ملتان : سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میاں راشد اقبال نے صنعتی و زرعی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کے حکومتی فیصلے کو ملکی معیشت کی بحالی اور پائیدار ترقی کی سمت ایک دور رس اقدام قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر توانائی کی جانب سے بجلی کے نرخ 38 روپے سے کم کر کے 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ مقرر کیے جانے کا فیصلہ صنعتی و زرعی پیداوار میں نمایاں اضافے، روزگار کے نئے مواقع اور سرمایہ کاری کے فروغ کا باعث بنے گا۔بجلی کے نرخوں میں اس تاریخی کمی سے کاروبار کرنے کی لاگت میں خاطر خواہ کمی آئے گی جس سے صنعتی و زرعی دونوں شعبے اپنی مسابقت، پیداوار اور برآمدی استعداد کو بہتر بنانے کے قابل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ زراعت اور صنعت ملکی معیشت کے جڑواں ستون ہیں جو روزگار کی فراہمی، غذائی تحفظ اور برآمدات میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ توانائی کی لاگت میں کمی نہ صرف ان شعبوں پر مالی دباؤ کم کرے گی بلکہ نئی سرمایہ کاری کو راغب کر کے صنعتی توسیع کی راہیں بھی ہموار کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں خطے کا سب سے زیادہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریٹ ہے، لہٰذا حکومت سے اپیل کی جاتی ہے کہ ٹیکس ریٹ میں بھی مناسب کمی کی جائے تاکہ کاروباری لاگت مزید کم ہو اور معیشت کو حقیقی معنوں میں استحکام مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام صنعتی ترقی کو تیز کرنے، نئی ملازمتیں پیدا کرنے اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ میاں راشد اقبال نے حکومت کے اس فیصلے کو اقتصادی بحالی کے لیے عملی پیشرفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ توانائی اور ٹیکس کے شعبوں میں مزید اصلاحات سے پائیدار معاشی ترقی کو دوام ملے گا۔