ملتان : متحدہ قومی موومنٹ ( پاکستان) کے سیکریٹری جنرل پنجاب کرامت علی شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کی 25 کروڑ سے زائد عوام کے فوری مسائل کے حل کے لیے انتظامی امور پر زیادہ سے زیادہ صوبے بنانے کی ضرورت ہے اسی لیے 27 ویں ترمیم میں نئے صوبوں کے حوالے سے 140 اے شق شامل ہونا چاہیے قومی و صوبائی اسمبلی سے پہلے بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں این ایف سی ایوارڈ صوبوں میں کو دینے کے باوجود اضلاع میں پی ایف سی فنڈز خرچ نہیں کیے جاتے اسی لیے جنوبی پنجاب میں احساس محروم پایا جاتا ہے جہاں پر نہ شہریوں کو صاف پانی پینے کی سہولت میسر ہے نہ ہی تعلیم ،صحت روزگار کے مواقع میسر ہیں جبکہ روڈ سٹرکچر تباہ حالی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے آئے روز حادثات کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے 70 فیصد زراعت سے ملکی معیشت کی بہتری کے دارومدار کا خطہ زرعی پیداوار میں تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے انہوں نے کہا کہ دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کا راز انتظامی سطح پر پراونشل یونٹس ہیں جس سے عام ادمی کے مسائل اس کی دہلیز پر حل ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے عام ادمی کو مسائل در مسائل میں الجھا کر رکھ دیا گیا ہے اگر عام ادمی یا سرکاری ملازم صادق اباد سے لاہور میں مسائل کے حل کے حوالے سے جائے تو سرکاری ملازم کی تین روز میں پوری تنخواہ لگ جاتی ہے اور غریب شہری بھاری قرضوں کے بوجھ تلے پہنچ جاتا ہے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے 90 فی صد بجٹ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہی نہیں کیے جاتے اس لیے اج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام فوری طور پر عمل میں لایا جائے ۔