ملتان میں چائلڈ رائٹس ایکشن ہب کا افتتاح ،،، سپارک، یورپی یونین اور کاروباری اداروں کا بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ذمہ دار کاروبار کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدام
ملتان: بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم سپارک اور دی سینٹر فار چائلڈ رائٹس اینڈ بزنس سنٹر نے یورپی یونین کی معاونت سے ملتان میں چائلڈ رائٹس ایکشن ہب کا باضابطہ اغا کر دیا ہے۔ یہ پاکستان میں دوسرا ایکشن ہب ہے، اس سے قبل کراچی میں بھی اس ہب کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ یہ اقدام کاروباری اداروں کو انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو مضبوط بنانے اور ملک کے لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹرز میں بچوں کے حقوق کے فروغ میں مدد دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ چائلڈ رائٹس ایکشن ہب ایک کثیر فریقی پلیٹ فارم ہے جو عالمی سپلائی چین کے پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے میں کاروباری اداروں کی مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ہب شفاف، قواعد و ضوابط کے مطابق اور مضبوط سپلائی چینز کے فروغ کے لیے عملی حل، ماہر رہنمائی اور اجتماعی اقدامات کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے مقامی کمپنیوں کو خطرات کی نشاندہی، استعداد کار میں اضافے اور احتساب کو مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے، تاکہ وہ بین الاقوامی خریداروں اور ریگولیٹرز کی بڑھتی ہوئی توقعات پر پورا اتر سکیں۔ اس سلسلے میں منعقدہ تقریب میں سپارک کے فاؤنڈر انیس جیلانی ایڈوکیٹ۔ایگزیکٹیو ڈائریکٹرآسیہ عارف۔ ریجنل ڈائریکٹر، ٹیوٹا قاضی اسد ۔سدرا بختاور شیخ،ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری۔علی عمر ٹیپو، ڈپٹی ڈائریکٹر، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی۔سہیل محمود، سابق صدر، پاکستان جنرز ایسوسی ایشن،خرم شہزاد۔میاں اویس احمد۔سردار وقاص اکرم۔علی نظامی۔مس ماروی۔ سمیت لیبر ڈیپارٹمنٹ۔سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ ، صنعت، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے نمائندے شریک ہوئے،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آسیہ عارف ایگزیکٹو ڈائریکٹر سپارک نے کہا ہے کہ کراچی میں کامیاب افتتاح کے بعد ملتان میں چائلڈ رائٹس ایکشن ہب کے قیام پر بہت خوشی ہو رہی ہے۔یہ ایک ایسا شہر جو پاکستان کے ٹیکسٹائل اور لیدر سیکٹر کا مرکز ہے۔ یہ اقدام سپلائرز اور عالمی خریداروں کے درمیان موجود خلا کو پُر کرتا ہے، یورپی یونین کے انسانی حقوق کے معیارات پر عمل درآمد کو بہتر بناتا ہے، اور نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔اس موقع پر جیرون ولیمز، ہیڈ آف کوآپریشن، یورپی یونین مشن برائے پاکستان، نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا “یورپی یونین کے لیے انسانی اور مزدور حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ ملتان میں چائلڈ رائٹس ایکشن ہب کا افتتاح پاکستان کے لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹرز میں انسانی حقوق اور مزدوری کے معیارات کو مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اقدام احتساب، شفافیت اور باعزت روزگار کے فروغ کے ذریعے پاکستان کی GSP+ فریم ورک کے تحت جاری پیش رفت کو مزید مستحکم کرے گا۔”اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے
قاضی اسد ریجنل ڈائریکٹر ٹیوٹاجنوبی پنجاب نے کہاہے کہ چائلڈ رائٹس ایکشن ہب ٹیوٹا کے اس مشن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو مہارت اور باعزت روزگار کے ذریعے بااختیار بنانا ہے۔ فنی تربیت کو ذمہ دار کاروباری اصولوں سے جوڑ کر ہم جنوبی پنجاب کی صنعتوں کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں، ساتھ ہی نوجوان کارکنوں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔اس موقع پر سدرا بختاور شیخ نمائندہ، ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا ہے کہ ملتان میں چائلڈ رائٹس ایکشن ہب کا قیام بروقت اور ضروری قدم ہے۔ یہ کاروباروں کے لیے ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ ذمہ دارانہ شمولیت کے ذریعے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں اور اپنے شعبوں میں تعمیل کے معیارات کو بہتر بنا سکیں۔ ملتان چیمبر اس اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اسپارک اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر بچوں کے حقوق اور باعزت روزگار کے فروغ کے لیے تیار ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئےعلی عمر ٹیپو ڈپٹی ڈائریکٹر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے کہا ہے کہGPS+ کے تحت ہماری صنعتوں کے لیے یورپی معیارات کے مطابق رہنا نہایت اہم ہے۔ چلڈ رائٹس ایکشن ہب جنوبی پنجاب کے لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹرز میں تعمیل کو مضبوط بنانے اور ذمہ دار کاروباری رویوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا ۔سہیل محمود، سابق صدر، پاکستان جنرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ملتان طویل عرصے سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور جننگ صنعت کا مرکز رہا ہے، مگر پائیدار اور جامع ترقی کے لیے نئے چیلنجز درپیش ہیں۔ چائلڈ رائٹس ایکشن ہب جیسے اقدامات اس خطے کی صنعتی قوت کو دوبارہ فعال بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ کاروباری ترقی انسانی حقوق اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔پرجیکٹ منیجر سپارک میآں اویس احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ
پاکستان کی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعتیں جو صنعتی افرادی قوت کے 40 فیصد سے زائد کو روزگار فراہم کرتی ہیں — غیر رسمی اور نچلے سطح کے پیداواری شعبوں میں انسانی حقوق کے خطرات سے دوچار ہیں۔ نگرانی کے کمزور نظام اور کمپلائنس کی کمی سے ان کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔









































Visit Today : 245
Visit Yesterday : 608
This Month : 9668
This Year : 57504
Total Visit : 162492
Hits Today : 9925
Total Hits : 783081
Who's Online : 4






















