ملتان (صفدربخاری سے)  ملتان کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے حاملہ خاتون ثانیہ زہرا قتل کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے شوہر علی رضا کو سزائے موت کا حکم سناتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن ملزم کے خلاف قتل کے الزام کو ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ فیصلہ دوپہر تین بجے سنایا جانا تھا تاہم چھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد رات نو بجے جاری کیا گیا۔ عدالت نے شریکِ جرم دو ملزمان، مقتولہ کے دیور حیدر رضا اور ساس عذرا پروین کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ سسر جیون شاہ، نند دعا زہرہ اور ملزم کی سابقہ بیوی مدیحہ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا۔ ثانیہ زہرا کی پھندا لگی لاش 9 جولائی 2024 کوتھانہ نیو ملتان کے علاقے میں سسرالی گھر کے کمرے سے برآمد ہوئی تھی۔ مقتولہ چھ ماہ کی حاملہ تھی۔ پولیس نے قتل کے شبے میں شوہر سمیت چھ افراد کو نامزد کرتے ہوئے تھانہ نیو ملتان میں مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمہ مقتولہ کے والد اسد عباس شاہ کی مدعیت میں درج ہوا۔ عدالتی کاروائی کے دوران مقدمے کی 49 سماعتیں ہوئیں جبکہ 25 اپریل 2025 کو چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔ مدعی پارٹی کی جانب سے وکلاء شہریار احسن اور میاں رضوان ستار نے دلائل دیے جبکہ ملزمان کی پیروی ضیاء الرحمان رندھاوا ایڈووکیٹ نے کی۔ پراسیکیوشن کی نمائندگی ڈپٹی پراسیکیوٹر میاں بلال نعیم نے کی۔ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر مرکزی ملزم علی رضا کو پولیس نے ہتھکڑیوں میں عدالت میں پیش کیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد مقتولہ کے اہلِ خانہ نے کہا کہ ہمیں انصاف ملا ہے۔ بری ہونے والے ملزمان نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ سزا یافتہ ملزمان کے لواحقین نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