ڈینگی بخار کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ، انتظامیہ کے دعوے بے نقاب

تحریر:عبدالرئوف مان

ڈینگی بخار کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ، انتظامیہ کے دعوے بے نقاب ویسے توپنجاب بھر میں ڈینگی بخار لوگوں کی اپنی لپیٹ میں لے رہاہے،تاہم ملتان میں ڈینگی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز نےجہاں شہریوں کو خوف زدہ کردیا ہے، وہاں ضلعی انتظامیہ کے دعوئوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے،ڈینگی پر قابو پا نے کے لیے عملی اقدامات کی بجائے انتظامیہ ’’ڈینگی کنٹرول مہم ‘‘ کے بینرز آویزاں کرنے میں مصروف ہے،اس بار بھی دعوے بہت ہوئے مگر عملی کارکردگی صفر،انسدادِ ڈینگی کے نام پر چند روزہ سپرے مہم چلائی جاتی ہے، افسران فوٹو سیشن کرتے ہیں اور میڈیا میں کامیابی کے بیانات جاری ہوتے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈینگی مچھر بینروں اور تقریروں سے نہیں، گلیوں اور نالیوں کی صفائی سے ختم ہوتا ہے،محکمہ صحت کے ناکافی وسائل، بوسیدہ نظام اور ڈینگی کنٹرول کے لیے فیلڈ ٹیموں کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ محکمہ صحت کے حکام نے ضلع ملتان میں کام کرنے والے 700کے قریب ڈینگی ورکرز کو کچھ عرصہ قبل فارغ کردیا تھا،یہ ورکرز کئی ماہ کی تنخواہیں نہ ملنے پر بطور احتجاج سڑکوں پر رہے ،اب ان کی جگہ مختلف ہسپتالوں کے کام کرنے والے وارڈز بوائزاور درجہ چہارم کے ملازمین سے کام چلایا جارہا ہے،جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں لاروا چیکنگ ٹیمیں یا تو موجود ہی نہیں یا بغیر تربیت کے کام کر رہی ہیں۔ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام پرانا ہے، متاثرہ علاقوں کی نشاندہی تاخیر سے ہوتی ہےاور اسپرے اکثر اس وقت کیا جاتا ہے کہ جب مریضوں کی تعداد بڑھ چکی ہوتی ہے۔یوں تو ڈینگی کا بخار ہرسال ہی لوگوں پر حملہ آور ہوتا ہے ،لیکن اس بار ایک حیران کن چیز سامنے آئی ہے ،ڈینگی کا سدباب کرنے کی بجائے اس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو دبایا جارہا ہے،مطلب اس مرض کی ’’انڈر رپورٹنگ‘‘ کی جارہی ہے،مصدقہ کیسز کو ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ نہیں کیا جارہا ،نجی ہسپتالوں اور لیبز کو شائد کوئی ہدایت کی گئی ہےکہ وہ ڈینگی کی (این ایس 1) رپورٹ باقاعدہ طور پر جاری نہ کریں،تاکہ کیسز ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ ہونےکی نوبت ہی نہ آسکے،شاید یہ ہی وجہ ہے کہ شہر کے بعض معروف نجی ہسپتال ڈینگی کا مریض داخل کرنے سے گریز کررہے ہیں،بتایا گیاہے کہ اس وقت ملتان شہر صرف150کے لگ بھگ کیسز ڈینگی ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ ہیں ،جب کہ حقیقت یہ ہےکہ ڈینگی کے سینکڑوں کیسز شہر میں موجود ہیں،طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ روزانہ 50سے زائد ڈینگی کے کیسز سامنے آرہے ہیں،دن بدن ڈینگی بخار بے قابو ہورہا ہے،اگر صرف شہر کے سرکاری ونجی ہسپتالوں اور لیبزکا کلینیکل آڈٹ کرایا جائے تو ہوشربا اعداوشمار سامنے آسکتے ہیں،کیوں کہ ان جگہوں سے ڈینگی کے کیسز ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ ہی نہیں کیے جارہے ہیں،اب پتہ نہیں کون سی طاقت ہے جو لیبز کو ڈینگی کی (این ایس 1) رپورٹ جاری کرنے سے روک رہی ہے،اس ضمن میں ایک دلچسپ بات سن لیجیے،ملتان کے ایک سابق ڈپٹی کمشنر کی اہلیہ کو ڈینگی ہوگیا،تاہم ایک نجی لیب کی جانب سے ان کو این ایس 1کی رپورٹ نہیں دی گئی ،بڑی مشکل سے سابق ڈپٹی کمشنر نے اپنے اثرورسوخ سے وہ رپورٹ حاصل کی،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ڈینگی کے کیسز کو کس طرح دبایا جارہا ہے،رپورٹ میں ڈینگی ٹیسٹ پازییٹو نکلا،اس وقت صورت حال یہ کے ہرتیسرے چوتھے گھر میں کوئی نہ کوئی فرد ڈینگی بخار کی زد میں آیا ہوا ہے،بعض گھروں میں تو بڑے چھوٹے تمام ہی اس کی لپیٹ میں ہیں،کیسز چونکہ باقاعدہ رپورٹ نہیں ہورہے، اس لیے سب اچھا کی رپورٹس اوپر بھیجی جارہی ہیں،بتایا گیاہے کہ جونمایاں شخصیات ڈینگی کی زد میں آئیں، ان میں نشتر ہسپتال شعبہ ریڈیالوجی کے رجسٹرار راؤ قمراور ان کی بیٹی ،سپیشل سیکرٹری سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب محمد امین اویسی ،ڈی ایس پی راؤ طارق،سابق ڈائریکٹر کالجز ملتان کی صاحبزادی ،مختلف محکموں اور اداروں کے بعض افسران سمیت بہت سے لوگ شامل ہیں، اس حوالے سے ایک دوسرے رخ کی طرف بھی نظر ڈالتے ہیں ،انسداد ڈینگی کی مہم میں شہریوں کا رویہ اور کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گھروں میں گملوں، بالٹیوں اور پرانے برتنوں میں جمع پانی مچھروں کی افزائش کا ذریعہ بنتا ہے،لیکن عام شہری اس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ٹیسٹ سے گریز، خود علاجی اور احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنا صورتحال کو مزید بگاڑ دیتا ہے،تاہم بنیادی ذمہ داری حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی ہے جو وسائل اور نظام کی مالک ہے،ڈینگی کے خلاف جنگ صرف مہمات یا فوٹو سیشن سے نہیں جیتی جا سکتی۔مستقل بنیادوں پر صفائی کا نظام بہتر بنانا ہوگا۔لاروا سرویلیئنس کو جدید ٹیکنالوجی سے منظم کیا جائے۔اسکولوں، کالجوں اور مساجد کی سطح پر آگہی مہمات شروع کی جائیں۔محکمہ صحت اور سول انتظامیہ میں باہمی رابطہ مضبوط کیا جائے،وقتی نہیں، مستقل پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے،ڈینگی صرف ایک بیماری نہیں بلکہ نظام حکمرانی کی کمزوری کا آئینہ ہے۔حکومت اور انتظامیہ جب تک نمائشی اقدامات کے بجائے حقیقی کام نہیں کرے گی اور عوام اپنی ذمہ داری نہیں نبھائیں گے، تب تک ہر سال یہی کہانی دہرائی جائے گی ،ڈینگی کےمریض بڑھتے رہیں گےاور انتظامیہ سب اچھا کی رپورٹیں بناتی رہے گی۔