جنوبی پنجاب کا سیکرٹریٹ ،،،، تخت لاہور کی زنجیروں میں جکڑا ہوا خواب
جنوبی پنجاب کا سیکرٹریٹ — تخت لاہور کی زنجیروں میں جکڑا ہوا خواب
تحریر: کلب عابد خان
0300-9635323
ملتان کی فضاؤں میں برسوں سے ایک خواب گونجتا رہا — “جنوبی پنجاب کو حق دو!”، “اختیارات دو!”، “ہمیں لاہور کے رحم و کرم پر نہ چھوڑو!”
بالآخر جب حکومتِ پنجاب نے جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان کیا تو یہ خواب حقیقت کا روپ دھارتا دکھائی دیا۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنوبی پنجاب)، ایڈیشنل آئی جی، اور سیکرٹری سطح کے دفاتر قائم کیے گئے، فیتے کاٹے گئے، اور اخبارات میں سرخیاں لگیں کہ اب ترقی کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ حقیقت سامنے آئی کہ سیکرٹریٹ تو بن گیا، مگر اختیارات ابھی بھی تختِ لاہور کے مقفل دروازوں کے پیچھے ہیں۔
جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام عوامی دباؤ اور سیاسی نعرے کا نتیجہ تھا۔ یہ سوچا گیا کہ اس سے انتظامی خودمختاری ملے گی، فائلیں لاہور کے چکر لگائے بغیر منظور ہوں گی، ترقیاتی منصوبے مقامی سطح پر بنیں گے، اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔
مگر زمینی حقیقت بالکل مختلف ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کے دفاتر تو قائم ہیں، مگر ان کے پاس اختیارات نہیں، صرف دستخط کرنے کی اجازت ہے — وہ بھی اکثر “مشروط”۔
پالیسی، بجٹ، ترقیاتی فنڈز، بھرتیاں، پوسٹنگز، حتیٰ کہ معمولی سطح کے انتظامی فیصلے بھی آج تک لاہور ہی میں ہوتے ہیں۔
اگر کسی عام شہری سے پوچھا جائے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بننے سے اس کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی، تو اس کا جواب خاموشی ہوگی —
سڑکیں وہی ٹوٹی ہوئی ہیں، اسپتالوں میں ڈاکٹر اب بھی “عارضی بنیادوں” پر ہیں، اسکولوں میں اساتذہ کی کمی برقرار ہے، اور بنیادی سہولتوں کے نام پر سیاست اب بھی لاہور کی مرضی کی محتاج ہے۔
کچھ دفاتر کو صرف نام کی تبدیلی ملی ہے، جیسے پرانے ڈیویلپمنٹ آفس کے تختی بدل کر “جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ” لکھ دیا گیا، مگر فائلوں کی تقدیر وہی پرانی
حکومتی اعلانات میں کہا گیا تھا کہ جنوبی پنجاب کے 35 فیصد ترقیاتی فنڈز علیحدہ رکھے جائیں گے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ بجٹ تو مختص ہوا، لیکن اس پر عمل درآمد کے اختیارات لاہور کے افسران کے پاس ہیں۔
جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں بیٹھے افسران کئی بار “فنڈ ریلیز” کے لیے لاہور سے اجازت مانگنے پر مجبور ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملتان کا سیکرٹریٹ ایک پوسٹ آفس کی طرح کام کر رہا ہے — فائلیں یہاں سے لاہور بھیجی جاتی ہیں، اور وہاں سے احکامات واپس آتے ہیں۔
> “یہاں ہمیں کام کرنے کی نیت تو ہے، مگر اختیار نہیں۔ ہر فیصلہ لاہور سے کنٹرول ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہمیں عوامی شکایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ہاتھ بندھے ہوتے
جنوبی پنجاب کے عوام دہائیوں سے احساسِ محرومی کا شکار ہیں۔ لاہور کو تمام ترقیاتی فنڈز کا مرکز سمجھا جاتا ہے جبکہ جنوبی اضلاع بنیادی سہولتوں سے محروم رہے۔
اسی احساس کو بنیاد بنا کر مختلف حکومتوں نے “جنوبی پنجاب صوبہ” یا “سیکرٹریٹ” کے نعرے لگائے۔
لیکن جب عوام نے دیکھا کہ یہ نعرے عملی شکل اختیار نہیں کر سکے تو مایوسی نے جنم لیا۔
سیاسی سطح پر بھی یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ “سیکرٹریٹ” کا قیام سیاسی دباؤ کم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، اختیارات دینے کے لیے نہیں۔
