سولر صارفین پر بڑھتی مشکلات
سولر صارفین پر بڑھتی مشکلات
تحریر:کلب عابد خان 03009635323
پاکستان میں بجلی کے بحران کی تاریخ اتنی پرانی ہے کہ اب یہ محض ایک مسئلہ نہیں بلکہ قومی عادت بن چکی ہے۔ ہر حکومت نے اپنے دور میں توانائی کے بحران کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوے کیے، مگر نتیجہ ہمیشہ وہی نکلا — مہنگی بجلی، طویل لوڈشیڈنگ اور عوام کی جیب پر بڑھتا ہوا بوجھ۔ انہی حالات نے عوام کو مجبور کیا کہ وہ خود کوئی پائیدار حل تلاش کریں، اور تب لوگوں نے سورج سے امید باندھی۔
سورج تو سب کے لیے برابر چمکتا ہے، لیکن اس کی روشنی کو اپنی چھت پر سمیٹنا سستا کام نہیں۔ عام شہری نے اپنی محنت کی کمائی، جمع پونجی، اور کبھی قرضہ لے کر سولر سسٹم لگوایا۔ مقصد صرف ایک تھا: اندھیروں سے نجات اور بجلی کے بلوں کے بوجھ سے آزادی۔ ابتدا میں حکومت نے بھی زبانی ہی سہی، سولر توانائی کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی۔ “گرین انرجی”، “صاف مستقبل” اور “توانائی خود کفالت” جیسے نعرے عام کیے گئے۔ مگر جیسے ہی سولر توانائی عام شہریوں تک پہنچی، پالیسیوں کا رخ بدلنے لگا۔
سولر سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ صارف اپنی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کر لیتا ہے۔ اگر بجلی فاضل ہو تو نیٹ میٹرنگ کے ذریعے وہ واپس قومی گرڈ میں بیچ بھی دیتا ہے۔ یعنی صارف ایک طرح سے بجلی پیدا کرنے والا چھوٹا ادارہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سرکاری اداروں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے مفادات کو خطرہ محسوس ہوا۔
جب شہری خود بجلی پیدا کرنے لگے تو ان کمپنیوں کی فروخت گھٹنے لگی، ریونیو کم ہوا، اور نتیجتاً انہوں نے سولر صارفین کو ہی مسئلہ بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔ اب روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ نیٹ میٹرنگ کے نرخ کم کیے جا رہے ہیں، یا سولر پینلز پر نئے ٹیکس عائد کرنے کی تیاری ہے۔
یہ طرزِعمل سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف ملک میں توانائی کے بحران کی دہائی دی جاتی ہے، اور دوسری طرف جو شہری اس بحران کا بوجھ کم کر رہے ہیں، انہیں سزا دی جا رہی ہے
نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت سولر صارف اپنی زائد بجلی واپڈا کو بیچتا ہے، جس کے بدلے اسے بل میں ریلیف ملتا ہے۔ چند سال پہلے یہ ریٹ 19 سے 20 روپے فی یونٹ تک تھا۔ اب حکومت کی جانب سے اسے کم کر کے 10 سے 11 روپے فی یونٹ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس کمی سے سولر صارف کی معاشی منصوبہ بندی مکمل طور پر متاثر ہو جائے گی۔
ایک عام گھرانے نے اگر دس لاکھ روپے کا سسٹم لگوایا ہے، تو اس نے حساب کتاب اس بنیاد پر کیا ہوتا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے 4 سے 5 سال میں سرمایہ واپس آ جائے گا۔ لیکن اگر ریٹس کم ہو گئے تو یہ مدت 8 سے 10 سال تک بڑھ جائے گی — یعنی ایک عام صارف کے لیے یہ سرمایہ کاری غیر منافع بخش ہو جائے گی۔
حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ سولر صارفین دراصل قومی گرڈ کا بوجھ کم کر رہے ہیں، نہ کہ بڑھا رہے ہیں۔ ان کے خلاف اقدامات سے عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا، اور مستقبل میں کوئی بھی گرین انرجی میں سرمایہ نہیں لگائے گا۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تیزی سے سولر انرجی کی طرف جا رہے ہیں۔ چین، جرمنی، امریکا اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے سولر پالیسیوں میں شہریوں کو سبسڈی، آسان قرضے، اور نیٹ میٹرنگ کے پائیدار نرخ دیے ہیں۔ ان ممالک میں حکومتیں شہریوں کو بجلی پیدا کرنے کا شراکت دار سمجھتی ہیں۔
پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ یہاں بجلی کے نرخ بڑھتے ہیں، لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوتی، اور جو شہری خود کفیل ہونے کی کوشش کرتا ہے، اسے پالیسیوں کے شکنجے میں جکڑ لیا جاتا ہے۔
یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک ہی حکومت ایک طرف “کلین انرجی” کے منصوبے شروع کرنے کے دعوے کرتی ہے، اور دوسری طرف انہی منصوبوں میں عوامی شمولیت کو روکتی ہے۔ کبھی درآمدی سولر پینلز پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا دی جاتی ہے، کبھی نیٹ میٹرنگ کم کرنے کی سمری تیار کی جاتی ہے۔
یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب ملک کو اربوں ڈالر تیل اور گیس کی درآمد پر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اگر یہی رقم سولر انرجی کے فروغ پر خرچ کی جائے تو چند سال میں پاکستان توانائی کے شعبے میں خودکفیل ہو سکتا ہے۔
گزشتہ چند مہینوں میں مختلف شہروں سے سولر صارفین کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ کہیں نیٹ میٹرنگ کی فائلیں جان بوجھ کر روکی جا رہی ہیں، کہیں بجلی کے بلوں میں غیر واضح ایڈجسٹمنٹ کی جا رہی ہے۔ بعض جگہوں پر نیٹ میٹرنگ کنکشن بند کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ اس سے ایک منفی تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ حکومت عوامی سرمایہ کاری سے خوفزدہ ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر انرجی کے فروغ کے بجائے اس پر بوجھ ڈالتی رہی تو آنے والے پانچ سالوں میں لاکھوں صارفین دوبارہ روایتی بجلی پر واپس آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس سے نہ صرف لوڈشیڈنگ بڑھے گی بلکہ بجلی کے نرخ مزید بڑھ جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق حکومت کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ ان کمپنیوں کا مفاد عوامی مفاد کے برعکس ہے۔
سوشل میڈیا پر دیکھیں تو ہزاروں شہری اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے انہیں خود کفیل بننے پر سزا دی ہے۔ کچھ صارفین نے تو یہاں تک لکھا کہ “اگر یہ پالیسی نہ بدلی گئی تو سولر لگانے والے اپنے سسٹم بند کر دیں گے اور بل واپس حکومت کو بھیج دیں گے۔”
یہ غصہ دراصل اس احساسِ محرومی کا نتیجہ ہے جو ایک عام شہری کو اس وقت محسوس ہوتا ہے جب اس کی محنت کی کمائی پالیسیوں کی نذر کر دی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا تیزی سے ڈی کاربنائزیشن (یعنی فوسل فیول کے بغیر توانائی) کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے سولر انرجی کسی عیاشی کا نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے۔ ہمارے پاس تیل نہیں، گیس ختم ہو رہی ہے، ڈیموں کی استعداد محدود ہے — تو پھر واحد راستہ سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرنا ہے۔
اگر آج حکومت نے سولر صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تو کل کوئی بھی شہری متبادل توانائی میں سرمایہ کاری کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سولر صارفین دشمن نہیں، دوست ہیں۔ وہ وہی کام کر رہے ہیں جو حکومت کو کرنا چاہیے تھا۔ وہ ملک کے توانائی بحران کو کم کر رہے ہیں، ماحول کو محفوظ بنا رہے ہیں، اور اپنی محنت کی کمائی سے ملک کو خودکفیل بنانے میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر نیٹ میٹرنگ کے نرخوں میں استحکام لائے، ٹیکسوں میں نرمی کرے، اور سولر صارفین کو وہ عزت دے جس کے وہ مستحق ہیں۔ ورنہ عوام ایک بار پھر اندھیروں کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
کیونکہ یاد رکھیے —
سورج کی روشنی پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ اگر قوم روشنی سے ڈرنے لگے، تو اندھیرا اس کا مقدر بن جاتا ہے۔








































Visit Today : 279
Visit Yesterday : 608
This Month : 9702
This Year : 57538
Total Visit : 162526
Hits Today : 11372
Total Hits : 784528
Who's Online : 7






















