دادِ بے آواز داتا کی نگری کی پرندہ مارکیٹ کا دل خراش منظر

تحریر: ایس پیرزادہ

داتا کی نگری لاہور میں فجر کے وقت ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس نے ہر حساس دل کو ہلا کر رکھ دیا لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے پولیس اور پیرا فورس کے ہمراہ ٹولنٹن پرندہ مارکیٹ پر اچانک آپریشن کرتے ہوئے تقریباً ایک سو ساٹھ دکانیں مسمار کر دیں دکانداروں کی منت سماجت فریادیں اور التجائیں سب رائیگاں گئیں۔ چند ہی لمحوں میں عمر بھر کی جمع پونجی ملبے تلے دب گئی اور سینکڑوں بے زبان پرندے، بلیاں، کچھے اور خرگوش زندہ دفن ہو گئے یہ وہ منظر تھا جسے دیکھنے والے کبھی نہیں بھلا سکیں گے فجر کے وقت جب شہر کی فضائیں اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج رہی تھیں، اسی لمحے چیخیں فریادیں اور پنکھوں کی پھڑپھڑاہٹ ملبے میں گم ہو رہی تھیں جو ہاتھ دعاؤں کے لیے اٹھنے چاہیئے تھے وہ ملبے سے اپنے بے قصور جانداروں کو نکالنے میں مصروف تھے ایک دکاندار نے روتے ہوئے کہا “ہم نے منتیں کیں بتایا کہ یہ بے گناہ پرندے اور جانور ہیں انہیں پہلے کسی محفوظ جگہ منتقل کر دیں مگر کسی نے نہیں سنا اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایک بے گناہ جان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے مگر ہم نے اپنی ہی آنکھوں کے سامنے بے شمار جانوں کو مٹی میں دفن کر دیا اگر یہ مارکیٹ غیر قانونی تھی تو اسے منہدم ضرور کیا جاتا مگر کیا یہ ضروری نہ تھا کہ پہلے ان ننھی جانوں کو زندگی کا حق دیا جاتا؟ وہ بلیاں خرگوش کچھے اور پرندے جرم کے مرتکب نہیں تھے وہ صرف سانس لینے والے وجود تھے جو انسانوں کی رحمت پر بھروسہ کیے بیٹھے تھے اسلام اور انسانیت دونوں ہمیں رحم دلی سکھاتے ہیں اور کچھ لوگ اس جذبے کی زندہ مثال ہوتے ہیں انہی میں سے ایک کمشنر ملتان عامر کریم خان ہے جنہوں نے پرندوں کے لیے نشیمن اب دانہ جیسے خوبصورت منصوبے کا آغاز کی میں نے اس وقت دل سے محسوس کیا تھا کہ یہ ایک ایسا شخص ہے جو واقعی مخلوقِ خدا کے درد کو سمجھتا ہے جو پرندوں کے لیے سایہ پانی اور دانہ مہیا کرنے کی فکر رکھتا ہے وہ یقیناً انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہے میری قلم نے دل بھر کر داد دی ارٹیکل لکھا مگر دل دکھ سے بھر گیا جب اسی صوبے کی انتظامیہ نے داتا کی نگری میں ان ہی پرندوں کے آشیانے مٹی میں ملا دیے ایک طرف رحمت و احساس کا مظہر منصوبہ نشیمن اب دانہ اور دوسری طرف یہ بے حسی یہ تضاد ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ آخر ہمارے نظام میں انسانیت کی رگ کب مردہ ہو گئی؟ یہ آپریشن نہ صرف ایک کاروباری نقصان ہے بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر بھی ایک کاری ضرب ہے ہم اپنی تہذیب اور مذہب پر فخر کرتے ہیں مگر ایسے مناظر ہمارے کردار کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم کتنے دور جا چکے ہیں کیا ہم بھول گئے ہیں کہ رحم دل ہونا ایمان کا حصہ ہے؟ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا جو زمین والوں پر رحم کرے گا آسمان والا اس پر رحم کرے گا دکاندار اب کھلے آسمان تلے بیٹھے اپنی زندگی کی محنت کے ملبے کو دیکھ رہے ہیں وہ ملبہ صرف اینٹوں اور لکڑیوں کا نہیں بلکہ خوابوں روزگار اور انسانیت کے احساس کا بھی ہے متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے اگر تھوڑا وقت دیا ہوتا تو وہ اپنے جانوروں اور پرندوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیتے، مگر سب کچھ لمحوں میں ختم کر دیا گیا یہ لمحہ ہمارے لیے سوچنے کا ہے کہ قانون کی عملداری اور انسانی ہمدردی کو ہم کیسے ساتھ چلا سکتے ہیں ریاست کا کام صرف عمارتیں گرانا نہیں بلکہ زندگیوں کو سہارا دینا بھی ہے۔ اگر کوئی تعمیر غیر قانونی ہے تو اسے منہدم ضرور کریں مگر اس کے ساتھ وابستہ زندہ مخلوق کو تحفظ دیں ہر قانون سے پہلے انسانیت کا اصول ہونا چاہیے اب وقت ہے کہ ہم اس ظلم پر خاموش نہ رہیں آواز اٹھائیں ان بے آوازوں کے لیے بولیں جن کے پاس کوئی زبان نہیں تھی مگر جن کی چیخیں فضا میں گونج رہی ہیں مقامی انتظامیہ سماجی تنظیمیں اور عام شہری سب کو مل کر اس المیے کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا ان ننھی جانوں کے لیے جو ہم پر بھروسہ کرتی تھیں ہمیں ان کا حق ادا کرنا ہوگا ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر قدرت نے اپنا نظام بدل لیا اگر زمین اور فضا ہماری بے حسی کا بدلہ لینے لگیں تو ہم کیا جواب دیں گے؟ زلزلے سیلاب اور آفات ہمیں روز یاد دلاتی ہیں کہ ہم کتنے بے بس ہیں پھر بھی ہم سبق نہیں سیکھتے داتا کی نگری میں فجر کے وقت جو ظلم ہوا وہ محض چند دکانوں کا انہدام نہیں تھا وہ انسانیت کا امتحان تھا جس میں ہم سب ناکام ہو گئے اب بھی وقت ہے اپنی خاموشی توڑیں، دل کی آواز سنیں اور ان بے زبان مخلوقات کے لیے دعا نہیں قدم اٹھائیں کیونکہ اگر ہم نے آج ان کے لیے نہ بولا تو کل شاید ہمیں اپنے لیے بولنے کا حق بھی نہ ملے