ملتان ; پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں سے آزاد کروانے کیلئے اقبال کے شاہینوں کو اپنے اندر جذبہ خودی کو پروان چڑھانا ہوگا۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے فکر و نظر اور آپ کی ملی و قومی شاعری کو اس کی روح کے مطابق سمجھنے اور اس پر سنجیدگی کے ساتھ عمل پیرا ہونے سے ہی ملک و قوم مزید ترقی کی منازل طے کر سکتی ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بیان کردہ شاہین، وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنے حصے کا مثبت و مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار تحریک فروغ نظریہ پاکستان کے زیر اہتمام البدری ہاؤس، حقانی سٹریٹ میں منعقدہ سالانہ ”فکر اقبال اور آج کا نوجوان سیمینار” سے جمعیت علماء پاکستان نورانی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری پروفیسر محمد شفیق اللہ صدیقی البدری، ممتاز سماجی رہنماؤں ڈاکٹر فاروق خان لنگاہ، خواجہ منور خورشید صدیقی، احسان خان سدوزئی، طارق فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ محض حکومتوں اور شخصیات کے چہروں کی تبدیلی سے وطن عزیز پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کے ”شکنجے” سے آزاد نہیں ہو سکتا، بلکہ عالمی مالیاتی اداروں سے حقیقی آزادی، مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے بلند افکار پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہو کر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ سماجی و سیاسی رہنماء محمد فرحان الحق حقانی، علی عمران ممتاز، حافظ محمد ظفر قریشی، ڈاکٹر ظفر اقبال علوی، ڈاکٹر اعجاز رسول، خلیل احمد گجر نے کہا کہ کسی بھی مملکت کی جغرافیائی حدود و نظریہ کا تعلق جسم و جان کی طرح ہوتا ہے۔ کیا کوئی جسم و جان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے؟؟ انہوں نے کہا کہ جیسے جان کے بغیر جسم گل سڑھ کے مٹی میں مل جاتا ہے۔ ایسے ہی ان مملکتوں کا نام و نشان مٹ جاتا ہے جن کا کوئی نظریہ یا آئین نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ آج سماجی، معاشی و معاشرتی، اقتصادی و اخلاقی تنزلی کا شکار اس لئے ہے کہ ہمارے ملک کی سیاسی اشرافیہ نے گزشتہ 78 سالوں سے وطن عزیز کے قیام کے اساسی و بنیادی نظریہ سے عملاً روگردانی برتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے فکر و نظر اور قیام پاکستان کے اساسی و بنیادی نظریہ و نعرے پر ہمارے ملک کی سیاسی اشرافیہ سنجیدگی سے عمل پیرا نہیں ہوتی، تب تک ہم ملکی مسائل کو صحیح طور پر حل نہیں کر پائیں گے۔ سیمینار سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری و پارلیمانی روایات کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرنیوالے در اصل، تحریک پاکستان کے شہداء سے وعدہ وفا کر رہے ہیں۔