ملتان ایونیو — خواب یا حقیقت؟

تحریر: کلب عابد خان
0300-9635323

ملتان کے ترقیاتی نقشے میں ایک نیا منصوبہ شامل کیا گیا ہے — ملتان ایونیو۔ حال ہی میں کمشنر ملتان عامر کریم خان نے اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا، جسے شہر کا ایک جدید کمرشل و بزنس زون قرار دیا جا رہا ہے۔ منصوبے کا روٹ سیداں والا بائی پاس چوک بوسن روڈ سے شروع ہو کر سہو چوک خانیوال روڈ تک پھیلا ہوا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ چار ماہ کی مدت میں مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ اس کا افتتاح وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خود کریں گی۔
ابتدائی طور پر یہ ایک عظیم الشان منصوبہ معلوم ہوتا ہے جو جنوبی پنجاب کے دل، ملتان، کو نئی شناخت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ کیا وہ شہر جو پہلے ہی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے، ایک نئے کمرشل منصوبے کا بوجھ اٹھا پائے گا؟
یہ علاقہ دراصل نادرن بائی پاس کا حصہ ہے، جہاں دن رات ہیوی ٹریفک کا گزر معمول ہے۔ یہ سڑک ہائی وے نیٹ ورک میں شامل ہے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ منصوبے میں پیدل چلنے والوں کے لیے انڈر پاسز اور اوورہیڈ برجز تعمیر کیے جائیں، تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ سٹریٹ لائٹس کی تنصیب بھی نہایت اہم ہے کیونکہ اس روڈ پر رات کے وقت اندھیرا اور ٹریفک دونوں ایک بڑا خطرہ بن جاتے ہیں۔
شہر کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملتان ایونیو کہیں ان منصوبوں کی فہرست میں شامل نہ ہو جائے جو شروع تو پرجوش انداز میں ہوئے مگر مکمل نہ ہو سکے۔ ماضی میں ملتان کے متعدد منصوبے تعطل کا شکار رہے — کہیں فنڈز کی کمی، کہیں انتظامی سستی، اور کہیں ترجیحات کے فقدان نے انہیں ادھورا چھوڑ دیا۔
ملتان کے شہری مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ شہر میں تفریحی پارکس، فیملی ایریاز، کھیلوں کے میدان، اور ثقافتی سرگرمیوں کے مراکز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شہری کہتے ہیں کہ حکومت کو نئے پروجیکٹس کے بجائے پہلے موجود مسائل حل کرنے چاہییں۔ اگر شہر کی پرانی اور مرکزی سڑکیں مثلاً ایم اے جناح روڈ، متی تل چوک، قاسم پور کالونی اور نیو ملتان روڈ بہتر کر دی جائیں، تو شہر خودبخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
اسی طرح، میپکو کا پرانا انفراسٹرکچر، سیوریج کے ناکارہ نظام، سیکیورٹی کی کمزوری اور ٹریفک کنٹرول کی عدم موجودگی نئے منصوبے کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایک جدید ایونیو تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب بجلی، پانی، سیوریج، اور ٹریفک جیسے بنیادی شعبے ساتھ دیں۔ بصورتِ دیگر، چند ماہ بعد یہی منصوبہ عوام کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔
ملتان کی اصل پہچان اس کے تاریخی ورثے میں چھپی ہے — قلعہ کہنہ قاسم باغ، پرانے دروازے، حسین آگاہی بازار اور شاہی روڈز وہ نشانیاں ہیں جو اس شہر کی تاریخ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ افسوس کہ اب ان تاریخی دروازوں کی شناخت تک باقی نہیں رہی۔ نہ ان کی تزئین نو کی گئی، نہ صفائی یا سائن بورڈز لگائے گئے۔ اندرونِ شہر کی خوبصورتی بحال کرنا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ پرانا ملتان اپنے اصل رنگوں میں واپس آئے۔
دوسری جانب، شہر میں سٹریٹ لائٹس اور ٹریفک سگنلز کی کمی نے شہری زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ میٹرو روٹ پر اگرچہ روشنی اور نظم و ضبط دکھائی دیتا ہے، مگر باقی شہر اندھیروں میں ڈوبا ہے۔ اندھیرے اور ٹوٹی سڑکیں حادثات کا باعث بن رہی ہیں، جس سے جانی و مالی نقصان بڑھ رہا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق، محکمہ مواصلات اور حکومت پنجاب اس منصوبے کے مکمل تعاون میں شریک ہیں۔ تاہم یہ تعاون صرف فیتہ کاٹنے اور افتتاحی تقاریر تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر منصوبہ واقعی چار ماہ میں مکمل کرنا ہے تو اس کے لیے تیزی کے ساتھ مگر معیار کے ساتھ کام کرنا ناگزیر ہے۔
آخر میں یہی کہنا بجا ہوگا کہ “ملتان ایونیو” شہر کی ترقی کا سنگ میل بن سکتا ہے — اگر اسے سنجیدگی، شفافیت، اور عوامی ضرورت کے تحت مکمل کیا جائے۔ لیکن اگر یہ بھی صرف سیاسی نمائش کا حصہ بن گیا تو پھر یہ شہر ایک اور “نامکمل خواب” کے ساتھ جیے گا۔
> “سند رہے بوقتِ ضرورت کام آوے” — کہیں ایسا نہ ہو کہ ملتان ایونیو بھی وعدوں، دعووں اور افتتاحی تقریبات کی گرد میں گم ہو جائے