ملتان الیکٹرک پاور کمپنی میں نیا کنکشن لگوانا خواب بن گیا

تحریر: کلب عابد خان
0300-9635323

ملک میں ترقی، خوشحالی اور روزگار کے مواقع اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام کو بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں۔ انہی میں سے ایک سب سے بڑی سہولت بجلی ہے۔ مگر افسوس کہ جس سہولت کو ہر شہری کا بنیادی حق ہونا چاہیے، وہی اب ایک مشکل اور مہنگی آسائش بنتی جا رہی ہے۔
خاص طور پر ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کے زیرِ انتظام علاقوں میں بجلی کا نیا کنکشن لگوانا عوام کے لیے ایک خواب اور امتحان بن چکا ہے۔
آج کے دور میں جب ہر گھر میں پنکھا، ٹی وی، فریج، موبائل اور دیگر برقی آلات عام ہیں، بجلی کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن ہو چکا ہے۔
مگر ملتان اور جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں ایک عام غریب شہری کے لیے بجلی کا نیا کنکشن لگوانا گویا کسی ناممکن مشن سے کم نہیں۔
ایک مزدور یا دیہاڑی دار طبقے کا فرد جو روزانہ کی بنیاد پر گھر کا خرچ چلاتا ہے، وہ کنکشن کی فیس، نقشہ، سروے، اور فالتو چارجز کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
کنکشن کی لاگت بعض اوقات دس سے پندرہ ہزار روپے سے تجاوز کر جاتی ہے، جو ایک غریب خاندان کے لیے آدھے ماہ کی آمدن کے برابر ہے۔
جہاں بجلی کی فراہمی ہونی چاہیے تھی، وہاں پیسے، سفارش، اور تاخیر نے عوامی سہولت کو عوامی مصیبت میں بدل دیا ہے
میپکو کے دفاتر میں جانے والے ہر شہری کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہے۔
کاغذوں کے انبار، فائلوں کے ڈھیر، طویل قطاریں، اور عملے کا غیر دوستانہ رویہ۔
اکثر شہری کہتے ہیں کہ “افسران کے چہرے بدل گئے، مگر رویے نہیں بدلے۔”
چند فائلوں پر دستخط کے لیے ہفتے، کبھی مہینے لگ جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ نظام خود نہیں بدلا بلکہ نظام چلانے والے بدل گئے ہیں، مگر بدقسمتی سے یہاں وہی پرانی سوچ، پرانا انداز اور پرانے بہانے آج بھی قائم ہیں۔
میپکو دفاتر میں رشوت، تاخیر، اور “آج نہیں کل آنا” کی پالیسی نے عام شہریوں کو مایوس کر دیا
گزشتہ چند برسوں میں میپکو نے اپنے کاموں کو “ڈیجیٹلائزیشن” کی سمت لے جانے کے دعوے کیے۔
مگر عملی طور پر صورتحال مختلف ہے۔
اگرچہ نیا کنکشن حاصل کرنے کے لیے آن لائن فارم موجود ہیں، لیکن شہریوں کو اکثر فائل کی فزیکل تصدیق، دستخط یا سروے کے بہانے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
یوں “آن لائن سہولت” محض ایک نعرہ بن کر رہ گئی ہے۔، ایک شہری نے بتایا کہ ایک کنکشن لگوانے کے لیے ان لائن درخواست جمع کروائی مگر تین ہفتوں بعد دفتر سے فون آیا کہ فائل لائیں دستخط کروائیں۔
جب تک آن لائن نظام کو حقیقی معنوں میں شفاف اور خودکار نہیں بنایا جائے گا، عوام کے لیے سہولت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
جہاں گھریلو صارفین پریشان ہیں، وہیں کاروباری طبقہ بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
کمرشل کنکشن کے لیے سروے، نقشہ، لوڈ رپورٹ، ایریا انسپیکشن، اور ٹرانسفارمر کی دستیابی جیسے مراحل شامل ہیں۔
یہ تمام مراحل کئی ہفتے بلکہ مہینے کھینچ لیتے ہیں۔
چھوٹے کاروباری افراد — مثلاً درزی، بیکری مالکان، مکینک، اور ویلڈنگ شاپ کے مزدور — کہتے ہیں کہ بجلی کے بغیر ان کا روزگار رک جاتا ہے، مگر کنکشن کے حصول کے لیے میپکو کے دروازے پر رشوت کے بغیر کوئی فائل آگے نہیں بڑھتی۔
کئی نے بتایا کہ اگر “نذرانہ” دیا جائے تو اگلے دن ہی میٹر لگ جاتا ہے، ورنہ اعتراضات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ جہاں نظام کمزور ہو، وہاں طاقتور لوگ اپنے فائدے کے راستے نکال لیتے ہیں۔
میپکو کے کئی دفاتر میں رشوت، سفارش اور غیر شفاف طریقے اب ایک کھلا راز ہیں۔
کچھ اہلکار شہریوں کو فائل کے عمل سے ڈرا کر پیسے مانگتے ہیں، تو کچھ “حل نکالنے” کے نام پر نذرانہ وصول کرتے ہیں۔
