طالبان حکومت کا پاکستانی تجارت سے انخلا کا اعلان،، افغان حکومت نے تاجروں کو 3 ماہ کی مہلت دے دی، متبادل تجارتی راستے اپنانے کی ہدایت
کابل: افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستانی تجارت سے مکمل علیحدگی کا فیصلہ کرتے ہوئے افغان تاجروں کو پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان پر انحصار ختم کر کے دیگر متبادل تجارتی راستے اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے درآمد شدہ ادویات کا معیار ناقص ہے، لہٰذا ادویات درآمد کرنے والے تاجروں کو تین ماہ کی مہلت دی جا رہی ہے تاکہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تمام تجارتی کھاتے بند کر دیں۔ ملا برادر نے واضح کیا کہ اب افغانستان کو خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بہتر اقتصادی تعلقات حاصل ہیں اور تجارتی متبادل راستے بھی دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “تمام افغان تاجر اور صنعت کار پاکستان کے بجائے دوسرے تجارتی راستوں کی طرف رجوع کریں، اگر کوئی تاجر پاکستان کے ساتھ تجارت جاری رکھے گا تو حکومت اس کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی اور نہ ہی اس کی بات سنی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان دوبارہ تجارتی راستے کھولنا چاہتا ہے تو اسے اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ یہ راستے آئندہ کسی بھی صورت میں بند نہیں کیے جائیں گے۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کا یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے خطے پر وسیع اقتصادی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔






































Visit Today : 191
Visit Yesterday : 587
This Month : 4092
This Year : 32520
Total Visit : 89309
Hits Today : 542
Total Hits : 217427
Who's Online : 2



























