روشن معیشت بجلی پیکج صنعتوں کے مسائل کا حل نہیں، حکومت بجلی نرخ 26 روپے فی یونٹ تک کم کرے: صدر ایوانِ صنعت و تجارت ملتان
ملتان : ایوان تجارت و صنعت ملتان کے صدر میاں بختاور تنویر شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ روشن معیشت بجلی پیکج صنعتوں کے اصل مسائل کا حل فراہم نہیں کرتا، کیونکہ اس میں موجودہ یا چلتی ہوئی صنعتوں کے لیے کوئی حقیقی ریلیف شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیکج اگرچہ اچھے ارادوں کے ساتھ متعارف کرایا گیا ہے، مگر بجلی کے بلند نرخوں کا بنیادی مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔میاں بختاور تنویر شیخ کے مطابق صنعتی صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف پہلے تقریباً 30 روپے فی کلو واٹ تک نیچے آیا تھا، جو اب 34 روپے فی کلو واٹ تک پہنچ چکا ہے، جبکہ نومبر اور دسمبر میں مزید 2 روپے فی کلو واٹ اضافہ متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں صنعتوں پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا اور متعدد کارخانے بند ہونے پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پچھلے پیکجز کی طرح یہ نیا اقدام بھی ایک وقتی اعلانات پر مبنی ناکام کوشش ثابت ہوگا، کیونکہ اس میں بنیادی ٹیرف میں کمی کے بجائے محض اضافی یونٹس پر رعایت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق صنعتوں کو تب تک حقیقی ریلیف نہیں مل سکتا جب تک بجلی کی فی یونٹ قیمت 26 روپے کے قریب نہیں لائی جاتی۔میاں بختاور تنویر شیخ نے کہا کہ موجودہ بنیادی ٹیرف تقریباً 34 روپے فی یونٹ ہے، جس میں ٹیکس اور فیول ایڈجسٹمنٹ شامل نہیں، اس لیے 22.98 روپے فی یونٹ کا اعلان کردہ ریٹ صرف ایک ظاہری رعایت ہے جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلند نرخ معیشت کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن چکے ہیں، جس کے باعث پیداوار، روزگار اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت کو وقتی اعلانات نہیں بلکہ طویل المدتی اصلاحات، سستی توانائی اور مستحکم پالیسیوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کی صنعتیں کس طرح مسابقت برقرار رکھ سکتی ہیں جب وہ 12 سینٹس فی یونٹ سے زائد بجلی ادا کر رہی ہیں جبکہ خطے کے دیگر ممالک آدھی قیمت پر توانائی حاصل کر رہے ہیں؟
میاں بختاور تنویر شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ 9 سینٹس فی یونٹ کے وعدے پر فوری عمل درآمد کرے اور بجلی کے نرخوں میں نمایاں و مستقل کمی کے لیے واضح روڈ میپ سامنے لائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے بجلی کے نرخوں میں پائیدار کمی اور بنیادی اصلاحات نہ کیں تو پاکستان کے صنعتی و زرعی شعبے خطے کے ممالک کے مقابلے میں مزید غیر مسابقتی ہوتے جائیں گے، جس کے نتیجے میں معاشی بحران اور بے روزگاری میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔








































Visit Today : 279
Visit Yesterday : 608
This Month : 9702
This Year : 57538
Total Visit : 162526
Hits Today : 11388
Total Hits : 784544
Who's Online : 5






















