ڈائبیٹیز ڈے آگاہی احتیاط ایک بیٹی کی نظر سے

تحریر: ایس پیرزادہ

ہر سال 14 نومبر کو عالمی یومِ ذیابیطس منایا جاتا ہے اس دن کا مقصد اس خاموش مگر تکلیف دہ مرض کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ ڈائبیٹیز محض ایک بیماری نہیں بلکہ طرزِ زندگی اور مستقل ذمہ داری کا نام ہے پاکستان میں یہ بیماری تیزی سے عام ہو رہی ہے اور اس کے اثرات لاکھوں افراد برداشت کر رہے ہیں
میری نظر میں یہ دن کوئی رسمی دن نہیں بلکہ ذاتی تجربات اور کرب سے بھرا ہوا ہے میں نے اس بیماری کو کتابوں سے نہیں بلکہ اپنے والدین کی زندگی میں دیکھا میرے والد صاحب میٹھے کے بے حد شوقین تھے میں نے ان کی ہاتھوں کی کپکپاہٹ جسمانی کمزوری شوگر لیول کی کمی بیشی اور پرہیز کی سختیوں کو بہت قریب سے محسوس کیا ان کے لیے میٹھا چھوڑنا سب سے مشکل مرحلہ تھا مگر بیماری نے زندگی کے کئی لطف محدود کر دیے
اس کے برعکس میری والدہ نے کبھی زندگی میں میٹھا پسند نہیں کیا لیکن پھر بھی وہ ڈائبیٹیز کا شکار ہو گئیں یہ منظر میرے لیے حیرت کا باعث تھا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ شگر میٹھا کھانے سے ہوتی ہے مگر یہ دونوں تجربے ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن تکلیف احتیاط دوائیں انسولین کمزوری اور ذہنی دباؤ یہ سب مشترکہ تھے دونوں کو سنبھالتے ہوئے میں نے سیکھا کہ ڈائبیٹیز صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی اور ذہنی آزمائش بھی ہے جو مریض کے ساتھ ساتھ گھر والوں کے صبر کا امتحان بھی لیتی ہےآج کی نسل کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنی غذائی اور روزمرہ عادات پر نظر ثانی کرے۔ چینی کا زائد استعمال ورزش نہ کرنا، نیند کی کمی ذہنی دباؤ اور موٹاپا یہ سب اس بیماری کو جنم دیتے ہیں یہ بیماری دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیتی ہے اگر ہم اپنی زندگی میں چند معمولی تبدیلیاں لے آئیں تو اس بیماری سے بچاؤ ممکن ہے روزانہ چہل قدمی،م مناسب ایکسرسائز صحت مند خوراک اچھی نیند اور وقتاً فوقتاً میڈیکل چیک اپ یہ سب زندگی کو بیماری کے خطرات سے محفوظ بنا سکتے ہیں ڈائبیٹیز ہمیں سکھاتی ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے میں بطور بیٹی یہ محسوس کرتی ہوں کہ مریض کو سب سے زیادہ سہارا گھر والوں سے ملتا ہے کیئر محبت اور صبر اس بیماری کے مقابلے میں سب سے بڑی طاقت بن جاتے ہیں زندگی میں کچھ لڑائیاں مستقل ہوتی ہیں مگر انہیں آسان بنایا جا سکتا ہے توجہ نظم اور پیار سے عالمی یومِ ذیابیطس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے میں مزید آگاہی پیدا کرنی ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس مرض سے محفوظ رہ سکیں اور کوئی بھی بیٹی اپنے والدین کو وہ تکلیف سہتے نہ دیکھے جو میں نے دیکھی آخر میں میرا دنیا بھر کے شوگر کے مریضوں کے نام یہ پیغام ہے کہ اپنی زندگی میں نظم پیدا کریں روزانہ چہل قدمی اور ایکسرسائز کو عادت بنائیں متوازن اور پرہیزی کھانا کھائیں اچھی اور پوری نیند لیں ذہنی دباؤ سے بچیں اور وقتاً فوقتاً اپنا شوگر لیول چیک کرواتے رہیں زندگی کی بہتر سمت انہی چھوٹی مگرمضبوط عادتوں سے بنتی ہے اللہ پاک ہم سب کو کسی بھی مرض سے محفوظ رکھے کیونکہ سدا بادشاہی صحتِ کی ہے