یومِ شہدائے جموں اور انڈیا کا گھناؤنا چہرہ

تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت

6 نومبر 1947 کا دن تاریخِ کشمیر کا ایک ایسا باب ہے جو ظلم، جبر، اور بربریت کی داستان بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس دن جموں کے لاکھوں نہتے مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ یہ وہ دن ہے جب انسانیت کا چہرہ خون سے رنگین ہوا، اور مظلوم کشمیریوں کے خون نے آزادی کی تحریک کو ایک نئی روح بخشی۔

پس منظر: تقسیمِ ہند اور کشمیر کی صورتحال

14 اگست 1947 کو برصغیر کی تقسیم کے وقت برطانوی حکومت نے یہ اصول طے کیا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں شامل ہوں گے۔ جموں و کشمیر چونکہ مسلم اکثریتی ریاست تھی (جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 77 فیصد تھی)، اس لیے اسے فطری طور پر پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ مگر مہاراجہ ہری سنگھ، جو ایک سکھ حکمران تھا، نے مسلمانوں کی اکثریتی خواہش کے برخلاف الحاقِ بھارت کا منصوبہ بنایا۔

ڈوگرہ راج اور آر ایس ایس کی سازش

مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کے سیاسی مطالبات کو دبانے کے لیے ڈوگرہ فوج اور ہندو انتہا پسندتنظیموں آر ایس ایس، اکالی دل اور مہاسبھا کو منظم انداز میں استعمال کیا۔ ستمبر سے نومبر 1947 تک جموں کے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں مسلمانوں پر خوفناک حملے کیے گئے۔ ان حملوں کا مقصد مسلمانوں کو ختم کر کے ریاست کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا تھا تاکہ کشمیر کے الحاق کا جواز بھارت کے حق میں بنایا جا سکے۔

6 نومبر 1947 خون میں نہایا ہوا دن

مہاراجہ کے حکم پر لاکھوں مسلمانوں کو یہ کہہ کر جموں کے ریلوے اسٹیشن پر جمع ہونے کا حکم دیا گیا کہ انہیں پاکستان منتقل کیا جا رہا ہے۔ عورتیں، بچے، نوجوان اور بزرگ سب اپنے گھروں سے نکلے، قرآن پاک سینوں سے لگائے، دل میں امید لیے کہ وہ اپنے نئے وطن پاکستان جا رہے ہیں۔

لیکن جب یہ قافلے جموں سیالکوٹ شاہراہ پر پہنچے تو ان پر ڈوگرہ فوج، سکھ ملیشیا اور ہندو انتہا پسندوں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ فائرنگ، تلواروں اور خنجروں سے نہتے مسلمانوں کا بے رحمانہ قتلِ عام کیا گیا۔ عورتوں کی عصمتیں لوٹی گئیں، بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا، اور ہزاروں لاشیں جموں کی زمین پر بکھر گئیں۔

شہداء کی تعداد اور عالمی ردعمل

غیر جانبدار برطانوی مصنفین اور مورخین، جیسے Christopher Snedden، Alastair Lamb، اور Ian Stephens کے مطابق صرف جموں خطے میں ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمان شہید کیے گئے، جبکہ پانچ لاکھ سے زیادہ کو جبراً ہجرت پر مجبور کیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کے دستاویزی ریکارڈ کے مطابق، یہ قتلِ عام جنوبی ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا منظم نسل کُشی (Genocide) کا واقعہ تھا۔

یومِ شہدائے جموں , ایک تاریخی یادگار

پاکستان اور کشمیر کے مسلمان ہر سال 6 نومبر کو “یومِ شہدائے جموں” کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن مظلوم کشمیری شہداء کی یاد میں دعائیں کی جاتی ہیں اور ان قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک یاد نہیں بلکہ یہ ایک پیغام ہے ظلم کے مقابلے میں صبر، ایمان اور آزادی کی لافانی جدوجہد کا۔

کشمیر آج بھی زندہ ہے

اگرچہ 78 سال گزر چکے ہیں، مگر کشمیر کی سرزمین آج بھی گواہی دیتی ہے کہ آزادی کے چراغ بجھائے نہیں جا سکتے۔ بھارت کی طرف سے ظلم، جبرو استبداد، اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود کشمیری عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے لیے پرعزم ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادیں واضح طور پر کشمیری عوام کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، مگر بھارت ان قراردادوں کو آج تک عملی جامہ نہیں پہنا سکا۔
یومِ شہدائے جموں ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کی قیمت خون سے ادا کی جاتی ہے۔ یہ دن صرف ماضی کا ماتم نہیں بلکہ مستقبل کی جدوجہد کا عزم ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا، پاکستان کی تکمیل ممکن نہیں۔

“شہداء جموں کی قربانیاں تاریخ کا وہ چراغ ہیں جو ہمیشہ ظلم کے اندھیروں کو مٹاتا رہے گا۔