سردار فاروق احمد خان لغاری
سردار فاروق احمد خان لغاری
تحریر ۔۔۔ مسیح اللہ جام پوری ملتان
سردار فاروق احمد خان لغاری محض پاکستان و برصغیر کے نہیں عالم اسلام کے جید اور
مہربان سیاستدان اور رہنما تھے اسی مہینے پندرہ سال قبل 20تاریخ کو تہجد کے وقت پاکستان کیا عالم اسلام کو تنہا چھوڑ کر اللہ پاک کے حضور پیش ہوگئے نہ صرف وطن عزیز کیلئے بلکہ عالم اسلام کیلئےان کی خدمات اور اصول پسندی رہنما اصول رہے گی سردار اویس خان لغاری اور ان کے فرزند اول سردار جمال خان لغاری ان کے مشن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں 1940کو انہوں نے دنیا میں آنکھ کھولی ان کے والد گرامی اور ان کے خاندان کے سربراہ سردار جمال خان لغاری بھی ایسے ہی اعلی اصولوں کے علمبردار رہے سردار فاروق احمدخان لغاری زندگی کے تمام شعبوں میں سچائی دیانتداری وطن دوستی اور اصول پسندی کے علمبردار رہے انہوں نے برصغیر پاک و ہند کے اعلی تعلیمی ادارے ایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اپنی شاندار کارکردگی پر گولڈ میڈل حاصل کیا اور مزید اعلی تعلیم کیلئے ایکسپورٹ یونیورسٹی چلے گئے سردار فاروق احمد خان لغاری صرف تعلیمی میدان میں نہیں سپورٹس میں بھی ملک و قوم کا نام روشن کیا انہیں وطن کی محبت واپس لے آئی اور سی ایس ایس کے میدان میں اپنا نام روشن کیا پاکستان کے دونوں حصوں میں تیسری پوزیشن حاصل کی سردار فاروق احمد خان لغاری اپنے والد کی رحلت کے بعد اپنے آبائی ضلع ڈیرہ غازیخان چلے گئے جو اس وقت پاکستان میں کم و بیش رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع تھا جو ایک طرف سندھ کو اور دوسری طرف بلوچستان کو تیسری طرف جو اس وقت صوبہ سرحد کہلاتا تھا اب کے پی کے سے ملتان ہے اور یہ پاکستان کا قلبی حصہ کہلانے کا مستحق ہیں انہوں نے جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اپنی خدمات مشرقی پاکستان میں بھی سر انجام دی مجھے یاد پڑتا ہے کہ ضلع چٹا گام میں ڈپٹی کمشنر کے منصب پر فائز رہے پھر ان کے تبادلے ہوئے تو وفاقی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بن گئے پاکستان پیپلز پارٹی کے 1968کو قیام کے بعد ڈاکٹر مبشر حسن کی کوٹھی عوام کیلئے مرکز تجلیات بن گئی اور پارٹی نے قبولیت کی سند حاصل کرلی سردار فاروق احمد خان لغاری سرکاری ملازمت میں رہے اور عوام کے حقوق کیلئے اور سہولتیں فراہم کرنے کیلئے اپنی بھر پور جدوجہد کرتے رہے کیونکہ ان کے خاندان کا مزاج عوام دوست رہا اور یہی عوام دوستی انہیں وراثت میں ملی بلا آخر 1973میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں خوش آمدید کہا کیونکہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی تحریک پر پارٹی میں شامل ہوئے تھے 1977کو سردار فاروق احمد خان لغاری کو نجکاری کا وزیر بنادیا گیا بھٹو دور میں نجکاری انتہائی حکومتی ریاستی پالیسی کا اہم رہنما اصول تھی کیونکہ قائد عوام بھٹو کے دور میں ہی نجکاری کا عمل شروع ہوا تھااور اہم ملکی صنعتی و تعلیمی ادارے قومیائے گئے یہاں سے بھٹو کی مخالفت کا آغاز ہوا لیکن فاروق احمد خان لغاری قائد عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے جنرل ضیا الحق نے عوامی حکومت کا تختہ الٹ دیا منتخب وزیر اعظم کو گرفتار کرلیا گیا ضیا الحق کے بھٹو مخالف پالیسی کے نتیجے میں سردار فاروق احمد خان لغاری کو پابند سلاسل کیا گیا لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے اپنی شاہانہ زندگی کو اپنے اصولوں پر قربان کردیا اور جیل میں مشکلات کا شکار رہے لیکن اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کی سردار فاروق احمد خان لغاری نے جیل سے رہائی کے بعد خاموشی اختیار نہیں کی ضیاالحق کیخلاف احتجاج کیا اور احتجاجی تحریکوں میں شامل رہے اور رہنمائی کرتے رہے سردار فاروق احمد خان لغاری صرف وزیر نجکاری نہیں رہے وزیر خزانہ رہے وزیر خارجہ رہے اور کئی وزراتوں کے قلمبدان انہوں نے سنبھالے رکھے اور ان کی صحیح سمت بھی مطین کی ان وزارتوں کے اعلی آفیسر سردار فاروق احمد خان لغاری کی دیانتداری اصول پسندی اور وطن دوستی کے معترف رہے تہجد گزار تو تھے ہی لیکن پانچ وقت کی نماز کبھی قذا نہیں کی ان کی یہی اصول پسندی نیک نیتی اخلاق دیانتداری اور وطن دوستی ان کی منزلیں آسان کرتی گئی سردار فاروق احمد خان لغاری جب تک حیات رہے اپنے علاقے کو نظر انداز نہیں کیا اجتماعی اور انفرادی معاملات میرٹ پر خلوص کے ساتھ نمٹاتے رہے یہی وجہ ہے کہ ڈیرہ غازیخان کی عوام وہ وہوا سے لیکر روجھان تک ان کی شرافت ایمانداری کے غن گاتی ہیں یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی نے انہیں صدارت کے منصب پر فائز کیا کیونکہ وہ سودے بازی کے کبھی قائل نہیں رہے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو وطن کی محبت میں برطرف کرنے پر مجبور ہوئے یہ ایک طویل داستان ہے اس میں بہت سارے کرداروں کا نام آسکتا ہے انہوں نے قومی مسائل پر کبھی سیاست نہیں کی پوری زندگی ان پر کہی سے کرپشن کا الزام سامنے نہیں آیا ڈیرہ غازیخان میں انہوں نے ترقیاتی منصوبے دیئے یہ نہیں کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کو نظر اندازکیا ہو









































Visit Today : 311
Visit Yesterday : 608
This Month : 9734
This Year : 57570
Total Visit : 162558
Hits Today : 13216
Total Hits : 786372
Who's Online : 8






















