بھارت کے جنگی عزائم ,,, امن کے چہرے پر بارود کی پرچھائیں
بھارت کے جنگی عزائم – امن کے چہرے پر بارود کی پرچھائیں
کالم: کلب عابد خان
رابطہ: 03009635323
جنوبی ایشیا، جو کبھی تہذیبوں، ثقافتوں اور محبتوں کا گہوارہ تھا، آج ایٹمی بارود کے انبار پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کی دو ایٹمی طاقتیں، پاکستان اور بھارت، ایک دوسرے کے مقابل ایسے صف آرا ہیں جیسے امن ان کے درمیان کوئی مانوس لفظ ہی نہ ہو۔ بھارت کی حالیہ دفاعی پالیسیوں، عسکری بجٹ کے بے تحاشا اضافے اور سرحدوں پر جارحانہ سرگرمیوں نے یہ تاثر مزید گہرا کر دیا ہے کہ دہلی کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ کر اپنی بالادستی قائم کرنا ہے۔
بھارت کے جنگی عزائم کوئی نئی بات نہیں۔ تقسیمِ ہند کے فوراً بعد سے وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے زیادہ محاذ آرائی کی پالیسی پر گامزن رہا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کو لے لیجیے—یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ بھارت کی توسیع پسند سوچ کا آئینہ دار ہے۔ 1948، 1965، 1971 اور کارگل 1999 کی جنگیں اسی ذہنیت کا تسلسل ہیں جس میں بھارت نے ہر بار “دفاع” کے نام پر جارحیت کو جواز دینے کی کوشش کی۔
گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے اپنے عسکری بجٹ میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ صرف 2024 میں بھارت کا دفاعی بجٹ 86 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا—جو دنیا کے بڑے دفاعی اخراجات میں شامل ہے۔ اتنا بڑا سرمایہ کسی دفاعی ضرورت سے زیادہ، ایک مخصوص حکمتِ عملی کا پتہ دیتا ہے۔ دہلی کی پالیسی یہ ہے کہ دفاعی انحصار کم کر کے ہتھیاروں کی مقامی پیداوار میں خودکفالت حاصل کی جائے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی جنگی مہم جوئی میں بیرونی دباؤ یا پابندیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
“اتھمن نربھر بھارت” یعنی خودکفیل بھارت کا نعرہ دراصل عسکری خود مختاری کی طرف ایک قدم ہے۔ بھارتی قیادت اپنی دفاعی صنعت کو اس نہج پر لے جانا چاہتی ہے جہاں نہ صرف اندرونی ضروریات پوری ہوں بلکہ ہتھیار برآمد کر کے عالمی مارکیٹ میں قدم جمائے جا سکیں۔ یہ خواب بظاہر ترقی کا عندیہ دیتا ہے، مگر اس کے اندر چھپا ہوا مقصد خطے میں عسکری برتری حاصل کرنا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت کی یہ تیاری محض دفاع تک محدود نہیں۔ بھارت نے اپنی فوجی ساخت میں ایک خطرناک تبدیلی کی ہے—اب اس کے فوجی آپریشنز “تھیٹر کمانڈز” کے تحت مربوط انداز میں انجام دیے جاتے ہیں۔ اس تبدیلی کا مطلب ہے کہ زمین، فضا اور سمندر کی تمام افواج ایک ہی حکم کے تابع ہو کر ایک ہدف پر مرکوز ہو سکیں۔ یہی وہ ماڈل ہے جو جدید جنگوں میں تیز، محدود مگر تباہ کن کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
بھارت کی “پروایکٹو” یعنی پیشگی جنگی حکمتِ عملی، پاکستان کے لیے ایک براہِ راست چیلنج ہے۔ یہ حکمتِ عملی دراصل 2001 کے بعد سامنے آئی جب بھارت نے فیصلہ کیا کہ اگر مستقبل میں کوئی دہشت گرد حملہ یا سرحدی جھڑپ ہو تو وہ “انتظار” نہیں کرے گا بلکہ فوری اور محدود کارروائی کرے گا۔ اس کے تحت بھارتی فوج چھوٹے مگر تیز حملے کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گی—ایسے حملے جن سے مکمل جنگ شروع نہ ہو لیکن پاکستان پر دباؤ بڑھے۔
مئی 2025 میں “آپریشن سندور” کے نام سے بھارت کی ایک عسکری کارروائی اسی پالیسی کا عملی مظہر تھی۔ بھارت نے اسے دہشت گردی کے خلاف “جوابی حملہ” قرار دیا جبکہ پاکستان نے اسے براہِ راست جارحیت اور جنگی اقدام کہا۔ یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنی پالیسی میں “اسٹریٹجک ری اسٹرینٹ” یعنی تحمل کو ترک کر چکا ہے۔
