ملتان: آلٹرنیٹو ریسرچ انیشیٹو اور SUN کنسلٹنٹ کے زیرِ اہتمام کمیونٹی کے ساتھ آ گاہی میٹنگ با عنوان سگریٹ نوشی کے اثرات اور تدارک کی حکمت عملیاں کا انعقاد زبیدہ آپا ٹرسٹ ہال ضلع ملتان میں کیا گیا ۔میٹنگ کا آ غا ز کرتے ہوئے سلطان محمود نے بتایا کہ ARIاورSUN مل کر ضلع ملتان میں سگریٹ نوشی کے خلاف آ گاہی مہم چلا رہے ہیں جس کے تحت 9 آ گاہی سیشن تعلیمی اداروں میں ،مختلف کمیونیٹیز کے منعقد کیے جا چکے ہیں ۔جس میں550 سے زیادہ افراد نے شرکت کی اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس کو استعمال نہ کرنے کا تہیہ بھی کیا۔اس کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی ایک بھرپور مہم بذریعہ آرٹیکل چلایی جا رہی ہے ۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےاسیسٹینٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئرمحمد مزمل نے بتایا کہ پاکستان میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجوہات میں قوانین میں عملدرآمد نہ ہونا شامل ہے ۔قانون تو موجود ہے کہ پبلک مقامات پر سگریٹ نہیں پیا جا سکتا مگر ہر طرف کھلے تمام لوگ بس سٹاپ پر دفاتر میں سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں ۔اس سے نہ صرف وہ خود سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے افراد بھی سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کے سبب بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس کے علاؤہ سگریٹ پینے کے بعد وہ جگہ بھی متاثرہ جگہ ہوتی ہے اور وہ جراسیم اس جگہ پر آ نے والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئےڈاکٹر فاروق احمد لنگاہ نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ ان کی طبیعت میں بے زاری اور چڑچڑاپن تو پیدا نہیں ہو رہا اور وہ نیند کی کمی کا شکار تو نہیں کیوں کہ یہ علامات سگریٹ نوشی کو ظاہر کرتی ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ حکومتی سطح پر سگریٹ نوشی سے چھٹکارا پانے کے لیے کونسلینگ اور علاج کے لیے کلینکس کا قیام ضروری ہے اس موقع پر میڈم زبیدہ آپا اور ٹیچر سونیا اقبال اور ٹیچر خدیجہ نے بھی خطاب کیا ۔