ملتان پولیس: سائلین کی شکایات کا گمشدہ نظام
ملتان پولیس: سائلین کی شکایات کا گمشدہ نظام
تحریر: کلب عابد خان
رابطہ: 03009635323
ملتان شہر اور اس کے گردونواح کی صورتحال گزشتہ چند برسوں کے دوران تشویشناک حد تک بدل گئی ہے۔ شہر کی آبادی اب دور دراز علاقوں تک پھیل چکی ہے، اور اس کے ساتھ جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چور، ڈاکو اور دیگر مجرم اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں، اور شہری ہی انہیں شناخت کر کے متعلقہ محکموں کو اطلاع دیتے ہیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بیشتر صورتوں میں ملزمان نہ پکڑے جاتے ہیں یا غلط تفتیش کی وجہ سے کیس کی نوعیت خراب ہو جاتی ہے، جس سے یہ ملزمان مزید طاقتور ہو کر مستقبل میں زیادہ وارداتوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔
شہریوں کی شکایات پر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف جرائم میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پولیس اور سائلین کے درمیان اعتماد بھی ختم ہو چکا ہے۔ ایک طرف شہر میں جرائم بڑھ رہے ہیں، تو دوسری جانب افسران زیر تعمیر عمارتوں کے دورے کر رہے ہیں اور دفاتر میں بلاجواز بیٹھے رہتے ہیں۔ سائلین کے لیے تو افسران سے ملاقات تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ وہ افسران جنہوں نے سائلین کی شکایات کی داد رسی کرنی تھی، ذاتی تشہیر اور سیاسی مفادات میں مصروف ہیں، جبکہ وہ افسران جنہوں نے اپنے محکموں میں شکایات درج کی ہیں، انہیں عدالتی دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔
درج مقدمات میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے نہ وقت ہے، نہ گاڑی اور پٹرول دستیاب ہے۔ اس کے برعکس وہ افسران جن کے خلاف محکمانہ کارروائی ضروری ہے، آزادی سے ترقیوں کے ساتھ مطلب کی تعیناتیوں پر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ انتظامی نظام میں سائلین کے مسائل اور شہری تحفظ کو کم ترین اہمیت دی جا رہی ہے۔
پنجاب پولیس ملتان کو نئے ایڈیشنل آئی جی تو مل گئے ہیں، لیکن ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے پاس سائلین شکایات لے کر دور دراز سے آتے ہیں۔ شکایات متعلقہ افسران کے پاس بھیج دی جاتی ہیں، مگر کسی کو یہ معلوم نہیں کہ کارروائی ہوئی یا نہیں۔ اگر ہوئی بھی تو سائلین کو اس کی اطلاع نہیں دی جاتی، اور اگر نہیں ہوئی تو کوئی متعلقہ افسر سے پوچھنے والا بھی نہیں۔ اس عدم شفافیت نے سائلین میں پولیس کے حوالے سے بے اعتمادی پیدا کر دی ہے۔
ملتان کی آبادی کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ جرائم کے طریقے بھی بدل گئے ہیں۔ شہری اکثر چوروں اور ڈاکوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر پولیس کے بروقت اور مؤثر اقدام نہ کرنے کی وجہ سے یہ ملزمان پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر بار بار وارداتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں عام شہری خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ کئی شہری روزانہ کی بنیاد پر چھوٹے یا بڑے جرائم کا سامنا کر رہے ہیں، مگر پولیس کی غیر ذمہ دارانہ کارکردگی کی وجہ سے انہیں اپنی شکایات کے ازالے کے لیے کئی دہائیوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
مزید براں، پولیس انتظامیہ کی ترجیحات بھی شہریوں کی حفاظت سے ہٹ کر ذاتی مفادات اور تشہیر کی طرف مرکوز ہیں۔ افسران کی زیر تعمیر عمارتوں کے دورے اور دفاتر میں بلاجواز بیٹھکیں عوام کی حفاظت کی بجائے ان کی ذاتی شناخت کو روشن کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔
سائلین کی شکایات کے گمشدہ نظام نے عدالتی عمل پر بھی اثر ڈالا ہے۔ وہ شہری جو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے شکایت درج کراتے ہیں، اکثر عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں مقدمات میں تاخیر اور کارروائی نہ ہونے کے باعث جرم کا ارتکاب کرنے والے مزید حوصلہ حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، محکمانہ کارروائی کے لیے افسران پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاتا اور وہ آزادانہ ترقی اور تعیناتیوں کے ساتھ ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف موجودہ انتظامیہ کے لیے باعث تشویش ہے بلکہ یہ مستقبل میں شہری تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اگر پولیس اور متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریوں کو فوری طور پر نہ پہچانیں، تو جرائم میں مزید اضافہ ہوگا اور شہریوں کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایڈیشنل آئی جی اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی کے باوجود شکایات کے ازالے کا کوئی واضح نظام موجود نہیں۔ سائلین کی طرف سے شکایت تو جمع کی جاتی ہے، لیکن کارروائی کی شفافیت اور نتیجہ خیزی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی جاتی۔ اس عدم شفافیت نے سائلین میں مایوسی پیدا کر دی ہے اور شہری اداروں پر اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس اور متعلقہ افسران شہریوں کے مسائل کو ترجیح دیں، شکایات کے فوری ازالے کے لیے عملی اقدامات کریں، اور کارروائی کی شفافیت کو یقینی بنائیں۔ صرف رپورٹیں، دورے اور تشہیری تصاویر سے امن قائم نہیں ہوتا، بلکہ شہریوں کے اعتماد اور فوری کارروائی سے حقیقی تبدیلی آتی ہے۔
ملتان میں جرائم پر قابو پانے کے لیے شہری، پولیس اور انتظامیہ کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ شہری اپنی شناخت اور معلومات فراہم کریں، پولیس بروقت کارروائی کرے، اور افسران شکایات کے ازالے میں شفافیت لائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے شہر میں امن قائم ہوگا، جرائم میں کمی آئے گی، اور شہریوں کا اعتماد بحال ہوگا۔
آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ اگر پولیس اور افسران اپنے فرائض کو شعوری طور پر انجام دیں اور ذاتی مفادات اور تشہیر سے ہٹ کر سائلین کے مسائل کے حل کو ترجیح دیں، تو ملتان کے شہری حقیقی معنوں میں محفوظ اور مطمئن ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب ہر افسر اپنی ذمہ داری پہچانے اور شہریوں کی خدمت کو سب سے مقدم سمجھے، ورنہ جرائم اور شہریوں کی بے یقینی کا یہ دائرہ مسلسل بڑھتا رہے گا۔








































Visit Today : 169
Visit Yesterday : 608
This Month : 9592
This Year : 57428
Total Visit : 162416
Hits Today : 6527
Total Hits : 779683
Who's Online : 5






















