جسم کے راز (1) ,,, سبز پروٹین.روشنی سے زندگی تک کا سفر
جسم کے راز (1)
سبز پروٹین.روشنی سے زندگی تک کا سفر
تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت
تخیل و تمہید۔
کبھی کبھی فطرت کے معمولی اور خاموش مظاہر میں وہ راز چھپے ہوتے ہیں جو پوری
سائنسی دنیا کو بدل دیتے ہیں۔ ایک نرم چمک، جو سمندر کی گہرائیوں میں بہتی ایک جیلی فش کے بدن سے نکلتی تھی، آخر کار انسان کے جسم کے اندر جھانکنے کا ایک نیا راستہ بن گئی۔
یہ کہانی ہے ایک جاپانی سائنسدان اوسامو شیمومورا (Osamu Shimomura) کی۔ ایک ایسے خاموش طبع محقق کی، جس نے روشنی کی اس چمک میں زندگی کی گہرائیوں کا راز تلاش کیا۔
جیلی فش کا راز
1950 کی دہائی میں شیمومورا اپنی اہلیہ اکیومی کے ساتھ امریکی ریاست واشنگٹن کے قریب سان جوآن جزائر پر جا کر سمندری جیلی فش اکٹھی کرتے تھے۔
مقامی لوگ حیران ہوتے کہ یہ جوڑا ہر سال سینکڑوں جیلی فش کیوں پکڑتا ہے۔ دراصل شیمومورا اس چمکدار روشنی کے راز کو سمجھنا چاہتے تھے جو یہ جیلی فش پانی میں پھیلاتی تھی۔
سمندری حیات، جگنوؤں اور گہرے سمندر کی مچھلیوں میں روشنی پیدا کرنے کی صلاحیت عام تھی، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ روشنی کیسے بنتی ہے۔
شیمومورا نے جیلی فش کے خلیوں سے عرق نکالا، اور بالآخر دریافت کیا کہ دو پروٹین اس چمک کے ذمہ دار ہیں۔
ایک نیلی روشنی پیدا کرتا ہے، اور دوسرا Green Fluorescent Protein (GFP) نیلی روشنی کو جذب کر کے سبز روشنی خارج کرتا ہے۔
یہ پروٹین مستقبل کی حیاتیاتی تحقیق کا بنیادی آلہ بننے والا تھا۔
نئے دروازے کی تلاش
کئی برس بعد 1989 میں کولمبیا یونیورسٹی کے محقق مارٹن چلفی نے ایک لیکچر میں شیمومورا کی دریافت کے بارے میں سنا۔
اسی لمحے ان کے ذہن میں ایک انقلابی خیال آیا,
اگر یہ سبز چمکدار پروٹین دوسرے جانداروں کے خلیوں میں استعمال کیا جائے تو سائنسدان خلیے کے اندر ہونے والے عمل کو براہِ راست دیکھ سکتے ہیں۔
چلفی نے سمندری حیوانات پر تحقیق کرنے والے سائنسدان ڈگلس پراشر سے رابطہ کیا، جو GFP بنانے والے جین کی تلاش میں تھے۔
1992 میں یہ جین الگ کر لیا گیا اور چلفی کو فراہم کیا گیا۔
چمکدار کامیابی
چلفی کی لیبارٹری میں پی ایچ ڈی طالبہ غیا یوسکرچن نے یہ جین بیکٹیریا میں منتقل کیا
اور حیرت انگیز طور پر، بیکٹیریا سبز چمکنے لگے!
یہ وہ لمحہ تھا جب پہلی بار کسی جاندار کو صرف ایک جین کے ذریعے “روشنی پیدا کرنے والا” بنایا گیا۔
اس دریافت نے حیاتیات میں ایک نئی دنیا کھول دی ، اب خلیے کے اندر موجود پروٹین، اعصابی نظام اور جینیاتی تبدیلیاں براہِ راست دیکھی جا سکتی تھیں۔
سبز روشنی کا انقلاب
چلفی کی اہلیہ، محقق ٹولے ہیزلریگ نے اس جین کو دوسرے جینز کے ساتھ ملا کر ایسے طریقے بنائے جن سے مخصوص خلیوں کو الگ الگ چمکایا جا سکتا تھا۔
یوں جی ایف پی ایک “حیاتیاتی لیزر پوائنٹر” بن گیا
جو خلیے کے اندر حرکت کرتی زندگی کو واضح طور پر دکھا سکتا تھا۔
بعد ازاں ایک اور سائنسدان، روجر تسیئن (Roger Tsien) نے GFP کی چمک کو بہتر کیا اور مختلف رنگوں میں تبدیل کیا۔
اب سرخ، پیلے، نیلے اور جامنی رنگوں میں خلیوں کے مختلف حصے نمایاں کیے جا سکتے تھے۔
نوبل انعام اور قدرت کا کرشمہ
2008 میں اوسامو شیمومورا، مارٹن چلفی اور روجر تسیئن کو ان کی غیر معمولی دریافت پر کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔
یہ انعام صرف سائنسی تحقیق کا نہیں، بلکہ فطرت کی روشنی کو سمجھنے کی ایک خوبصورت علامت بھی تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب شیمومورا اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ان جزائر پر واپس گئے تو وہاں جیلی فش بہت کم رہ گئی تھیں، شاید آلودگی کے باعث۔
انہوں نے کہا:
“اگر جیلی فش تیس سال پہلے ختم ہو چکی ہوتیں تو شاید میں یہ راز کبھی نہ پا سکتا۔”
خلاصہ
ایک چھوٹی سی سمندری مخلوق کی چمک نے انسان کو اپنے خلیوں کے اندر جھانکنے کا موقع دیا۔
یہی فطرت کا اصول ہے۔ بظاہر معمولی چیز میں غیر معمولی راز پوشیدہ ہوتا ہے۔
جی ایف پی آج طب، جینیات، اور کینسر ریسرچ میں خلیوں کے اندر روشنی کے ذریعہ زندگی کے راز سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
حوالہ : وہارا امباکر (نئے قالب میں)
سیریز: جسم کے راز (1)








































Visit Today : 279
Visit Yesterday : 608
This Month : 9702
This Year : 57538
Total Visit : 162526
Hits Today : 11391
Total Hits : 784548
Who's Online : 5






















