ملتان: پنجاب حکومت کی طرف سے صوبہ پنجاب میں آئمہ مساجد کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ اسی طرح کا فیصلہ ہے جو خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئ کی گزشتہ حکومت نے خیبرپختونخوا کے آئمہ مساجد کے لیےکیا تھا جے یو آئ نے اس فیصلے کو مسترد کیا تھا ان خیالات کا اظہار مرکزی رہنماء جمعیت علماء اسلام مولانا حافظ حمد اللہ نےرکن مجلس عمومی جمعیتہ علماء اسلام پنجاب زاہد مقصوداحمد قریشی سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی خدمت دین کی خواہشمند ہے تو دینی مدارس کے مسائل حل کرے ۔حکومت کا یہ اقدام دین میں مداخلت اور مذہبی طبقات کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔آئمہ کرام کا وقار چند ہزار روپے سے خریدا نہیں جاسکتا دین کے خادموں کو وظیفے کے نام پر حکومتی اثر میں لانے کی سازش ہر گز قبول نہیں جمعیت علماء اسلام آئمہ مساجد کے بارے میں وظیفہ سازش کو مسترد کرتی ہے آئمہ مساجد دین کے خادم ہیں حکومت کے ترجمان نہیں۔جمعیت علماء اسلام آئمہ کرام کے وقار خود مختاری اور دینی غیرت کے تحفظ کے لیے میدان میں رہے گی۔انکا کہنا تھا یہ ملک اسلام کے نام پر وجود میں آیاہم اسکے اسلامی تشخص اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے بھر پور جدوجہد کرتے رہیں گے