اداروں کی بدحالی کا سبب
کرپشن سیاسی مداخلت اور انصاف کا بحران

تحریر: ایس پیرزادہ

پاکستان کے سرکاری ادارے جو عوام کی خدمت اور ریاستی استحکام کے لیے قائم کیے گئے تھے آج بدقسمتی سے بدعنوانی اقرباپروری اور سیاسی مداخلت کے گہرے اثر میں ہیں جب نظام چلانے والے خود قانون سے بالاتر ہو جائیں اور فیصلے اصولوں کے بجائے دباؤ مفاد اور تعلقات کی بنیاد پر کیے جائیں تو انصاف میرٹ اور دیانتداری جیسے الفاظ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں میں نے بطور سرکاری ملازم اور ایک شہری کے طور پر ان اداروں کے اندر وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو کسی بھی باشعور معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ایک معمولی ملازم کے تبادلے سے لے کر افسران کی تعیناتی تک سیاسی اثر رسوخ غالب نظر آتا ہے ایسے افراد جو سنگین بدعنوانیوں میں ملوث ہیں جن کے خلاف بیس پچیس انکوائریاں ہو چکی ہیں جن کے خلاف سی سی ٹی وی سے لے کر ہر طرح کی درخواستیں اور دستاویزی ثبوت موجود ہیں وہ آج بھی اپنی کرسیوں پر براجمان ہیں اس کے برعکس جو لوگ ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں یا سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں دفاتر سے نکال دیا جاتا ہے ان کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے یا زبردستی خاموش کرا دیا جاتا ہے حالیہ دنوں میں سائبر کرائم کے محکمے میں افسران کی گرفتاری کرپشن کی وجہ سے جو واقعات سامنے آئے ہیں وہ پورے نظام پر سوالیہ نشان ہیں یہ وہ ادارہ ہے جو عوام کو تحفظ دینے اور آن لائن جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے بنایا گیا تھا مگر وہاں بھی سیاسی مداخلت اور رشوت کا راج ہے کئی شکایات برسوں تک زیرِ التوا رہتی ہیں کیونکہ متعلقہ افسران پر سیاسی دباؤ ہوتا ہے متعدد درخواست گزاروں کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ اوپر سے ہدایات ہیں اس لیے کارروائی ممکن نہیں میں نے ایک درخواست دی تھی جس افسر کے پاس تھی اس نے اپنی بے بسی بیان کی وہ کیوں عملدرآمد نھیں کروا سکتا ؟اسی طرح ایف آئی اے جیسے حساس وفاقی ادارے میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے یہاں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بعض معاملات میں پیسے لے کر جھوٹے پرچے درج کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات پیسے کے عوض ہی ختم بھی کرا دیے جاتے ہیں سیاسی اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ جن معاملات کا ادارے کے دائرہ اختیار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا انہیں بھی زبردستی اپنی حدود میں لا کر کارروائی کی جاتی ہے بعض افسران خود اعتراف کرتے ہیں کہ وہ دباؤ اور ہدایات کے باعث ایسے مقدمات درج کرنے پر مجبور ہیں جو قانونی طور پر ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے لوگوں پر ایف آئی آر کاٹ کر سامنے بٹھا کر پیسے مانگے جاتے ہیں یہ روش نہ صرف انصاف کا جنازہ نکالتی ہے بلکہ پورے قانونی نظام کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے
ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب ادارے خود دباؤ رشوت اور ذاتی مفاد کے تابع ہو جائیں تو عام شہری کے لیے انصاف کا حصول تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے میں نے اپنے مشاہدے میں دیکھا کہ افسران کے درازوں میں رشوت کے پیسے رکھے جاتے ہیں غریب سائلوں کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور بااثر طبقے کے اشاروں پر فیصلے بدل دیے جاتے ہیں کئی نااہل اور غیر تربیت یافتہ لوگ محض سیاسی سفارش کے بل پر اہم عہدوں تک پہنچ گئے ہیں ملتان جیسے شہر میں بڑے سیاسی خاندان کی سرپرستی میں ایسے لوگ قومی ادارے میں بھرتی کیے گئے جو نا اہل تھے کبھی چھوٹے ملازم تھے اور اب افسران کے عہدوں پر فائز ہیں یہ صورت حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اداروں کی بدحالی محض چند افراد کی بدعنوانی نہیں بلکہ ایک منظم نظامی بیماری بن چکی ہے جب احتساب کا عمل کمزور پڑ جائے میرٹ کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور قانون طاقتور کے تابع ہو جائے تو معاشرے میں انصاف کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں دیانتدار ملازمین کے لیے ماحول غیر محفوظ ہو جاتا ہے وہ دل شکستہ ہو کر یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا ادارے چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں میں اس آرٹیکل کے ذریعے وزیراعظم پاکستان وزیراعلیٰ پنجاب وفاقی وزراء اور متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس صورت حال پرسنجیدگی سے توجہ دیں اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے کرپشن کے خلاف غیر جانبدار انکوائریاں کی جائیں جھوٹے مقدمات اور دباؤ پر کی جانے والی کارروائیوں کے ذمہ داران کو جواب دہ ٹھہرایا جائے اور شفافیت و میرٹ کو ادارہ جاتی پالیسی کا حصہ بنایا جائے یہ تحریر اصلاح اور شعور بیداری کے لیے ہے میں نے جو کچھ دیکھا سہا اور محسوس کیا وہ لکھا تاکہ وہ تمام لوگ جو انصاف کے متلاشی ہیں ان کی آواز بن سکوں یہ وہ وقت ہے جب ہمیں بحیثیت قوم فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم بدعنوانی ظلم اور سیاسی غلامی کے ساتھ جینا چاہتے ہیں یا ایک شفاف اور دیانتدار نظام کے ساتھ جو ہر شہری کو برابر کا انصاف دےاگر حکومت عدلیہ اور عوام یکجا ہو جائیں تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے ادارے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس حاصل کر لیں گے انصاف طاقتور کے دباؤ سے آزاد ہوگا سچ بولنے کی سزا نہیں بلکہ عزت ملے گی اور عوام کا اعتماد دوبارہ زندہ ہو گا یہی میری جدوجہد ہے اور یہی میری اپیل ہے