ایسے میں عام شہری کے پاس دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو خاموشی سے رشوت دے کر مسئلہ حل کرے، یا برسوں انتظار کرے۔
یہ رویہ اس ادارے کے اصل مقصد — عوامی خدمت — کی نفی کرتا ہے۔
میپکو کے خلاف شکایات کے انبار وفاقی محتسب کے دفتر میں موجود ہیں۔
درجنوں فیصلے ایسے ہیں جن میں شہریوں کو ریلیف دینے، تاخیر ختم کرنے اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں۔
مگر المیہ یہ ہے کہ ان فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
وفاقی محتسب کے حکم کے باوجود شہریوں کی فائلیں محکماتی درازوں میں دھول کھا رہی ہیں۔
کئی متاثرہ شہری اب عدالتوں سے رجوع کر چکے ہیں۔
مگر وہاں بھی سالہا سال کے مقدمات اور تاریخوں کے چکر نے انصاف کو خواب بنا دیا ہے۔
یوں عوام ایک ایسے دائرے میں پھنس گئے ہیں جس کا کوئی سرا نظر نہیں آتا۔
میپکو جیسے ادارے، جو عوامی فلاح کے لیے قائم کیے گئے تھے، اب نااہلی اور بدانتظامی کی علامت بن چکے ہیں۔
کسی دفتر میں سٹاف کی کمی کا بہانہ ہے، کسی میں ٹرانسفارمر کی گنجائش ختم، اور کہیں فائل “کمیٹی کی منظوری” کے انتظار میں ہے۔
یہ تمام تاخیر عوام کے اعتماد کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
شہری کہتے ہیں کہ “اگر کسی بااثر شخص کا کنکشن ہو تو چند دن میں لگ جاتا ہے، مگر عام آدمی کا معاملہ مہینوں لٹک جاتا ہے۔”
یہ دہرا معیار نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ادارے کی غیر پیشہ ورانہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔
میپکو کی اصلاح صرف احکامات یا اعلانات سے ممکن نہیں۔
اس کے لیے ٹھوس عملی اقدامات درکار ہیں:
1. ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم: ہر درخواست دہندہ اپنی فائل کی پیش رفت آن لائن دیکھ سکے۔
2. ٹائم لائن لازمی قرار دی جائے: ہر کنکشن زیادہ سے زیادہ 15 دن میں مکمل ہو۔
3. شکایتی سیل فعال کیا جائے: جہاں شہری بلا خوف شکایت درج کر سکیں۔
4. افسران کا احتساب: تاخیر یا رشوت ثابت ہونے پر فوری معطلی۔
5. عوامی آگاہی: میپکو کے تمام چارجز اور پروسیس ویب سائٹ و سوشل میڈیا پر واضح کیے جائیں۔
6. آزاد نگرانی: نیپرا یا وفاقی محتسب کے تحت ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دی جائے۔
اصلاحات کے بغیر عوامی اعتماد بحال کرنا ناممکن ہے۔
جب تک شہریوں کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ ان کا کام بغیر سفارش اور رشوت کے ہو سکتا ہے، وہ کسی نظام پر بھروسہ نہیں کریں گے۔
عوامی ادارے تبھی مضبوط ہوتے ہیں جب ان کے اندر شفافیت، خدمت اور جوابدہی کا کلچر فروغ پاتا ہے۔
اگر میپکو واقعی “عوامی خدمت” کا ادارہ بننا چاہتا ہے، تو اسے اپنی بنیادوں سے تبدیلی لانا ہوگی۔
یہ تبدیلی کسی اشتہار یا مہم سے نہیں، بلکہ عملی کارکردگی، عوامی عزت، اور میرٹ کی بحالی سے آئے گی۔
پاکستان کا عام شہری اب اتنا باشعور ہو چکا ہے کہ وہ ناانصافی پر خاموش نہیں بیٹھتا۔
میپکو کے متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ وفاقی محتسب، نیپرا، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی آواز بلند کریں۔
یہ ملک کسی کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ قانون کے تحت چلتا ہے۔
اگر ہر شہری اپنی شکایت مؤثر طریقے سے درج کرے، تو یہ خاموش نظام بھی بدلنے پر مجبور ہو جائے گا۔
بجلی کے بغیر زندگی کا پہیہ رُک جاتا ہے، مگر جب اس بجلی کے حصول کے لیے عوام کو ذلت، رشوت، اور ناانصافی کے مراحل سے گزرنا پڑے تو یہ ریاست کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عوامی خدمت کا ادارہ بننا چاہتی ہے یا مایوسی اور بدعنوانی کی علامت بنی رہنا چاہتی ہے۔
جب تک میپکو کے اندر سے بدعنوانی، اقربا پروری اور تاخیر کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، تب تک جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے بجلی کا نیا کنکشن ایک خواب ہی رہے گا، حقیقت نہیں۔
اور جب عوام کے خوابوں میں روشنی نہ ہو، تو ترقی کا سفر اندھیروں میں کھو جاتا ہے۔