اسلام آباد: جی الیون کچہری کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ دھماکہ دوپہر 12 بجکر 39 منٹ پر اس وقت ہوا جب خودکش حملہ آور نے اسلام آباد پولیس کی پیٹرولنگ اسکواڈ کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے وقت کچہری میں وکلاء اور سائلین کی بڑی تعداد موجود تھی جس کے باعث متعدد راہ گیر بھی زد میں آگئے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ ترجمان پمز ڈاکٹر مبشر ڈاہا کے مطابق زخمیوں کے علاج کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی، چیف کمشنر محمد علی رندھاوا اور دیگر اعلیٰ حکام بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ حملے کی منصوبہ بندی اور تربیت افغانستان کی سرزمین پر کی گئی۔ ان کے مطابق پاکستان نے اس حوالے سے افغان حکام کو شواہد فراہم کیے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کچہری کے اندر بڑا حملہ کرنا چاہتا تھا تاہم موقع نہ ملنے پر اس نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ “جس نے یہ حملہ کیا، اسے انجام تک پہنچائیں گے، سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا”۔ صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بدھ کے روز ملک گیر عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی، اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ “بھارت کی پشت پناہی میں سرگرم دہشتگرد گروہ افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں، معصوم پاکستانیوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا”۔پولیس اور حساس اداروں نے جائے وقوعہ سے انسانی اعضاء اور دھماکہ خیز مواد کے نمونے جمع کر کے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