تعلق تو صرف اللہ اور انسان کا
تعلق تو صرف اللہ اور انسان کا
تحریر:ایس پیرزادہ
زندگی کے ہر رشتے اور محبت کو قریب سے دیکھ کر جب انسان ٹھہر جاتا ہے تو ایک سچی حقیقت سامنے آتی ہے اصل سکون اصل رشتہ صرف اللہ اور بندے کا ہوتا ہے دنیا کے رنگ لوگوں
کے چہرے رشتوں کے وعدے اور محبت کے اعتراف یہ سب اگر قریب سے غور و فکر کے ساتھ دیکھ لیے جائیں تو ایک تلخ مگر سچائی نما نتیجہ سامنے آتا ہے ہم بچپن سے لیکر عمر کے سنہری گھڑیوں تک دوسرے انسانوں سے محبت کرتے خدمت کرتے ان کی خوشی اور آسانی کی کوشش کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ ہو ہم اپنے رشتوں میں اپنا پورا دل لگاتے ہیں مگر اکثر یہی خلوص وقت کے ساتھ زخم بن جاتا ہے توقعیں خنجر کی طرح لوٹ کر آتی ہیں اور وہ لوگ جو کبھی اپنے لگتے تھے وہی خاموشی تنہائی یا الزام کا سبب بنتے ہیں
اس تجربے میں ایک باریک مگر باربار دہرائی جانے والی بات آشکار ہوتی ہے قربت کی شدت بڑھتی گئی خدمت کرنے کا تسلسل برقرار رہا لیکن بدلے میں وفا کرنیوالا کم ہی ملا ارد گرد کے لوگ سوشل حلقہ اور احباب جنہیں ہم نے اپنا سمجھا جن کے لئے ہم نے اپنے فکری و جذباتی دروازے کھول دیے کبھی کبھی ہمارے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں رشتہ دراصل اس قدر نازک ہے کہ ایک غلط فہمی ایک افواہ یا ایک خاموشی پوری سچائی کو مٹانے کے لئے کافی ہو جاتی ہے
انسان جب زندگی کے مختلف شعبوں گھر ہمسائیگی سماجی حلقے میں خلوص سے شامل ہوتا ہے تو وہ امید کرتا ہے کہ اس کی محبت کا بدلہ احترام اور قدر کی صورت میں ملے گا مگر زندگی کے حقائق اکثر اس کی توقعات کے خلاف چلتے ہیں وہی لوگ جو کبھی آپ کے ساتھ تھے کہیں راستے بدل لیتے ہیں دوست بدل جاتے ہیں رشتے اپنی جگہ بدل لیتے ہیں اور بعض اوقات وہ شریکِ حیات بھی فاصلے کی ریت میں کھو جاتا ہے جس کے ساتھ دل کی سانسیں بندھی محسوس ہوتی تھیں یہاں ایک اہم روحانی پہلو بھی واضح ہوتا ہے جب انسان نے ہر رشتہ ہر چہرہ اور ہر وعدہ قریب سے دیکھا اور آزمائشوں سے گزرا تو ایک داخلی تبدیلی آتی ہے بندہ اپنے دل کو پھر ایک بڑی حقیقت کی طرف موڑ دیتا ہے اپنے خالق کی طرف دنیاوی تعلقات کی عارضی فطرت کو جان کر آدمی احساس کرتا ہے کہ اصل تعلق وہ ہے جس میں کوئی عنوان درجہ یا فخر شامل نہیں ہوتا وہ رشتہ ہے جو خالص بے غرض اور ابدی ہےاللہ اور اس کا بندہ قرآنی نقطۂ نظر بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دنیا ایک فریب ہے ایک امتحان ہے جب روح زخمی ہو اور دل تھک جائے تو بندہ اسی ابدی منزل کی طرف متوجہ ہوتا ہے جہاں نہ دھوکہ ہے نہ فریب نہ بدلتے ہوئے رشتے صرف اللہ کے ساتھ ایک سچا تعلق وہ تعلق دل کو قرار دیتا ہے ضمیر کو تسکین دیتا ہے اور انسان کو تنہائی کے عالم میں بھی ایک وجودی ہمسفر عطا کرتا ہےیہ کہنا کسی قسم کی مایوسی یا دنیا سے بیزاری کا اظہار نہیں بلکہ ایک تجربۂ زندگی کا نتیجہ ہے اس نتیجے میں وہ قوت اور وقار پوشیدہ ہے جس سے انسان اپنے ذاتی وقار کو برقرار رکھتا ہے جو لوگوں نے محبت کا ناجائز فائدہ اٹھایا ان کے برتاؤ کو تاریخ کا محکوم سمجھ کر آگے بڑھ جانا بھی ایک حوصلہ ہے کیونکہ آخر میں اہم وہی ہے جو دل نے سیکھا کہ انسانیت کی اصل قدر اللہ کے ہاں ہے اور انسان کا حقیقی ٹھکانا اسی ربط میں ہےسماجی اور نفسیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت عورتوں کے تجربات میں بار بار نظر آتی ہے وہ بے پناہ محبت خدمت اور قربانی دیتی ہیں مگر معاشرتی ڈھانچے غلط فہمیاں یا خود غرضی انہیں تنہا کر دیتی ہیں ایسے میں ایمان خود شناسی اور اپنے اندرونی تحفظ کی تلاش ہی بہترین حکمت ہوتی ہے انسان جب یہ جان لیتا ہے کہ ہر رشتہ مستقل نہیں تب وہ اپنی توقعات کو نئے انداز سے منظم کر لیتا ہے اور زندگی کو روحانی بنیادوں پر استوار کرتا ہے
آخری کلام یہ ہے کہ رشتے چاہے کتنے ہی پیارے ہوں کتابِ زندگی کے مختصر اور قیمتی صفحات ہیں مگر اصل دیپ جو انسان کی رہنمائی کرتا ہے وہ اللہ کے ساتھ اُس بندے کا رشتہ ہے وہ رشتہ جو ہر آزمایش میں برقرار رہتا ہے جو انسان کو اکیلے پن میں قوت دیتا ہے اور جو دل کے اندر کی درد بھری خاموشی کو بھی امن میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے انسان جب یہ سچائی قبول کر لیتا ہے تو دنیا کی چمک دمکتی چیزوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اندرونی سکون اور روحانی آسائش تلاش کرتا ہے یہ مضمون کسی ذاتی کہانی کا انکشاف نہیں بلکہ ایک عام انسانی تجربے کا عکس ہے اس امید کے ساتھ کہ قاری اپنے اندر کے زخموں کو پہچانے اپنی توقعات کو درست جگہ دے اور زندگی کے سفر میں اپنا اصل سہارا تلاش کرے اللہ اور بندے کا صاف خالص اور بے نام رشتہ۔۔۔۔۔۔
انسان فریب دنیا میں الجھا رہا صدیوں
حقیقت تو فقط بندگی رب میں ہے









































Visit Today : 312
Visit Yesterday : 608
This Month : 9735
This Year : 57571
Total Visit : 162559
Hits Today : 13344
Total Hits : 786500
Who's Online : 4






















