سینئر صحافی وسیم اصغر راؤ کی رحلت،،، بااصول، بااخلاق اور سچا انسان
سینئر صحافی وسیم اصغر راؤ کی رحلت،،، بااصول، بااخلاق اور سچا انسان
تحریر:اظہارعباسی
اتوار26 اکتوبر کو علی الصبح شہر سے باہر تقریب میں جانا تھا نیٹ بند رکھا شام کو سات بجے ملتان
واپسی پر نیٹ آن کیا تو سینئر صحافی ندیم شاہین صاحب کا میسج واٹس اپ پر آیا ہوا تھاکہ وسیم اصغر راؤ صاحب ہم سے جدا ہو گئے دماغ سن ہو گیا دو عشرے سے زائد راؤ صاحب سے تعلق رہا دی پریس گروپ میں راؤ صاحب لائے اور آخری دم تک ساتھ رہا بہت سے لوگ سیاسی طور پر ساتھ چھوڑ گئے لیکن میں چند لوگوں کی طرح ثابت قدم رہا چند روز قبل ان کے بچوں سے بات ہوئی تھی دعا کا کیا تھا لیکن آج سے ہم ان کے لیے دعائے مغفرت کریں گے
سینئر صحافی وسیم اصغر راؤ مرحوم کی صحافتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ ایک بااصول، بااخلاق، اور کھرے انسان تھے جنہوں نے اپنی زندگی صحافت کی حرمت، سچائی کے فروغ، اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کر دی۔ ان کا شمار اُن صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے نہ صرف قلم کے ذریعے معاشرتی انصاف کے لیے آواز بلند کی بلکہ عملی میدان میں بھی ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا۔
وسیم اصغر راؤ مرحوم کا کیریئر کئی دہائیوں پر محیط رہا۔ انہوں نے نوائے وقت ملتان. روزنامہ ایکسپریس میں ذمہ دارانہ خدمات انجام دیں۔ وہ خبر کی صداقت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ تحقیق و تصدیق ان کی صحافت کی بنیاد تھی۔ ان کے قلم میں دردِ دل، قوم سے محبت، اور مظلوم طبقوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ نمایاں طور پر جھلکتا تھا۔
مرحوم نے اپنے کیریئر کے دوران بے شمار نوآموز صحافیوں کی رہنمائی کی اور انہیں پیشہ ورانہ اصولوں سے روشناس کرایا۔ ان کے زیرِ تربیت کئی نوجوان آج صحافت کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں شفقت، سادگی اور دیانت کا امتزاج تھا۔ وہ ہمیشہ ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہتے۔
وسیم اصغر راؤ مرحوم نے نہ صرف خبروں کی دنیا میں اپنی پہچان بنائی بلکہ پریس کلب ملتان کی ترقی کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ نیوز روم سے وابستہ رہے اور نیوز روم کو طاقتور بنایا سب ایڈیٹرز کی آواز بنے اور انہیں پریس کلب کی سیاست میں لائے نوجوان صحافی میں مقبول تھے دی پریس گروپ کی بنیاد رکھی اور نوجوان سب ایڈیٹرز کو پریس کلب کی سیاست میں باوقار مقام دلایا
وسیم اصغر راؤ کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔ وہ ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک قلم کے ذریعے حق کا ساتھ دیا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں بلند مقام عطا فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔








































Visit Today : 279
Visit Yesterday : 608
This Month : 9702
This Year : 57538
Total Visit : 162526
Hits Today : 11385
Total Hits : 784541
Who's Online : 5






















