ملتان:  ڈیرہ جات صوبہ محاذ کے سربراہ سردار شاہد کریم خان مزاری نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مقتدر حلقوں کی جانب سے دی جانے والی تجاویز اور ہونے والی بحث خوش آئند ہے پاکستان کو درپیش سیاسی، لسانی اور انتظامی مسائل کا مستقل حل صرف انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام میں پوشیدہ ہے اسی لیے انتظام بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام جلد از جلد عمل میں لایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دوران کیا سردار مزاری نے مزیدکہا کہ ہماری جماعت گزشتہ کئی دہائیوں سے اس مؤقف پر قائم ہے کہ ملک میں انتظامی اور جغرافیائی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبے تشکیل دیے جائیں ایران، افغانستان اور بھارت جیسے ہمسایہ ممالک میں 20 سے زائد صوبے موجود ہیں، جبکہ پاکستان میں اب تک یہ عمل تعطل کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو 18 انتظامی صوبوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ہر علاقے کو مساوی حقوق، خود اختیاری، اور ترقی کے مواقع میسر آئیں۔ اُن کے مطابق، اس تقسیم سے نہ صرف وفاقی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا بلکہ اختیارات کا ارتکاز بھی نچلی سطح تک منتقل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں ہزارہ کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ مالاکنڈ دیر سوات چترال اور کوہستان کے علاقوں پر مشتمل صوبہ کوہستان قائم کیا جائے۔ موجودہ خیبر پختونخوا کو برقرار رکھا جائے اسی طرح بلوچستان میں زیارت، پشین لورا لاٸی ہرناٸی ژوب قلعہ عبداللہ قلعہ سیف اللہ پر مشتمل صوبہ قاٸم کیا جاۓ بولان اور گردونواح کے علاقوں پر مشتمل صوبہ بولان جبکہ مکران کو الگ صوبہ بنایا جائے، جس کا دارالحکومت گوادر ہو۔ قلات اور آس پاس کے اضلاع پر مشتمل صوبہ قلات قاٸم کیا جاۓ جبکہ کراچی کو الگ صوبے کا درجہ دیا جائے۔ سکھر اور ملحقہ اضلاع پر مشتمل صوبہ مہران، جس کا دارالحکومت سکھر ہو۔ تھرپارکر، عمرکوٹ اور میرپور خاص پر مشتمل صوبہ تھر و پارکر بنایا جاۓ حیدرآباد اور گردونواح کے اضلاع پر مشتمل صوبہ سندھ جس کا دارالحکومت حیدرآباد ہو۔ ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ بگٹی، بارکھان، موسی خیل، راجن پور، کشمور، جیکب آباد، ڈیرہ اللہ یار، اور ڈیرہ مراد جمالی پر مشتمل صوبہ ڈیرہ جات قائم کیا جائے۔ بہاولپور کو بطور الگ صوبہ بحال کیا جائے۔ ملتان کو علیحدہ صوبے کا درجہ دیا جائے۔ لیہ، بھکر، جھنگ، خوشاب، میانوالی، اور سرگودھا پر مشتمل صوبہ تھل۔ پوٹھوہار کے اضلاع پر مشتمل صوبہ پوٹھوہار۔ گوجرانوالہ اور لاہور ڈویژن پر مشتمل پنجاب صوبے کو بحال رکھا جائے۔ فیصل آباد اور گردونواح پر مشتمل صوبہ ساندل بار قائم کیا جائے۔ سردار مزاری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت کی برسوں کی جدوجہد اب رنگ لا رہی ہے، اور آج ملک کے تمام دانشور، سول سوسائٹی اور مقتدر ادارے نئے صوبوں کے قیام کی بات کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ جلد ہی اس حوالے سے آئینی ترامیم کی جائیں گی اور نئے صوبوں کا قیام عملی شکل اختیار کرے گا۔