آئین میں حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ کی ہے، 27ویں ترمیم ناقابل قبول:حافظ نعیم الرحمن کا ملتان بار سے خطاب
ملتان: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ آئین پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کی ہے۔ کوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں، 27ویں ترمیم سے عدلیہ اقلیت اور حکومت اکثریت میں آگئی ہے۔ عدلیہ کو زیر اور سرنگوں کرنے کا پورا بندوبست کیا گیا ہے، یہ لوگ پہلے بھی عدلیہ کو نہیں مانتے تھے اب بے توقیر کرکے خاتمے پر کمر بستہ ہوگئے ہیں۔ صدر، چیف آف سٹاف یا کوئی اور بڑا محاسبے سے مستثنیٰ نہیں۔ یہ ترمیم آئین سے متصادم ہے اورکسی صورت بھی قابل قبول نہیں،ہماری تاریخ روشن اور تابناک ہے،محاسبہ کا نظام اس قدر ضروری ہے کہ خودنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا تھا۔ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ پہلی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ وہ غریبوں کو پکڑ لیتے اور امیروں کو چھوڑ دیتے تھے۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے ملتان بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سید ذیشان اختر امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب ، ثناء اللہ سہرانی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی جنوبی پنجاب ، صہیب عمار صدیقی امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان ،صدر ڈسٹرکٹ بار ملک امجد علی ڈوگر، سیکریٹری ڈسٹرکٹ بار ملک عدنان احمد،صدر اسلامک لائیرز موومنٹ اطہر عزیز ایڈووکیٹ اور صدر آئی ایل ایم ملتان رفیع رضا ایڈووکیٹ بھی موجو دتھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جس ملک میں پارٹیاں وراثت پر چلتی ہوں وہاں آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کوئی انوکھی بات نہیں۔ ملک میں آئین اور جمہوریت کے خلاف نظام چل رہا ہے۔ ہم سب کو بحیثیت قوم جمہوریت کو آگے لے کر چلنا ہے۔پاکستان میں وکیلوں اور جماعت اسلامی کے انتخابات وقت پر ہوتے ہیں۔ جبکہ جمہوریت کا راگ الاپنے والے اپنی پارٹیوں میں بھی انتخابات نہیں کرواتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سود ی معیشت ہے۔ معیشت کا یہ نظام دولت مندوں کو مزید دولت مند اور غریب کو مزید غریب بنا رہا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غربت میں کمی ہوئی مگر عالمی بنک کی رپورٹ ہے کہ پچھلے تین سال میں غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کاغریب کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ملک میں چینی اور آٹا مافیا کا راج ہے جو کسان کے ہاتھ کچھ نہیں آنے دیتا۔گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقہ نے 500 ارب ٹیکس ادا کیا ہے۔یہ کیسا نظام ہے جس میں غریب اور تنخواہ دار طبقہ پر زیادہ اور جاگیر داروں وڈیروں اور سرمایہ داروں پر کم بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان میں آئی پی پیز مافیا کو شکست ہو، ہم نے دھرنا دیا جس سے 3600ارب روپے کی بچت ہوئی۔ہمارے دھرنے کی وجہ سے عوام کو بھی ساڑھے سات روپے فی یونٹ سستی بجلی ملی،ہم نے بحریہ ٹاؤن کراچی سے لوگوں کے اربوں روپے واپس دلوائے۔ہم چاہتے ہیں کہ قوم مافیاز کے چنگل سے نکلے اور اسلام کے عدل و انصاف والے نظام کی طرف آئے۔انہوں نے کہا کہ 21تا 23نومبر کو مینار پاکستان لاہور میں ہونے والا جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع عام ظلم کے اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی تحریک ہے۔میں جنوبی پنجاب کے وکلاء اور عوام کو اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں تاکہ ایک موثر اور کامیاب تحریک کے ذریعے اس ظالمانہ نظام سے نجات حاصل کی جاسکے۔









































Visit Today : 170
Visit Yesterday : 608
This Month : 9593
This Year : 57429
Total Visit : 162417
Hits Today : 6563
Total Hits : 779719
Who's Online : 5






















