سقوطِ ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان کے خلاف سرائیکستان نوجوان تحریک کا ملتان میں احتجاج ،، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو دوبارہ ملتان کے ساتھ شامل کرنے کا مطالبہ
ملتان : 9 نومبر سقوط ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان کے موقع پر سرائیکستان نوجوان تحریک کا چوک کمہارانوالہ پر شدید احتجاج کیا گیا۔مظاہرین نے لعنتی لارڈ کرزن مردہ باد،تخت پشور مردہ باد اوربن کے رہے گا سرائیکستان کی فلک شگاف نعرے بازی کی۔مظاہرے کی قیادت چیئرمین مہر مظہر عباس کات ،ڈویزنل صدر مہر ظفر اقبال ہراج ،رانا نعیم نے کی ۔مظایرین سے خطاب کرتے ہوئے سرائیکی راہنماؤں نے کہا کہ ایک سو پچیس سال پہلے آج کے دن ہمارے ملتان صوبہ کے دو اہم سرائیکی اضلاع ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو زبردستی سرائیکی وسیب سے نکال کر صوبہ سرحد میں شامل کیا گیا تھا۔نوجوان راہنماؤں نے کہا کہ انگریز سرکار کو سب سے زیادہ مزاحمت اور نقصان سرائیکی وسیب صوبہ ملتان میں اٹھانا پڑا جس کا بدلہ لارڈ کرزن نے ملتان صوبہ کو توڑ کر لیا ۔مہر مظہر کات نے کہا کہ نو نومبرکو ہمارے وسیب کو زبردستی تقسیم کیا گیا اس لیے یہ دن سرائیکی وسیب میں سیاہ دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور سرائیکی ہر سال احتجاج کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب تک ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے اکثریتی سرائیکی علاقے واپس ملتان کے ساتھ شامل نہیں کیے جاتے تب تک نو کروڑ سرائیکی عوام نو نومبر کو سیاہ دن کے طور پر مناتی رہے گی۔ مہر مظہر کات نے کہا کہ انگریز کے چلے جانے کے بعد تخت لاہور اور تخت پشور دونوں نے سرائیکی قوم کے حقوق سلب کیے اور ابھی تک یہ ظلم کا سلسلہ جاری ہے۔سرائیکی راہنماؤں نے کہا کہ سرائیکی وسیب وہ ہے جس نے قیام پاکستان میں سب سے اہم کردار ادا کیا اور قیام کے بعد آبادکاری اور ملک کو سنبھالا دینے میں تاریخ رقم کی اس لیے اب ریاست پر واجب ہے کہ وہ نو کروڑ پرامن سرائیکی قوم کو ان کی پہنچان سرائیکی صوبہ دیں اور ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان کے لوگوں کی ازلی خواہش کے مطابق سرائیکی صوبہ میں ملتان کے ساتھ شامل کیا جائے۔مظاہرے میں سہیل کھیڑا ،خرم شہزاد ،راو ساجد ،قاسم خاکوانی،جمیل ہاشمی سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی










































Visit Today : 190
Visit Yesterday : 608
This Month : 9613
This Year : 57449
Total Visit : 162437
Hits Today : 8179
Total Hits : 781335
Who's Online : 4






















