سموگ اور ڈینگی ،،، عوام کی زندگی کا امتحان

تحریر: کلب عابد خان 03009635323
ملتان، جو کبھی اپنے آم، ملتانی مٹی، اور روحانیت کے حوالے سے جانا جاتا تھا، آج کل سموگ اور ڈینگی کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ شہر جو کبھی بہاروں کی خوشبو میں سانس لیتا تھا، اب زہریلی ہوا اور مچھروں کے کاٹنے سے کراہ رہا ہے۔ عوام کی زندگی ایک امتحان بن چکی ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس امتحان میں عوام ہی قصوروار بھی ٹھہرا دیے جاتے ہیں اور سزا بھی انہی کو ملتی ہے۔
ہر سال سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی سموگ کا راج قائم ہو جاتا ہے۔ صبح جب سورج نکلنے کی بجائے چھپنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ کسی افسانے کا منظر نہیں بلکہ ملتان کی حقیقت بن چکا ہے۔ ہوا میں موجود آلودگی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ سانس لینا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ شہریوں کو ماسک پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے،
کھیتوں میں فصلوں کی باقیات جلانے، گاڑیوں کے دھوئیں، اینٹوں کے بھٹوں اور صنعتی فضلے نے ملتان کی فضا کو ایک زہریلے جال میں بدل دیا ہے۔ کبھی درختوں سے سجی سڑکیں اب گرد و غبار میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بچے سکول جاتے ہوئے کھانسی کے دوروں میں مبتلا ہوتے ہیں، بوڑھے اسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں، اور حکومت صرف “نوٹس لینے” تک محدود ہے۔
سموگ کے ساتھ ہی ڈینگی کا حملہ بھی کسی بلا سے کم نہیں۔ اسپتالوں کے وارڈ مریضوں سے بھر چکے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی قلت ہے، اور پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج مہنگے داموں پر بیچا جا رہا ہے۔ لوگ خوفزدہ ہیں کہ نہ باہر جا سکتے ہیں، نہ گھروں میں اطمینان سے بیٹھ سکتے ہیں۔
ڈینگی کے لاروا کی افزائش کا سبب صرف بارشیں نہیں بلکہ صفائی کی ناقص صورتحال بھی ہے۔ نالیوں کا گند، کھڑے پانی کے جوہڑ، اور جگہ جگہ پھیلا کوڑا کرکٹ مچھروں کے لیے جنت بن چکا ہے۔ انتظامیہ نے اسپرے مہم کے دعوے کیے، لیکن بیشتر علاقوں میں نہ کوئی ٹیم پہنچی، نہ کوئی کارروائی ہوئی۔ ملتان کے گنجان علاقوں میں عوام اپنے طور پر اسپرے کروانے پر مجبور ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے چھپی نہیں کہ سموگ اور ڈینگی دونوں انتظامی ناکامیوں کی علامت بن چکے ہیں۔ ایک طرف حکومت کی طرف سے “ماحولیاتی ایمرجنسی” کا اعلان ہوتا ہے، دوسری طرف صنعتی ادارے بدستور دھواں اگل رہے ہیں۔ سکول بند کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے مگر فیکٹریوں کے چمنیوں سے دھواں نہیں رکتا۔
پھر ڈینگی کے حوالے سے بھی یہی صورت حال ہے۔ چند تصویریں اور فوٹو سیشنز کے ذریعے مہم مکمل قرار دے دی جاتی ہے۔ جن علاقوں میں مچھروں کی بھرمار ہے وہاں نہ کوئی سروے ٹیم گئی، نہ صفائی ہوئی۔ عوام کی شکایات پر متعلقہ ادارے کان نہیں دھرتے
سموگ اور ڈینگی نے صرف صحت ہی نہیں، معیشت کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ سموگ کے باعث فلائٹس تاخیر کا شکار ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ مزدور طبقہ جو روزانہ دیہاڑی پر کام کرتا ہے، وہ سڑکوں پر دھند اور مچھروں کے خوف سے باہر نکلنے سے ڈرتا ہے۔ اسپتالوں کے اخراجات اور دواؤں کی قیمتوں نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔
زرعی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ سموگ فصلوں کی نشوونما پر برا اثر ڈال رہی ہے۔ سورج کی روشنی کم ہونے سے پودوں کی افزائش متاثر ہوتی ہے، اور نتیجہ پیداوار میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ملتان کے آس پاس کے دیہات جہاں گندم، کپاس اور آم کی پیداوار کا مرکز ہیں، وہاں کسان پریشان ہیں کہ اگر یہ حالات جاری رہے تو اگلے موسم کی فصل کیا رنگ دکھائے گی۔
یقیناً عوام بھی اس صورتحال سے بری الذمہ نہیں۔ گلیوں میں کچرا پھینکنا، نالیاں بند رکھنا، یا فصلوں کے باقیات کو آگ لگانا ہماری عادت بن چکی ہے۔ اگر ہر شہری اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو آدھی لڑائی جیتی جا سکتی ہے۔ مگر جب ہر شخص صرف حکومت کو کوستا رہے اور خود کچھ نہ کرے تو نتائج بد سے بدتر ہوتے جاتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل وقتی نہیں بلکہ طویل المدت منصوبہ بندی میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملتان کے لیے ایک جامع ماحولیاتی اصلاحاتی منصوبہ تیار کرے۔ بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے، فصلوں کی باقیات کے لیے متبادل استعمال کے طریقے متعارف کرانے، اور عوامی آگاہی مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے۔
ڈینگی کے خلاف مہم صرف اسپرے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ شہریوں کو گھر گھر جا کر آگاہ کیا جائے کہ مچھروں کی افزائش کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ ہر محلے میں صفائی کے مستقل عملے کی تعیناتی کی جائے اور اسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے جائیں۔
ہم سب کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ کچرا جلانے یا کھلے عام پھینکنے کی بجائے اسے مناسب طریقے سے تلف کرنا ہوگا۔ پودے لگانے اور درختوں کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ یہ صرف حکومت یا بلدیہ کا کام نہیں، یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ملتان کے لوگ سخت جان ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس شہر نے ہر آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ مگر اس بار امتحان کچھ مختلف ہے۔ یہ جنگ بندوقوں یا توپوں کی نہیں بلکہ شعور اور ذمہ داری کی ہے۔ اگر ہم سب نے اپنی سوچ بدل لی، اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کی، تو یقیناً سموگ اور ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے۔
ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں یہ کہہ کر یاد کریں گی کہ “یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے شہر کو دھوئیں اور مچھروں کے حوالے کر دیا۔