اسلام آباد،لاہور،ملتان،فیصل آباد،کھاریاں : عشقِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو سے معطر فضاؤں میں، معروف روحانی بزرگ، عظیم عالمی مبلغِ اسلام اور تاجدارِ تصوف پیر آف موہری شریف حضرت خواجہ محمد معصوم نقشبندی مجددیؒ کے 32ویں سالانہ عرسِ مبارک کی تین روزہ روح پرور تقریبات دربارِ عالیہ نقشبندیہ، مجددیہ، نوابیہ، معصومیہ موہری شریف میں عقیدت و احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئیں۔عرسِ مبارک کی مرکزی و اختتامی نشست کی قیادت درگاہِ عالیہ مرشد آباد شریف لاہور کے سجادہ نشین اور بزم المعصوم پاکستان کے سربراہ، پیرِ طریقت خواجہ محمد خالد محمود احمد نقشبندی مجددی، پیر خواجہ نوید حسین، پیر صوفی شیخ یوسف معصومی، صاحبزادہ منصور سلیم معصومی، پیر صوفی ذوالفقار علی معصومی، پیر صوفی جمیل خان لودھی، ر صوفی شمس معصومی، ڈاکٹر زبیر معصومی، پیر صوفی اشرف معصومی، پیر سید اسلم شاہ بخاری،پیر صوفی رفیق احمد معصومی،پیر صوفی لیاقت علی معصومی، پیر صوفی بشارت علی معصومی، پیر صوفی صفدر منصور معصومی، پیر صوفی شاہد معصومی، صوفی تنویر بھٹی، صوفی یونس کرامتی، صوفی محمد خلیل الطافی، صوفی جہانزیب معصومی، صوفی مرزا افضل حسین الطافی، احسان لڈو اور دیگر خلفاء عظام نے فرمائی۔جبکہ نظامت کے فرائض درگاہ عالیہ کے ترجمان صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے اس موقع پر ملک بھر سے جید علماء و مشائخ، خلفائے کرام، مذہبی و سماجی شخصیات اور محکمہ اوقاف کے اعلیٰ افسران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ عرس کی مرکزی اور اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے درگاہ عالیہ کے ترجمان علامہ صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی،علامہ سید ابرار زیدی،علامہ وقاص منور مجددی،علامہ بشیر فاروقی و دیگر مقررین نے واضح کیا کہ درگاہِ موہری شریف محض ایک روحانی مرکز نہیں بلکہ ایک روشن مرکزِ انوار و تجلیات ہے جہاں سے ہمیشہ پیغامِ امن، عشقِ الٰہی اور بھائی چارے کی روشنی دنیا بھر میں پھیلتی رہی ہے۔ خواجہ محمد معصومؒ نے اپنے ایمان افروز طرزِ عمل کے ذریعے ہر مسلک کے جید علماء و مشائخ کو ایک ہی مجلس میں سمیٹ کر عملی نمونہ پیش کیا — اور یہ ان کی شخصیت کا عظیم کارنامہ تھا۔اور خاصہ تھا،وہ بین المسالکی اتحاد کے زبردست داعی تھے؛ انہوں نے عملی انداز میں دکھایا کہ اختلافِ نظریات کے باوجود امتِ مسلمہ کا مشترکہ نقطہ اتحاد محبت اور امن ہے۔ مقررین نے کہا کہ خواجہؒ کا پیغام نفرتوں کا خاتمہ اور محبتوں کا فروغ ہے — اور انہوں نے اس پیغام کو آج بھی ہر دل میں زندہ رکھنے کا عہد کیا۔ عرس کی مرکزی تقریب میں شرکاء نے مطالبہ کیا کہ یہ پیغام محض مقامی نہیں بلکہ پوری دنیا کو قوتِ عمل کے ساتھ پہنچایا جائے تاکہ عالمِ انسانیت میں امن و رواداری کے چراغ جل سکیں۔ مرکزی نشست سے خطاب کرتے ہوئے پیر خواجہ محمد خالد محمود احمد معصومی، پیر خواجہ نوید حسین، صاحبزادہ منصور سلیم معصومی، صوفی شمس معصومی،صوفی ذوالفقار معصومی،صوفی جمیل لودھی اور صوفی لیاقت علی معصومی نے کہا کہ“ذکرِ الٰہی قلوب کے زنگ کو مٹا کر مردہ دلوں کو حیاتِ جاوداں عطا کرتا ہے۔ یادِ خدا سے دوری امتِ مسلمہ کی زوال پذیری کا باعث ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اسوہ کامل پر عمل ہی امتِ واحدہ کے قیام اور عالمِ کفر پر غلبے کی کنجی ہے۔ علماء و مشائخ نے اس بات پر زور دیا کہ درود و سلام محض لفظ نہیں بلکہ قربِ الٰہی کا زینہ ہیں، اور خود ربِ کریم اپنے محبوب ﷺ پر ہر دم درود و سلام بھیجتا ہے، اہلِ ایمان کو بھی اسی کی تلقین فرماتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ محمد معصوم نقشبندی مجددیؒ کی ذات فیضانِ روحانیت کا وہ مرکز تھی جس سے عقیدت و عشق کے چشمے بہتے رہے۔ آپ نے نہ صرف برصغیر بلکہ یورپ کے کلیساؤں میں بھی ذکرِ الٰہی اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی محافل سجاکر بے شمار غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں شامل کیا۔آپؒ نے مختلف مسالک و مذاہب کے بزرگوں کو اپنی محافل میں یکجا کرکے اسلام کا آفاقی پیغام — محبت، اخوت، رواداری اور برداشت پوری دنیا تک پہنچایا۔ مقررین نے زور دیا کہ خواجہؒ کا پیغام دنیا کو امن، محبت اور نفرت کا خاتمہ سکھاتا ہے اور یہ پیغام آج بھی دربارِ موہری شریف سے بھرپور انداز میں نشر ہوتا ہے۔اور“آج کے پُرفتن دور میں نوجوان نسل مغرب کی چمک دمک اور سوشل دنیا کے فتنوں میں الجھ کر روحانی تعلق سے محروم ہو چکی ہے۔ ہمیں اولیائے کاملین کی صحبت اختیار کر کے اپنی زندگیوں میں انقلابِ ایمانی برپا کرنا ہوگا۔ یہی نجات کا راستہ ہے۔’اختتامی دعا میں پیر خواجہ محمد خالد محمود احمد نقشبندی مجددی نے وطنِ عزیز پاکستان، افواجِ پاکستان، عالمِ اسلام، کشمیری و فلسطینی مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ دعا کے بعد شرکاء میں لنگرِ عام تقسیم کیا گیا جس سے ہزاروں عاشقانِ اولیاء نے استفادہ کیا،مرکزی تقریب کے شرکاء نے زور دے کر کہا کہ آج کے اس محفل میں خواجہ معصومؒ کا پیغام پورے عالمِ انسانیت کو سنایا جائے — تا کہ امن، محبت اور رواداری کی روشنی ہر گوشہ عالم میں پہنچے۔عرسِ مبارک کے موقع پر موہری شریف اور گردونواح میں روحانی مسرت، نورانی فضاء اور عقیدت و محبت کی بہاریں دیکھنے میں آئیں۔