لاہور اور ملتان کا موازنہ اگر کیا جائے تو فرق واضح ہے۔ لاہور میں ہر محکمہ مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرتا ہے، سیکرٹری سطح کے افسر خود فیصلے کرتے ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب میں “ایڈیشنل سیکرٹری” کی اصطلاح کے پیچھے دراصل اختیارات کی تقسیم نہیں بلکہ مرکزیت کا تسلسل چھپا ہوا ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی کو گاڑی تو دے دیں مگر چابی اپنے پاس رکھیں۔
سیکرٹریٹ کے نام پر دفاتر تو مل گئے، مگر فیصلہ سازی کی “چابی” ابھی بھی لاہور کے ہاتھ میں ہے۔
سیاست دان ہر انتخابی مہم میں جنوبی پنجاب کے لیے “الگ صوبہ” یا “مکمل اختیارات” کا وعدہ کرتے ہیں، مگر اقتدار میں آنے کے بعد یہ نعرہ فائلوں میں دفن ہو جاتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنوبی پنجاب ایک سیاسی نعرے کے طور پر زندہ ہے، انتظامی حقیقت کے طور پر نہیں۔
ہر حکومت نے اس خطے کے ساتھ وعدے کیے، کچھ عمارتیں بنوائیں، کچھ فیتے کاٹے، مگر وہ وعدہ — کہ جنوبی پنجاب خود فیصلہ کرے گا — آج تک پورا نہ
لاہور کی بیوروکریسی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو ایک “ذیلی دفتر” سمجھتی ہے۔ فیصلوں میں شریک کرنے کے بجائے ہدایات بھیجی جاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کئی ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ مقامی افسران کہتے ہیں کہ اگر فائلیں یہاں ہی مکمل طور پر منظور ہو سکیں تو رفتار دگنی ہو جائے، مگر جب ہر منظوری لاہور سے آتی ہے تو تاخیر ناگزیر ہے۔
یعنی مرکزیت ختم نہیں ہوئی بلکہ “انتظامی تاخیر” کی نئی شکل اختیار کر گئی ہے۔
اختیارات کی عدم منتقلی کا سب سے بڑا نقصان عوام کو ہو رہا ہے۔
ایک عام شہری کو اب بھی وہی پرانے مسائل درپیش ہیں — لاہور کے چکر، فائلوں کی تاخیر، سفارش کی ضرورت، اور “پنجاب کے دو حصوں” کا غیر اعلانیہ فرق۔
جنوبی پنجاب کے شہری اب یہ سوال کر رہے ہیں:
> “اگر سب کچھ لاہور نے ہی طے کرنا ہے تو پھر یہ سیکرٹریٹ کیوں بنایا گیا؟”
اگر حکومت واقعی جنوبی پنجاب کو بااختیار بنانا چاہتی ہے تو صرف نام نہیں، نظام بدلنا ہوگا۔
ہر محکمہ کے مالی اور انتظامی اختیارات مقامی سیکرٹریٹ کو منتقل کیے جائیں۔
افسران کی تقرریاں اور تبادلے لاہور کے بجائے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی سفارش پر ہوں۔
عوامی شکایات کا ازالہ وہیں پر ہو جہاں مسئلہ پیدا ہوا، نہ کہ سینکڑوں کلومیٹر دور۔
جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کو تین سال سے زیادہ گزر چکے، مگر آج بھی عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ “کیا واقعی کوئی تبدیلی آئی؟”
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی فائلوں کی قسمت لاہور کے کمروں میں طے ہوتی ہے۔
ملتان میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری فیتہ تو کاٹ سکتے ہیں، مگر فیصلہ نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب کا خواب ابھی تک تخت لاہور کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ حکومت نعرے نہیں، اختیارات کی حقیقی منتقلی کرے — ورنہ یہ سیکرٹریٹ بھی تاریخ کے ان منصوبوں میں شامل ہو جائے گا جو “دکھاوے” کے لیے بنے اور “مایوسی” کے لیے یاد رکھے گئے۔










































Visit Today : 190
Visit Yesterday : 608
This Month : 9613
This Year : 57449
Total Visit : 162437
Hits Today : 8179
Total Hits : 781335
Who's Online : 4






















