کی صنعت کو فعال کیا جائے اور عوام کو مناسب نرخوں پر آٹا فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔









































Visit Today : 134
Visit Yesterday : 608
This Month : 9557
This Year : 57393
Total Visit : 162381
Hits Today : 4969
Total Hits : 778125
Who's Online : 2






