پاکستان کے لیے خطرہ یہ ہے کہ بھارت اب اپنی کارروائیاں اس سطح پر رکھنا چاہتا ہے جو نیوکلیئر دہلیز سے نیچے ہو—یعنی وہ اتنی بڑی جنگ نہ کرے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت پڑے، مگر اتنی کارروائیاں ضرور کرے کہ پاکستان پر سیاسی اور عسکری دباؤ قائم رہے۔ اس طرزِ عمل سے خطے میں ایک خطرناک عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے، کیونکہ جب دو ایٹمی طاقتیں بار بار “محدود” جنگوں کا کھیل کھیلیں گی تو کسی بھی غلط فہمی سے صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔
بھارت کا جھکاؤ مغرب، خصوصاً امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی طرف بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ QUAD اتحاد میں اس کی موجودگی اور بحرِ ہند میں سرگرم کردار، دراصل چین کے ساتھ مقابلے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی دباؤ کا ذریعہ ہیں۔ نئی دہلی سمجھتا ہے کہ چین اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی قربت اس کے لیے دو محاذی خطرہ ہے—اسی لیے وہ اپنی عسکری تیاری کو دوہری سمت میں بڑھا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس نئے عسکری منظرنامے کو محض دشمنی نہیں بلکہ حقیقت کے طور پر سمجھے۔ روایتی دفاع کے ساتھ ساتھ اب معلوماتی جنگ، سائبر سکیورٹی، اور فضائی دفاع کے شعبے میں بھی تیزی سے پیش رفت کرنی ہوگی۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل پروگرام کا مؤثر جواب صرف عسکری نہیں، بلکہ سائنسی اور تکنیکی سطح پر دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سلامتی صرف بندوق یا ٹینک سے محفوظ نہیں ہو سکتی۔ ایک مضبوط معیشت، متفقہ سیاسی نظام، اور مستحکم خارجہ پالیسی ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی دشمن کے عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ بھارت کی جارحانہ پالیسی کے جواب میں پاکستان کو صرف ردعمل پر نہیں بلکہ پیشگی سفارتی حکمتِ عملی پر زور دینا ہوگا—عالمی سطح پر بھارت کے جنگی رجحانات کو اجاگر کرنا اور امن کی بات کو دلیل کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔
جنوبی ایشیا کے عوام امن چاہتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے کروڑوں عوام غربت، بے روزگاری، اور بنیادی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر وسائل کو جنگی تیاریوں پر ضائع کیا جائے تو نقصان صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پورے خطے کا ہے۔ بھارت کے جنگی عزائم نہ صرف پاکستان بلکہ خود بھارت کے اندرونی استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہیں، کیونکہ عسکریت پسندی کا جن جب ایک بار آزاد ہو جائے تو وہ اپنی ہی سرزمین کو بھی نہیں بخشتا۔
آخر میں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر بھارت اپنی عسکری طاقت کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے، سرحدوں کے بجائے عوام کی فلاح پر سرمایہ لگائے، تو یہ خطہ دنیا کا پرامن ترین خطہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر جنگی جنون غالب رہا، تو ایٹمی اسلحے کے سائے میں بس ایک چنگاری ہی کافی ہوگی کہ سب کچھ راکھ میں بدل دے۔









































Visit Today : 245
Visit Yesterday : 608
This Month : 9668
This Year : 57504
Total Visit : 162492
Hits Today : 9870
Total Hits : 783026
Who's Online : 7






















