مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی چودھویں برسی پر ضلع کچہری ملتان میں دعائیہ تقریب اور شمعیں روشن
ملتان: مادر جمہوریت محترمہ بیگم نصرت بھٹو کو انکی چودھویں برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ضلع کچہری ملتان میں ڈسٹرکٹ کلرکس بار ایسوسی ایشن ملتان کے سابق صدر و ڈپٹی جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی ملتان شہر حاجی محمد امین ساجد کی جانب سے دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا اور انکی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں تقریب میں سابق چیئرمین پاکستان بار کونسل مرزا عزیز اکبر بیگ سلیم شہزاد نائب صدر پی پی پی ملتان ڈویژن سلیم راجہ سیکریٹری انفارمیشن پی پی پی ملتان ڈویژن ملک الطاف حسین مہوٹہ عمر حیات قریشی سید کاشف حسین شاہ دلشاد قریشی محمد صدیق محمد ریاض خضر موہانہ رانا اکرم اور دیگر ممبران نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امین ساجد نے کہا کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی شریک حیات اور انکی پھانسی کے بعد چار سال اور دس دن تک پاکستان پیپلز پارٹی کی دوسری سربراہ کی حیثیت سے محترمہ نصرت بھٹو نے آمریت کے خلاف دلیرانہ جدوجہد کی۔1977 میں بھٹو شہید کی گرفتاری کے بعد سے بیگم بھٹو نے آمریت کے خلاف جو عظیم جدوجہد کی وہ تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔اس دوران وہ تمام جلسوں،جلوسوں اور احتجاجی ریلیوں کی قیادت خود کرتیں اور جیالوں کو بھٹو شہید جیسا پیار دیتیں۔جب جنرل ضیاع نے عوامی احتجاج کی تمام راہیں مسدود کر دیں تو بیگم بھٹو 16 دسمبر 1977 کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ کے دوران اچانک بھٹو شہید کے جیالوں کے ہمراہ قذافی سٹیڈیم لاہور جا پہنچیں۔بیگم نصرت بھٹو کے وہاں پہنچتے ہی پورا سٹیڈیم جیوے جیوے بھٹو جیوے اور ضیا کتا ہائے ہائے کے نعروں سے گونج اٹھا۔پولیس نے اندھا دھند لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی لیکن عوام کا جوش وجذبہ ماند پڑنے کے بجائے بڑھتا گیا ایسے میں بیگم نصرت بھٹو کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک زوردار لاٹھی ان کے سر پر ماری گئی۔خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔انکا چہرہ اور کپڑے خون سے بھر گئے اور وہ اسی عالم سیدھی ایس ایم ایل اے لاہور کے دفتر میں جا پہنچیں اور اسے مخاطب کر کے گرجدار آواز میں بولیں آج 16 دسمبر ہے۔یاد کرو آج ہی کے دن 16 دسمبر 1971 کو تم لوگوں نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں بھارتی فوج کے سامنے سرنڈر کیا تھا اور پھر بھٹو تمہیں بھارت کی قید سے چھڑا کر لائے تھے اور آج ہی کے دن تم نے اسی عظیم بھٹو کی اہلیہ کا سر پھاڑ کر احسان فراموشی اور ظلم کی ایک سیاہ تاریخ لکھی ہے۔بیگم نصرت بھٹو کی یہ تصویر قذافی سٹیڈیم میں زخمی ہونے کے فورآ بعد کی ہے۔انہیں اس چوٹ کے بعد سر پر تیس ٹانکے لگے۔سر پر لگنے والی اسی چوٹ اور پے در پے صدموں کے باعث بالآخر وہ سکتے کی حالت میں چلی گئیں اور آج سے 14 سال قبل 23 اکتوبر 2011 کو اسی عالم میں دنیا سے رخصت ہو کر اپنے جیون ساتھی و رہنما بھٹو شہید،اپنے پیارے بیٹوں شاہنواز و مرتضی اور اپنی چہیتی بیٹی بینظیر کے پاس چلی گئیں۔۔آئیے مادر جمہوریت کی عظیم۔جدوجہد کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ عہد کریں کہ ارض پاکستان میں مکمل عوامی فتح و نصرت تک جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔









































Visit Today : 312
Visit Yesterday : 608
This Month : 9735
This Year : 57571
Total Visit : 162559
Hits Today : 13342
Total Hits : 786499
Who's Online : 4






















