ملتان:  شیعہ علماء کونسل کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ ڈاکٹر شبیر حسین میثمی نے کہا ہے کہ سازشی عناصر قیام امن اور ملکی ترقی و خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ علماء کرام،ذاکرین عظام،مشائخ محراب و منبر سے تمام مکاتب فکر ملک و قوم کی سلامتی،ترقی اور خوشحالی،قیام امن اور اتحاد اخوت امن اور بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھنے کے حوالے سے سنجیدگی سے کردار ادا کریں تاکہ اسلام و پاکستان دشمن عناصر کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں دینی مدارس اسلام کا قلعہ ہیں اور عزاداری امام حسین ہمیں شہہ رگہ سے بھی زیادہ عزیز ہے عزاداری کے خلاف ہونے والی کسی بھی سازش کو پنپنے نہیں دیں گے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان کے قیام کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے سنجیدگی سے ذمہ داری کا کردار ادا کریں تاکہ عام غریب شہری خوشحال ہوں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کو خوراک، ادویات سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری ذمہ داری کا مظاہرہ کرے علماء، مدارس اور نوجوان نسل اگر دینی بصیرت، صبر، اخلاصاور اجتماعی شعور کے ساتھ کام کریں تو پاکستان کو ترقی اور امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ مخزنِ علوم الجعفریہ شعیہ میانی میں دو روزہ سالانہ جلسہ و برسی بانی ادارہ علامہ سید گلاب علی شاہ نقویؒ اور مفسرِ قرآن علامہ سید علی رضا نقویؒ کی یاد میں منعقدہ بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔جلسہ کی صدارت مدرسہ ھذا کے پرنسپل علامہ سید محمد تقی نقوی نے کی۔ روحانی و علمی اجتماع سے مولانا اقبال حسین خان، مولانا ارشاد حسین نقوی، مولانا مؤمن حسین قمی،مولانا محمد حسن خان، علامہ سید تنویر الکاظم نقوی، صوبائی سینیئر نائب صدر مبشر حسن بھٹہ،مولانا سید عاشق حسین، مولانا نجم الحسنین خان، مولانا محمد ثقلین خان، مولانا منور حسین نقوی مولانا ضمیر حسین بخاری ، مولانا علی سجاد نقوی،سید تنویر گیلانی، علامہ غلام شبیر حیدری، علامہ شاہد نذیر، محمد رضا جعفری،سید انیس حیدر نقوی،علامہ غضنفر علی حیدری،بشارت عباس قریشی،صابر خان بلوچ سمیت جید علمائے کرام، ذاکرین، طلباء اور مومنین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر علمائے کرام نے مرحومین کی دینی و علمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سید گلاب علی شاہ نقویؒ اور علامہ سید علی رضا نقویؒ نے ملتِ جعفریہ کی فکری و روحانی تربیت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے علم، کردار اور قربانیوں سے دینِ محمدی ﷺ اور پیغامِ اہلِ بیتؑ کی ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا مقررین نے اپنے خطابات میں موجودہ ملکی و عالمی حالات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فلسطین میں جاری مظالم کی مذمت کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ امتِ مسلمہ کو متحد ہو کر مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔علمائے کرام نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت اور عوام دونوں کو باہمی اتحاد، عدل و انصاف کے قیام اور تعلیم کے فروغ پر توجہ دینی ہوگی تاکہ ملک کو حقیقی استحکام حاصل ہو مقررین نے مزید کہا کہ عوامی نمائندوں کو چاہئیے کہ وہ آپس میں دست و گریباں ہونے کے بجائے اتحاد و اخوت کا مظاہرہ کریں اور آپس میں نفرتوں کو ختم کریں اس موقع پر مرحومین علماء کے درجات کی بلندی اور ملک و قوم کی سلامتی امن و امان کے قیام ترقی و خوشحالی کے لیے دعا کی گئی۔