ملتان :  کراچی میں پولیس تشدد سے چودہ سالہ سرائیکی عرفان کے قتل کے خلاف سرائیکستان نوجوان تحریک کا احتجاجی مظاہرہ،سندھ پولیس مردہ باد ،سندھ حکومت مردہ باد کی پرجوش نعرے بازی ۔ معصوم شاہ روڑ پر سرائیکی نوجوان کے قتل کے خلاف سرائیکستان نوجوان تحریک کے کارکنوں نے چیئرمین مہر مظہر کات کی قیادت میں شدید احتجاج کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی سےفوری پیپلز پارٹی چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ۔مظاہرین نے معصوم عرفان کو انصاف دو ،قاتلوں کو پھانسی دو کی فلک شگاف نعرے بازی کی ۔مظاہرین نے پینا فلیکس اٹھا رکھے تھے جن پر پولیس اور سندھ حکومت کے خلاف اور سندھ حکومت کی سرائیکیوں کے ساتھ زیادتی پر یوسف رضا گیلانی سے فوری پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہونے کے مطالبات درج تھے۔اس موقع پر چیئرمین مہر مظہر عباس کات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوچ شریف بیٹ کے سیلاب زدہ علاقے کا چودہ سالہ سرائیکی عرفان خان کو کراچی پولیس نے پکڑ کر اتنا تشدد کیا کہ وہ وفات پا گیا جس سے ساری سرائیکی قوم کا دل چھلنی اور شدید غم و غصہ ہے۔سرائیکی راہنما نے کہا کہ ہمارےمعصوم نوجوان کو مارا بھی پولیس نے اور ایف آئی آر بھی پولیس کی مدعیت میں درج کی گی جو آٹھ کروڑ سرائیکی عوام کے ساتھ سندھ حکومت کی بدمعاشی ہے۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین پر سندھ پولیس کا لاٹھی چارج اس بدمعاشی میں وزیر اعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو سب شامل ہیں ۔مہر مظہر کات نے سندھ حکومت کی سرائیکیوں کے ساتھ اس بدمعاشی پر وسیب کے پی پی نمائندے خاص کر یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آٹھ کروڑ سرائیکی عوام کا ساتھ دیتے ہوئے پیپلز پارٹی سے فوری علیحدگی کا اعلان کریں ۔مہر مظہر کات نے کہا کہ گیلانی سمیت دیگر پی پی نمائندوں نے اگر سرائیکی وسیب میں سیاست کرنی ہے اور ووٹ یہاں سےلینے ہیں تو کھڑا بھی یہی کے مظلوم لوگوں کے ساتھ ہونا ہوگا ورنہ سندھ جا کر تخت لاڑکانہ کی سیاست کریں ۔مہر مظہر کات نے کہا کہ جب تک عرفان شہید کے قاتلوں کے خلاف ورثاء کی مدعیت میں مقدمہ درج نہیں ہوتا اور عبرتناک سزا نہیں ملتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا ۔مظاہرے میں کثیر تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی