“شکایات کا ڈیجیٹل سفر: وزیراعظم سٹیزن پورٹل اور وزیر اعلیٰ پنجاب شکایت سیل—وعدے، حقیقت اور مایوس شہری”

تحریر: کلب عابد خان

رابطہ: 03009635323

پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ کے دعوؤں کے ساتھ وزیراعظم سٹیزن پورٹل اور وزیر اعلیٰ پنجاب شکایت سیل ایسے اقدامات تھے جنہوں نے شہریوں میں یہ امید پیدا کی کہ اب عوامی مسائل کے حل کا راستہ آسان، تیز اور طاقتور ہوگا، لیکن عملی صورت حال اکثر اس کے برعکس سامنے آتی ہے۔ جب یہ پورٹل متعارف کروائے گئے تھے تو عوام نے سوچا کہ شاید اب محکمہ جاتی تاخیر، سفارش کلچر، رشوت، فائلوں کی گرد اور دفتر در دفتر چکر لگانے کا دور ختم ہو جائے گا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ ٹیکنالوجی کے باوجود جب تک انسان سنجیدہ نہ ہوں، نیت مضبوط نہ ہو اور سسٹم جوابدہ نہ ہو، مسائل حل ہونے کے بجائے اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم سٹیزن پورٹل کا مقصد ملک کے کسی بھی کونے میں بیٹھے شہری کی آواز براہِ راست مرکز تک پہنچانا تھا، اور ابتدا میں کچھ کیسز نے واقعی لوگوں کو امید دی بھی، مگر جیسے ہی شکایت متعلقہ محکمے تک جاتی ہے، وہی پرانی سرکاری بے حسی جاگ اٹھتی ہے جہاں افسران بوجھ سمجھ کر فائل ایک سے دوسرے میز پر منتقل کرتے رہتے ہیں۔ شہری اپنی شکایت کا “اسٹیٹس اپڈیٹ” دیکھتے رہتے ہیں مگر ان کی زندگی میں کوئی عملی تبدیلی نہیں آتی۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب شکایت سیل بھی بظاہر ایک بہترین اقدام تھا، لیکن جب شکایات چھوٹے اہلکاروں کے حوالے ہوئیں جن کے پاس نہ فیصلہ کرنے کا اختیار تھا اور نہ ہی محکموں کو ایکشن پر مجبور کرنے کی طاقت، تو شکایات محض رسمی کارروائی اور خانہ پُری کی فائل بنتی چلی گئیں۔ ایک عام شہری کے لیے سب سے بڑی مایوسی یہ ہوتی ہے کہ اس کی شکایت “حل شدہ” دکھا دی جاتی ہے مگر حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہوتا، نہ مسئلہ ٹھیک ہوتا ہے اور نہ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا آپ کا مسئلہ واقعی حل ہوا یا نہیں۔ یہی وہ بنیادی خامی ہے جو پورے نظام پر سوالیہ نشان بن کر کھڑی ہے۔ شہری پوچھتے ہیں کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو شکایت بند کرنے سے پہلے شہری سے لازمی تصدیق کیوں نہیں لی جاتی؟ اکثر اوقات محکمے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے الٹا شہری کو قصوروار قرار دے دیتے ہیں، وہی پرانی زبان، وہی پرانی روایت: “شکایت غلط پائی گئی” یا “مسئلہ درخواست گزار کے ذاتی معاملے سے متعلق ہے”۔ جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ مسئلہ حل کرنے کی نیت ہی موجود نہیں ہوتی۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے شہری شکایت کرتے ہیں کہ شکایت سیل پر کارروائی چھوٹے اہلکار کرتے ہیں اور افسران محض کاغذوں میں اعداد و شمار پورے کرتے ہیں۔ بیوروکریسی، نااہلی اور غیر سنجیدگی اس نظام کو کمزور کر چکی ہے۔ کئی محکمے شکایات کو بوجھ سمجھتے ہیں، اور ان پر کارروائی کرنے کے بجائے جلدی سے وہ رپورٹس بنا دیتے ہیں جو سسٹم کو مطمئن تو کر دیتی ہیں مگر شہری کو نہیں۔ مسئلہ تب حل ہوتا ہے جب نیت ہوتی ہے، صرف ٹیکنالوجی مسئلے حل نہیں کرتی۔ بہت سے لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ شکایت کچھ دنوں بعد بغیر کارروائی کے “ڈسپوزڈ” کر دی جاتی ہے، اور شہری حیران رہ جاتا ہے کہ آخر کس بنیاد پر اسے حل شدہ قرار دے دیا گیا؟ کچھ شکایات مہینوں تک “انڈر پراسس” میں پڑی رہتی ہیں، اور شہری ہر بار وہی جملہ سنتا ہے کہ “آپ کی شکایت پر کارروائی جاری ہے”، مگر زمین پر کچھ بھی نہیں ہو رہا ہوتا۔ وزیراعظم پورٹل اور وزیر اعلیٰ شکایت سیل دونوں کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ افسران ذاتی دلچسپی نہیں لیتے اور چھوٹے اہلکار بے اختیار ہوتے ہیں۔ جب ایک چھوٹے اہلکار کو بڑے مسئلے کی رپورٹ بنانے کا کہا جاتا ہے اور اس کے پاس نہ اختیار ہوتا ہے نہ ہمت، تو وہ صرف رسمی کارروائی کرتا ہے تاکہ اپنی ذمہ داری پوری دکھائی دے۔ اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان شہری کا ہوتا ہے جو اپنی امید لے کر شکایت درج کرتا ہے اور مایوسی لے کر واپس جاتا ہے۔ محکموں کے درمیان رابطے کی کمی بھی اس نظام کو غیر موثر بنا دیتی ہے۔ ایک شکایت کئی محکموں سے متعلق ہوتی ہے مگر کوئی بھی ادارہ اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا، ہر محکمہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی شکایات بھی مہینوں تک حل نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر، سیوریج کی ٹوٹی لائن، تجاوزات، پانی کی بندش، لینڈ ریکارڈ کی غلطی، پولیس رویہ، پٹواریوں کی بدعنوانی یا سرکاری دفاتر کی سستی—یہ وہ ایشوز ہیں جو پورے سسٹم کے ناکارہ پن کو ظاہر کرتے ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پورٹلز پر کام کرنے والا ہر فرد جوابدہ ہو، ہر افسر سے پوچھا جائے کہ شکایت مقررہ وقت میں کیوں حل نہیں ہوئی، اہلکاروں کو بااختیار بنایا جائے، شہری سے تصدیق کیے بغیر شکایت بند نہ کی جائے، اور ہر محکمے کی کارکردگی کو عوام کے سامنے شفاف انداز میں جاری کیا جائے۔ حکومت اگر واقعی چاہتی ہے کہ یہ پورٹل کامیاب ہوں تو اسے صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ دلچسپی، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں پر بھی عمل کرنا ہوگا۔ عوامی خدمت تب ہی مضبوط ہوگی جب یہ پورٹل محض دکھاوے کے اوزار نہیں بلکہ عملی سہولت بنیں۔ اگر یہ نظام بدل جائے تو یہی پورٹل پاکستان میں گورننس کا نیا باب کھول سکتے ہیں، لیکن اگر اسی بے حسی اور روایتی طریقے سے چلتے رہے تو عوام کا اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا، اور شہری یہی سوال پوچھتے رہ جائیں گے کہ آخر شکایات کے اس ڈیجیٹل دور میں بھی ان کا مسئلہ حل کیوں نہیں ہوتا؟ جب تک نیت، اختیار اور جوابدہی حقیقت نہ بنیں، یہ پورٹل عوام کے لیے سہولت سے زیادہ مایوسی کا ذریعہ رہیں گے۔