تحریر: ایس پیرزادہ

کبھی کبھی وطن کے لیے لمحے ایسے آتے ہیں جب لفظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں اور جذبے خود بولنے لگتے ہیں ایسا ہی لمحہ وہ تھا جب دشمن نے ایک بار پھر ہمارے تعلیمی ادارے اور انصاف کے دروازے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اسلام آباد کے عدالتی کمپلیکس کے باہر دھماکہ اور کیڈٹ کالج پر حملے کی خبر جیسے ہی ملی دل تھم سا گیا مگر اگلے ہی لمحے فخر سے سر بلند ہو گیا جب ہماری بہادر افواج نے برق رفتاری سے دشمن کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا
میں نے وہ منظر تصور میں دیکھا نوجوان کیڈٹس ان کے چہروں پر حیرت اساتذہ کے دلوں میں دعا اور پھر پاک فوج کے سپاہیوں کی فوری کارروائی جس نظم و ضبط سے انہوں نے بچوں کو محفوظ نکالا حملہ آوروں کو گھیر کر انجام تک پہنچایا وہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا یہی وہ لمحے ہیں جب ایک شہری کے دل سے بے ساختہ نکلتا ہے
ہمیں تم پر ںاز ہے اے فوج
اسلام آباد کے کمپلیکس میں جو کچھ ہوا وہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ چہرہ بدل کر حملہ آور ہوتی ہے مگر ہم بھی وہی قوم ہیں جنہوں نے بار بار جل کر خود کو زندہ رکھا ہماری افواج نے نہ صرف دشمن کو روکا بلکہ پورے ملک میں ایک پیغام بھی دیا کہ اب کوئی طاقت ہمارے حوصلے ایمان اور اتحاد کو شکست نہیں دے سکتی میں ایک عورت ہوں ایک قلمکار ہوں ایک شہری ہوں میں جب بھی ایسے حالات دیکھتی ہوں تو دل میں ایک سوال اٹھتا ہے آخر یہ کون سی قوتیں ہیں جو تعلیم گاہوں اور عدالتوں کو نشانہ بناتی ہیں؟کیا ان کا مقصد ہمیں خوفزدہ کرنا ہے؟کیا وہ نہیں جانتے کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو شہادت کو شکست نہیں سمجھتی بلکہ فخر مانتی ہے؟ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب دشمن نے وار کیا ہم نے زخم سہہ کر بھی پرچم کو جھکنے نہیں دیاجب دہشت گردی نے ہمارے سکولوں کو جلایا ہم نے نئے اسکول بنا کر جواب دیا جب حملہ آوروں نے مسجدوں میں خون بہایا ہم نے صفوں میں کھڑے ہو کر پھر اللہ اکبر کہا
پاک فوج پولیس رینجرز اور وہ تمام ادارے جو خاموشی سے اس ملک کی حفاظت میں مصروف ہیں
وہ ہماری آنکھوں کے محافظ ہیں ہماری نیندوں کے امین ہیں
ہمیں ان پر فخر ہے مگر اس فخر کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہےکہ ہم بطور قوم اپنی صفوں میں یکجہتی پیدا کریں نفرتوں کو دفن کریں اور اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے
آج اس موقع پر میں ہر پاکستانی کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں
کہ دہشت گردی صرف بارود سے نہیں خاموشی سے بھی پھیلتی ہےاگر ہم نے اپنی زبانوں سے شک، مایوسی اور انتشار کو نہ روکا تو ہم بھی اس جنگ کے غیر مرئی دشمن بن جائیں گےاب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ سپاہی بنیں کوئی قلم سے کوئی دعا سے کوئی خدمت سےاللہ تعالیٰ ہمارے ملک ہماری فوج ہمارے شہداء اور اُن کے خاندانوں کو اپنی امان میں رکھے آمین
یہ وطن اُن کی قربانیوں کا قرض دار ہے جنہوں نے خود کو مٹا کر ہمیں محفوظ رکھا میرا سلام اُن تمام ماؤں کو جنہوں نے بیٹوں کو شہید ہونے کے لیے نہیں ملک بچانے کے لیے رخصت کیا
اور میرا ایمان ہے جب تک ہم ایک ہیں پاکستان زندہ ہے پاکستان زندہ رہے گا انشاللہ
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد